ناآسودہ پاکستان اور عدلیہ کا کردار

  • سوموار 23 / ستمبر / 2013
  • 6398

ایک نا آسودہ پاکستان میں عدلیہ کا کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیئے تھا ؟ ۔

یہ ایک غیر معمولی موضوع ہے جو پاکستان کی بحران زدہ معیشت کو بحال کرنے اور ناساز اور بے سمت معاشرت کو انارکی آثار انتشار سے نکالنے اور عالمِ اسلام کی اس علیل مملکت کو ، جس کے ساتھ ہم خُداداد کا لاحقہ بھی لگاتے ہیں ، کرپشن اور دہشت گردی سے شفایاب کرانے اور اِسے راست سمت دکھانے پر محیط ہے۔
 
جب پاکستان کی بات ہوتی ہے تو میں مخمصے میں پڑ جاتا ہوں ۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ کون سا پاکستان؟ وہ پاکستان جو علامہ اقبال کے خوابوں اور قائد اعظم کے سیاسی فلسفے کے نقوش سے مرتب پاکستان ہے یا وہ پاکستان جو چودہ اگست اُنیس سو سنتالیس کو خون کا دریا عبور کر کے وجود میں آیا،۔ یا وہ پاکستان جو سترہ ستمبر انیس سو ستّر کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اپنی بقا کی جنگ ہار گیا تھا ۔
 
انیس سو ستر کے موسمِ بہار میں ، میں ڈھاکہ میں تھا۔ ایک پورا پاکستانی اپنے پورے پاکستان میں تھا ۔ مشرقی پاکستان میں اپنے ملک کے دوسرے دارالحکومت میں مقیم ۔ ڈھاکہ ایک قیامت خیز شہر ہے اور جب میں نے اسے پہلی بار رمنا پارک کی ہریالی پہنے دیکھا تو اس کی محبّت میں مبتلا ہو گیا ۔ اور وہ محبت جو بیت المکّرم کی گواہی سے مستحکم ہوئی تھی ، گولیوں سے چھلنی ہو گئی ۔
 
اور جب سے اب تک بچا کھُچا پاکستان اپنے آئینی پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہو سکا ۔ یہ میری بد قسمتی ہے کہ میں اوپر تلے پانچ مارشل لائوں کی گود میں پلی معاشرت کی پیداوار ہوں ۔ مجھے بھاری فوجی بُوٹوں نے ہمیشہ اس طرح کُچل کر رکھا ہے کہ مجھ میں شہری معاشرت کی جو حِس تھی وہ باقی نہیں رہی ۔ لوگ جسے سول سوسائٹی کہتے ہیں وہ اپنے سیاق و سباق میں کسی طرح بھی سول سوسائٹی نہیں ہے ۔ جس معاشرت میں طاقت کا سرچشمہ عوام کے بجائے جی ایچ کیو ہو ، وہاں سول معاشرت کیسے جڑ پکڑ سکتی ہے ۔ جس ملک میں پے در پے چار مُسلم لیگیں ، فوجی جرنیلوں نے جی ایچ کیو کی ٹکسال میں گھڑی ہوں ، اُن لیگوں کی سیاست سول سیاست کیسے ہو سکتی ہے ۔ البتہ اہلِ سیاست کی دل دہی کے لیے اسے نیم شہری یا نیم عسکری سیاست سے موسوم کیا جا سکتا ہے ۔
 
رہا عدلیہ کا معاملہ تو ہمیں عدلیہ کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے جن حالات میں جسٹس افتخار چودھری کو برطرف کیا تھا ، وہ ہمارے اصل حکمرانوں کا چہرا بے نقاب کرتا ہے ۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے اصل حکمران وہ نہیں ہوتے جو اسلام آباد کی مسندِ اقتدار پر ہاتھی کے دکھانے کے دانتوں کی طرح براجمان ہوتے ہیں ۔ بلکہ ہمارا اصل حاکم ایسٹیبلشمینٹ ہے ۔ ہائے ایسٹیبلشمینٹ ۔ جانے تیرے کتنے چہرے اور ہاتھ ہیں ۔
 
بات صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہیں ، ہم پاکستانی عوام بھی مزاجاً انصاف پسند نہیں ہیں ۔ اپنی روز مرہ زندگی میں حدوں سے گزرنے والے پاکستانیوں کو عدلیہ کا ادارہ سرے سے قبول ہی نہیں ۔ لاقانونیت ہمارا قومی رویہ ہے ۔
 
ایسے میں ہم نے افتخار چودھری کو اپنا ہیرو کیوں بنایا ؟ اُس کے لیے لانگ مارچ کیوں شروع کیا ؟ حالانکہ وہ بھی ایک پی سی او جج اور جنرل مشرف کا انتخاب تھے ؟
 
صرف اس لیے کہ جب اُنہوں نے ایک فوجی آمر کو چیلنج کیا تو ، ہم عوام کو اُن کی باغیانہ مزاحمت میں اپنے خوابوں کی تصویر نظر آئی ۔ لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ سیاسی جماعتوں نے بھی مصلحتاً اپنا رول ادا کیا اور لاہور سے گوجرانوالہ تک پہنچتے پہنچتے لانگ مارچ ایک عوامی تحریک بن گیا۔ جس کے ہیرو جسٹس افتخار چودھری تھے ۔
 
یہ عوام ہی ہیں جو ہیرو بناتے ہیں ۔
 قحط الرجال کے اس دور میں مصائب کے سمندر میں ڈوبتی عوام کے لیے جسٹس چودھری تنکے کا سہارا تھے۔ جب کہ دوسری طرح خود چیف جسٹس اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے ۔ چیف جسٹس کے منصب پر اپنی بحالی کی جنگ ۔
بے چارے عوام پھر دھوکہ کھا گئے ۔
 
عوام نے تو انصاف مانگا تھا ، محض چیف جسٹس نہیں ۔
مگرہونی کو کون روک سکتا ہے ۔ اس حادثاتی تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس عوام کی حمایت سے سیاسی نوعیت کے خیالی رہنما بن گئے  ۔ چونکہ عام لوگوں نے اُن سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ، اِس لیے سوموٹو ایکشن کی خبر سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور سر دھُنتے ہیں ۔ اپنے تمام مصائب کے حل کے لیے چیف جسٹس کی طرف سے کسی قانونی جھرلو کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔
تنقید سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہوتا ۔ چیف جسٹس بھی نہیں ۔
 
عادل کے منصب کے بارے میں نبی ء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،" جو شخص قاضی بنایا گیا تو گویا بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا"۔
فقہ کے امام ابو حنیفہ علیہ رحمت نے فرمایا تھا کہ کہ کسی کو عہدہ ء قضا یعنی عادل کا منصب دینا ، لوگوں کے جان و مال کے ضمن میں اور اُن کی عصمتوں کے بارے میں اُس پر اعتماد کرنا ہے ۔
تو کیا جسٹس چودھری اپنے منصب کے تقاضے پورے کر رہے ہیں ؟
 
جی ہاں ، میڈیا اور اخبارات جسٹس چودھری کے ببانات ، خطبات اور اقوالِ زریں سے بھرے پڑے ہیں اور عوام کے دل اُن کے لیے دعائوں سے لبریز ہیں۔ لیکن پاکستانی معاشرہ اب تک انصاف کی وہ فصل نہیں کاٹ سکا جو اس نے پانچ سال پہلے جسٹس چودھری کی بحالی کی صورت میں بوئی تھی۔  کیونکہ تا حدِ نظر قانون کی کھیتیاں بنجر پڑی ہیں ۔  مقدموں کے فیصلوں میں تاخیر نا منصفی کی واضح دلیل ہوتی ہے ۔ مقدمات کی بھرمار کا مطلب وکلا کی چاندی ہوتا ہے ۔ تاریخوں پر تاریخیں پڑتی رہتی ہیں ۔ زیریں عدالتوں میں کرپشن سکہ رائج الوقت ہے ۔
 
مگر چیف جسٹس اب تک اپنے ملک کے عدالتی نظام کی اصلاح نہیں کرسکے۔ اس کے باوجود بے چارے سادہ لوح عوام ، حکومتی پالیسیوں پراُن کی تنقید میں اپنی تشفی ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ جسٹس چودھری کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ اب تک جنرل پرویز مشرف کے برطرفی کے وار کا زخم بھر ہی نہیں سکے ۔ وہ مسلسل اپنے امیج کو پالش کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ ملک کے عدالتی نظام کی اصلاح ہو نہ ہو ، اُن کا ہیرو کا امیج قائم رہے ۔ یہ عوام کے حق میں جسٹس چودھری کا ظالمانہ اور بے رحمانہ طرزِ عمل ہے ، جسسے ملک کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔
 
چیف جسٹس کو خطبات دینے ، وعظ کرنے اور سیاستدانوں کی طرز پر وعدے کرنے کا بڑا شوق ہے ۔ لگتا ہے کوئی جج نہیں بول رہا ، مسجد موسی آہن گر کا خطیب مولوی امیر ولی درس دے رہا ہے ۔ لیکن اس خطابت کا حاصل کیا ہے ؟ کیا اُن کے ان پانچ سالوں کی کارکردگی عوام کے لیے ایک منصفانیہ معاشرے کی نوید بن سکی؟ کیا زرادی برانڈ جمہوریت اور افتخار برانڈ نظام عدل پاکستانیوں کو انصاف مہیا کر سکا؟
 
ملک کی سایسی تاریخ میں عدلیہ کے مکروہ اور منفی رول سے کون واقف نہیں ۔ جسٹس منیر سے لے کر جسٹس انوار الحق تک اور اے آر کارنیلئس سے لے کر مولوی مشتاق تک سب فوجی ایسٹیبلشمینٹ کے بے دام غلام رہے ہیں ۔
 
اور وکلاء ؟ ان کا دامن بھی کم داغدار نہیں ۔ ضیاءالحق کے اقتدار پر قبضے کو دوام بخشنے والا اے کے بروہی وہ شخص تھا جس نے نظریہ ء پاکستان کی جگہ نظریہ ء ضرورت کا جواز فراہم کرکے ایک فوجی آمر کے لیے قانونی راہ ہموار کی ۔
 
خُدا لگتی کہیے گا کہ کیا وہ سارے جج ، جنہوں  نے فوجی اقتدار کو تحفظ دیا ،  پاکستانی عوام کے غدار  اور مستوجبِ سزا  نہیں ہیں ؟ کیونکہ کوئی بھی شخص فوج میں بھرتی ہو کر یا جج بن کر فرشتہ نہیں بن جاتا ۔اِلّا یہ کہ اُسے یہ اختیار ضرور مل جاتا ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے سکے اور اپنے اس گھناؤنے فعل کا جواز فراہم کر سکے ۔
 
جی ، اقبال سے معذرت کے ساتھ عرض کروں:
تو قادر و عادل ہے مگر میرے وطن میں
ہیں تلخ ، تہِ عدلیہ   ،   جمہور کے اوقات