امن اور ترقی کا راستہ
- بدھ 25 / ستمبر / 2013
- 4977
پشاور میں مسیحی برادری کو عبادت کے دوران انتہائی بے دردی سے خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود طالبان کی طرف سے چرچ پر یہ حملہ انتہائی ظالمانہ اور افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ حملہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے عوام اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر حکومت بے بسی کے عالم میں یہ سب ہوتا دیکھ رہی ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت کے خاتمے میں ناکامی کے کئی اسباب ہیں جن میں سب سے اہم سبب سیاسی جماعتوں میں پایا جانے والا کنفیوژن اور دہرا معیار ہے۔ جس کی وجہ سے شدت پسندوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جسے چاہیں آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
وطن عزیز جس دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے اس کا اندازہ ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ، گوریلا کارروائیوں، قتل اور جرائم کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کی آگ پاکستان میں جس تیزی سے پھیل رہی ہے اس کا ثبوت کراچی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ابتر حالات کی صورت میں سامنے ہے۔
حکومتی ادارے امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ملک کی موجودہ صورت حال اور اس کے درست حل کے متعلق ارباب اختیار، قومی و عسکری ادارے، عوامی نمائندے اور عدلیہ کوئی متفقہ رائے قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے مؤثر تدارک کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی بھی سامنے نہیں آ رہی۔
پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کو بارہ سال ہو گئے ہیں، ہم اس کے خلاف لڑ تو رہے ہیں مگر ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ یہ جنگ کس کی ہے؟ یہ امریکہ کی جنگ ہے یا ہماری جنگ ہے؟ اگر یہ امریکہ کی جنگ ہے تو پاکستان کو اس پرائی جنگ میں کیوں دھکیل دیا گیا؟ اگر یہ امریکہ کی جنگ ہے تو پھر ہماری فوج کیوں لڑ رہی ہے؟
اب تک دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہمارے چالیس ہزار کے قریب شہری، فوجی جوان و افسران شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہمارا اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ ہزاروں فیکٹریاں، کارخانے بند ہو گئے ہیں۔ ملک خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، قتل و غارت، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا شکار ہو گیا ہے۔
آج پوری قوم دہشت گردی کے عذاب کا شکار ہے، ہر طرف جنگ ہی جنگ ہے۔ ملک و ملت کو تقسیم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ حکمران طبقہ عوام کی امنگوں کے مطابق چلتا۔ انہیں امن و امان اور انصاف فراہم کرتا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کو ایسا کوئی حکمران نہیں مل سکا۔
ابھی وقت ہاتھ میں ہے۔ اگر یہ جنگ ہماری ہے تو حکومت دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے ، عوام کی تائید و حمایت سے شدت پسندوں کو پوری طاقت سے کچل دے ۔ حکومت عوام کی خواہشات کا احترام کرے اور لوگوں کو خوشحالی دے تو ملک جلد امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔