مذاکرات مخالف سازشیں

  • منگل 24 / ستمبر / 2013
  • 4569

اپر دیر میں پاک فوج کے میجر جنرل ثناءاللہ عباسی اور ان کے دو ساتھیوں کی شہادت کے بعد طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات دباﺅ اور شکوک و شبہات کا شکار ہوئے تھے اور اب پشاور کے سینٹ جونز چرچ میں خود کش دھماکوں اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد مذاکراتی عمل مزید دباﺅ اور مشکلات سے دوچار ہے۔

یہ دونوں واقعات انتہائی قابل افسوس ہیں اور قوم کے ہر طبقے نے اس کی مذمت کی ہے۔ بعض اخباری اطلاعات کے بعد ان واقعات کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ تاہم کسی کو نہیں معلوم یہ اطلاعات مصدقہ بھی ہیں یا نہیں۔ نیز اگر ایسا ہے تو طالبان کے کونسے گروہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے کیونکہ حکومتی ٹیم کے اہم رکن ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو میں بتایا ہے کہ چار درجن سے زائد گروپ موجود ہیں۔ اس لئے ان 48 میں سے اگر دو گروپ بھی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہیں تو پورا مذاکراتی عمل متاثر ہو گا۔ چاہے 46 گروپ مذاکرات کے حامی ہی کیوں نہ ہوں۔

اس پروگرام میں خیبر پختونخوا حکومت کے ایک وزیر نے الزام لگایا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔ کیونکہ اس نے اے پی سی کے بعد سے اب تک خیبر پختونخوا حکومت سے کوئی رابطہ تک نہیں کیا۔ حالانکہ طالبان کے تمام گروپوں کی سرگرمیاں فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ہی ہیں۔ اور ان سے رابطے اور معاملات طے کرنے میں صوبائی حکومت کا ایک اہم کردار ہونا چاہئے۔

حکومت مذاکراتی عمل میں سنجیدہ اور مخلص ہے یا نہیں اس کا جواب تو حکومت اور اس کے کار پردازوں نے دینا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ مذاکرات کی مخالف قوتیں پوری طرح سرگرم اور چوکس ہیں۔ یہ قوتیں خاصی منظم ہیں اور ہر سطح پر سرگرم ہیں۔ لیکن میڈیا میں یہ قوتیں زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ حالانکہ طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ ہے جس کی ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے تائید کی ہے جس کے بعد سے مذاکرات عمل کچھ آگے بھی بڑھا ہے۔ اور کچھ ایسے اقدامات بھی ہوئے ہیں جن پر مذاکرات عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

پوری قوم کے متفقہ فیصلہ کے بعد طالبان نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کچھ تحفطات کا اظہار بھی کیا تھا جو ہر مذاکرات میں شریک فریق لازماً کرتا ہے۔ لیکن یار لوگوں نے اسے بھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ اس سے جتنی غلط فہمیاں پیدا کی جا سکتی ہیں کر دی جائیں اور مذاکرات کے عمل میں جتنی رکاوٹیں ڈالی جا سکتی ہوں ڈال دی جائیں۔ حالانکہ ملک کے سنجیدہ طبقوں کی یہ رائے تھی کہ ان دونوں واقعات کی تحقیقات مکمل ہونے دی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین ہونے کے بعد ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

تحقیقات سے قبل ہی میڈیا کا کسی کو ذمہ دار قرار دینا انصاف کے تقاضوں اور صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ دار ایک تو طالبان ہو سکتے ہیں یا ان کے علاوہ مذاکرات کے مخالف عناصر بھی ایسی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم کے دورہء امریکہ کو ناکام بنانے کے خواہشمند بھی اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اے پی سی کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم ڈرون حملوں کو روکنے کی بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا اپنے دورہء امریکہ کے دوران اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کے مخالفین بھی ایسی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

چنانچہ پاکستانی میڈیا میں ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کرنے والے گروپ نے اس معاملے میں وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا اور ان کے بیان کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر ڈالا۔ اس میڈیا گروپ نے بہت بڑھا چڑھا کر وزیراعظم سے منسوب یہ جملہ نمایاں کیا کہ اے پی سی میں حکومت کی جو سوچ تھی، وہ اب اس پر آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔ گویا وزیراعظم نے مذاکرات کا عمل ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حالانکہ وزیراعظم کا اصل جملہ اس طرح تھا ” اے پی سی میں حکومت کی سوچ اور قوم کی خواہش آگے بڑھنے سے قاصر ہے“۔ خبر کے متن میں وزیراعظم کے یہ جملے شآمل کئے گئے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو نیک نیتی سے آگے بڑھایا جائے گا اور مذاکرات کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کی جائے گی۔ تاہم پشاور جیسے واقعات سے مذاکرات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

لیکن مخصوص مقاصد اور خصوصی ایجنڈا کی وجہ سے ان جملوں کو دبا دیا گیا اور وزیراعظم کا ایک ایسا جملہ توڑ مروڑ کر سرخی بنا دیا گیا جس سے ان عناصر کے ایجنڈا کو تقویت ملتی ہے حالانکہ اسی روز قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک اہم بات کر کے صورتحال واضح کر دی تھی کہ جب وزیراعظم چین جاتے ہیں تو پاکستان میں چینی باشندوں کو قتل کیا گیا اور اب جب وہ امریکہ جا رہے ہیں تو چرچ پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان حملوں میں پاکستان دشمن غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں۔ جبکہ سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پشاور چرچ پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب وزیراعظم ڈرون حملوں کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے والے تھے۔

انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم نے جس جانب سفر شروع کرنے کا عزم کیا تھا اسے روکنے کی کوشش کرنے والوں کی نشان دہی ہونی چاہئے۔ یہی بات تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہی تھی کہ دیر اور پشاور کے واقعات مذاکرات کو عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔ لیکن ان کی بات پر غور کرنے کی بجائے مخصوص ایجنڈا کے حامل نام نہاد آزاد ٹی وی نے ان کے خلاف مہم شروع کر دی اور اپنے ٹاک شوز میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حالانکہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ جبکہ افغان امور کے ماہر جنرل حمید گل نے واضح کیا ہے کہ طالبان کے 25 گروپ مذاکرات کے لئے تیار ہیں صرف 5 مخالف ہیں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں ان عناصر کو بے نقاب کریں جو غیر ملکی ایجنڈے کو میڈیا میں نمایاں کر رہے ہیں اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ طالبان سے تو امریکہ بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کے حق میں فیصلہ دے چکی ہیں تو بہانے بنانے سے اس عمل کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کا کھل کر محاسبہ ہونا چاہئے۔

لیکن ادھر پیپلز پارٹی کو جو اے پی سی میں مذاکرات کی حمایت کر کے آئی تھی اور اب اس کے اصل سربراہ آصف زرداری کہہ چکے ہیں کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حامیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے دور میں ” دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کے نام پر ملک میں جو تباہی مچائی ، شہریوں اور فوجیوں کی جو چالیس ہزار جانیں گئیں اور ڈرون حملوں کے جس عذاب سے پوری قوم 5 سال سے گزر رہی ہے اب نہیں قوم پر رحم کرنا چاہئے اور اگر مذاکرات سے اس مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے تو نکلنے دینا چاہئے کہ اسی میں پوری قوم اور پاکستان کا فائدہ ہے۔ البتہ اس لڑائی کو جاری رکھنے میں ہمارا نقصان اور امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور پاکستان دشمنوں کا فائدہ ہے۔ اب ان کے ایجنٹوں کو قوم کے سامنے لانے کا وقت آ گیا ہے۔