اب بھی مذاکرات

  • منگل 24 / ستمبر / 2013
  • 4857

حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ایک پر خطر اور پیچیدہ راستہ ہے جس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا طالبان نے جو جواب دیا ہے وہ پاک فوج کے اعلیٰ جرنیل اور سانحہ پشاور کی صورت میں نکلا ہے۔ جس نے 83 بے گناہوں کی جان لے لی مگر اب بھی طالبان سے ہمدردی رکھنے والی لابی کو کوئی دکھ نہیں ہے اور انہوں نے ان واقعات میں بھی سازش کی بو سونگھ لی ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ کسی ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پشاور میں بدترین دہشت گردی ہوئی مگر پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ کون سے مذاکرات ہیں جسے ناکام بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مذاکرات کا مطلب افہام و تفہیم اور کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے مگر یہاں تو طالبان نے فوج کے اعلیٰ سطح کے افسر کو شہید کیا اور پھر دھڑلے سے ذمہ داری بھی قبول کر لی۔

مذاکرات کے حوالے سے طالبان کا رویہ روز اول سے ہی سخت اور غیر مفاہمانہ نظر آ رہا ہے۔ دنیا میں کسی بھی فوج کے جنرل لیول کے افسر کا نشانہ بن جانا ایک انتہائی اقدام ہوتا ہے جو فوج کیلئے ناقابل قبول ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں فوج کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچتا ہے اور وہ طاقت کا استعمال۔

یہاں ایک بات واضح نظر آ رہی ہے کہ طالبان جنگ کے راستے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ اب حکومت اور عوام کی مذاکرات کی سوچ آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔ تو ایسی صورتحال میں اب یہ سنگین ترین مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ کیا ہم طالبان کو یہ اجازت دے رکھیں گے کہ وہ ہمارے بے گناہ اور معصوم شہریوں کا خون ناحق بہاتے رہیں؟ مسجدوں ، امام بارگاہوں ، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں میں بم پھوڑتے رہیں؟ فوجیوں پر حملے کرتے رہیں؟ جیلوں پر حملے کر کے خوں خوار درندوں کو آزاد کرواتے رہیں؟۔

اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت کو سوچنا ہو گا کہ اب اس صورتحال سے اسے کس طرح نکلنا ہے۔
طالبان کے مطالبات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ مذاکرات میں ہرگز سنجیدہ نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں سیاسی عمل سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی ہے۔ یہاں مقصود مایوسی پھیلانا نہیں ہے مگر صورت حال کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان طرز کی تنظیموں کے ڈھانچے کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ اس قسم کی تنظیموں میں جرائم پیشہ اور سخت گیر عناصر بڑی تعداد میں موجود اور انہی کا کنٹرول زیادہ ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں طالبان کو غیر ملکی فنڈنگ بھی وافر دستیاب ہے۔ ایسی صورتحال میں حکیم اللہ محسود یا طالبان شوریٰ چاہے بھی تو اپنے سخت گیر ساتھیوں اور مالی وسائل فراہم کرنے والے غیر ملکی عناصر کی مرضی و منشا کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی جو لوگ ایسی تنظیموں کو وسائل فراہم کرتے ہیں وہ ان کی جڑوں تک اپنا اثر و رسوخ بھی ضرور پیدا کر لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مذاکرات کی کامیابی کی سوچ بے وقوفانہ ہو گی۔

پاکستان کو درپیش مسائل ایک جامع حکمت عملی کا تقاضہ کرتے ہیں جس میں ہر پہلو کا جائزہ لے کر اس عفریت کا سدباب کیا جا سکے۔ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے سیاست دانوں ، فوج ، خفیہ اداروں اور میڈیا سمیت ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہو گا۔ ہر سطح پر مذاکرات اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ طاقت کے استعمال کا آپشن ضرور سامنے اور کھلا رکھنا ہو گا۔ تا کہ مفاہمت پسند اور معاشرے پر اپنے انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے عناصر کو الگ الگ کیا جا سکے۔

پاکستان آج اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اگر ہم نے فرقہ ، رنگ ، نسل ، زبان سے بالاتر ہو کر بحثیت قوم متحد ہو کر ان دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا مردانہ وار مقابلہ نہ کیا تو شاید پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔