تصوف کیا ہے (آخری قسط)
- بدھ 25 / ستمبر / 2013
- 6838
یہ مضمون کا چھٹا حصّہ ہے ۔ چونکہ اللہ نے یہ کائنات چھ دنوں میں بنائی اس لیے بندے نے بھی تصوف کی اس مختصر سی لفظی کائنات کو چھ حصّوں میں ہی تقسیم کیا ہے ۔ ایک سخن گسترانہ اظہار ۔
اس سے پہلے تصّوف اور سیاست پر گفتو ہو رہی تھی اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ صوفی چونکہ محبّت سے اپنا پیغام پھیلاتا ہے ، اِس لیے وہ ایسٹیبلشمینٹ اور ایوانِ اقتدار کو چیلنج محسوس ہوتا ہے کہ محبت کے ذریعے دلوں پر حکمرانی کا یہ انداز حاکمِ وقت کی مقبولیت پر اثر انداز ہو کر اُسے کم کرسکتا ہے ۔
حکمرانوں کے مذہبی رویّوں کے مطالعے کے دوران بہت سے فکر انگیز واقعات مشاہدے میں آتے ہیں ۔ مثلاً جب اورنگ زیب عالمگیر کے جد امجد ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اُس وقت دہلی کے تخت پر ایک مسلمان حکمران ابراہیم لودھی متمکن تھا ۔ بابر اور ابراہیم کی فوجیں جب پانی پت کے میدان میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوئیں تو یہ بالکل واضح تھا کہ یہ جنگ اسلام کے لیے نہیں ، جوع الارض یعنی زمین کی بھوک کے لیے لڑی جا رہی ہے ، جو شرعاً حرام ہے ۔
علامہ اقبال نے سید غلام السیدین کے نام ایک مکتوب میں اس نقطے پر بحث کی ہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ ملک گیری کی ہوس کے لیے کی جانے والی جنگ حرام ہے ۔
بدقسمتی سے بے چارہ انسان ، اقتدار کے بھوکے اُن حکمرانوں کی ایسی حرامکاری کا صدیوں سے شکار رہا ہے ، جس کے تحت اُنہوں نے مذہب کو ملک گیری کے ہوس کے لیے استعمال کیا تھا ۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے ، اِس عہد میں اہلِ تصوف کو بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے ۔ امام ابنِ تیمیہ کا پیغام جو خود اُن کے اپنے عہد میں پنپ نہیں سکا تھا ، اب اس عہد میں محمد بن عبدالوہاب کے ذریعے سعودی حکمرانوں کی طاقت کی بدولت چاردانگِ عالم میں پھیلایا جا رہا ہے ۔ اور اس پیغام کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلام کے اسلام کے بجائے محمد بن عبدالوہاب کا اسلام بن کر رہ گیا ہے۔ جس نے اُسامہ بن لادن، القاعدہ ، شبابِ ملی ، اور طالبان کے علاوہ بیسیوں مسلح گروہوں کو جنم دیا ہے ، جن کے ہاتھوں آج اسلام کا دامن تار تار ہو رہا ہے ۔
سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں لایا جانے والا ملک پاکستان ٹارگٹ کلنگ ، خود کُش بمباری ، بھتّہ خوری ، بدامنی ، دہشت گردی اور مستزاد یہ کی اغوا برائے تاوان کا اڈہ بن کر رہ گیا ہے ۔
ایسی صورت حال میں تصوف کے عملی احیاء کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو صداقت اور امانت داری کی عملی تعلیم دی جا سکے اور اُنہیں ایسی ذہنی اور فکری تربیت دی جا سکے جو اُن کے دلوں اور نگاہوں کو بدل کر نفس کا مجاہد بنا سکے کیونکہ مجاہدہ ء نفس کا دارومدار اعمال پر ہے ۔ شاہ حسین فرماتے ہیں :
عملاں اُپر ہووے نبیڑا ، کیہ صوفی کیہ بھنگی
جو رب بھاوے ، سو ای تھیسی ، سوئی بات ہے چنگی
آپے ایک تے نیک کہاوے ، بیٹھی ننگ مُننگی
کہے حسین سہاگن سوئی ، جو شوہ دے رنگ رنگی
صوفی ہو یا بھنگی ، یہودی ہو یا نصرانی ، ہندو ہو یا کمیونسٹ سب خُدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہے اور عالمِ انسانیت کا جزوِ لا ینفک ہے ۔ قرآنِ کریم میں مذکور ہے :
"یصورکم فی الرحام کیف یشاء "
میں تم میں سے ہر ایک کی تصویر رحمِ مادر میں جیسی چاہتا ہوں بناتا ہوں ۔
اللہ تعالی خود اس بات کا اعلان فرما رہے ہیں کہ وہ ہر ماں کے رحم میں صورت گری کرتے ہیں ۔ وہ منکوحہ ہو یا غیر منکوحہ ، طوائف ہو یا شریف زادی ، خُدا کے قانونِ تولید و تخلیق میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا ، یہاں تک کہ اُس چہرے کی صورت گری بھی وہی کرتا ہے جسے شریعت حرامی قرار دیتی ہے ۔
انسانی برادری کا ہر فرد بلا تخصیص جنس خُدا کی مخلوق ہے ، اور یکساں احترام کا حامل ہے ۔ کیا خُدا کی خُدائی پر کوئی انسان یہ اعتراض جڑ سکتا ہے کہ جس بچے کو شریعت حرامی کہتی ہے ، اُسے اللہ دوسرے بچوں کا سا پروٹوکول دے کر دنیا میں کیوں لاتا ہے اور اس کا وجود رحمِ مادر میں کیوں پایہ ء تکمیل کو پہنچاتا ہے۔
اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا کے قوانین الگ ہیں اور انسان نے جو قوانین ، آئینِ فطرت کے خلاف بنائے ہیں وہ زمین پر فتنہ و فساد کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔
یہ وہ قوانین ہیں جو ایک من گھڑت مذہب کے نام پر رائج کیے گئے ہیں ۔ یہ قوانین انسانوں کو انسانیت کے راستے سے بھٹکا رہے ہیں ۔ایسے میں ایک ہی راستہ ہے ۔ باطن اور ظاہر کے فرق کو مٹانے کا راستہ ۔ مخلوقِ خُدا سے غیر مشروط محبت کا راستہ ۔ شاہ حسین فرماتے ہیں:
عاشق ہوویں تاں عشق کماویں
راہ عشق دا سوئی دا نکہ
دھاگہ ہوویں تاں جاویں
باہر پاک ، اندر آلودہ
کیا تو شیخ سداویں
کہے حسین جے فارغ تھیویں
خاص مراتبہ پاویں