عمرہ و حج کا طریقہ و ضروری مسائل

  • اتوار 29 / ستمبر / 2013
  • 11340

الحمد الللہ آج کل حجاج کرام کی سفر حج کی تیاریاں شروع ہیں۔ اس حوالے سے مسائل حج و عمرہ پیش کیے جا رہے ہیں اس لیے کہ جہاں سفر حج کی دیگر ضروریات کے لیے تیاری کی جارہی ہے وہاں سب سے اہم ترین کام یہ ہے کہ حج اور عمرہ کے مسائل کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیا جائے ۔

دین اسلام کی بنیا د پانچ چیز وں پر رکھی گئی ہے ۔ وہ یہ ہیں۔ کلمہ شہا دت ،نما ز، زکو ۃ، روزہ اور حج۔

لغت کے اعتبار سے حج کا معنی ہے زیا رت یا ارادہ۔  شریعت کی اصطلاح میں حج اس عبا دت کا نام ہے جو آٹھ  ذی الحج سے تیرہ ذی الحج تک حرم پاک مکہ مکرمہ میں کی جا تی ہے۔ حج ہر اس با لغ مسلمان مرد ہو یا عورت پر فرض ہے، جس کے پاس سفر حج کی استطاعت ہے۔ اور اسے کو ئی شرعی عذر نہ ہو ۔ عذرکا مطلب ہے زادہ راہ کا نہ ہو نا، نا بینا یا جسمانی طور پر معذور ہو نا ، راستہ کا سفر کے لیے غیر محفوظ ہو نا اور عورت کے لیے سا تھ خا وند یا کسی محرم کا نہ ہو ناہے ۔ ایک شخص جب اس کے پاس حج کے اخرا جات کے لیے رقم آجا ئے تو اسی سال اس پر اس فرض کی ادائیگی لا زم ہوجاتی ہے۔ بلا وجہ اگر تا خیر کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔

اللہ تبارک و تعالی جلہ جلا لہ و عم نوا لہ نے حج کی فرضیت کے لیے اس طرح حکم ارشاد فرمایا ولللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین ( ال عمران ایت نمبر 97) ۔ اور لو گو ں پر اللہ تعالی کا حق ہے کہ جو بھی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کے گھر کا حج کرے ۔ اور جس نے کفر کی روش اختیار کی وہ جان لے کہ اللہ تعالی تمام جہا ن وا لو ں سے بے نیا ز ہے ۔

حج کی فرضیت کے بارے میں متعدد احادیث مو جود ہیں ۔ ایک حدیث پاک میں جسے حضرت ابی اما مہ رضی اللہ تعالی عنہا نے روایت فرمایا ہے حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کسی شخص کو کسی ظالم بادشا ہ نے حج سے روک نہ دیا ہو یا اس کے سا منے کو ئی اور سخت مجبوری یعنی شرعی عذر نہ ہو اور وہ پھر بھی حج نہ کرے تو برابر ہے کہ وہ مسلمان ہونے کی حالت میں فوت ہو یا یہو دی اور نصرا نی ہو نے کی حا لت میں ۔ اس حدیث پاک کی رو شنی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور خلا فت میں فرمایا تھا جو لوگ باوجود قدرت کے اور کو ئی دوسری مجبو ری نہ ہو نے کے پھر بھی حج نہیں کر تے میرا دل چا ہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگادوں کہ وہ لوگ حقیقی مسلمان نہیں ہیں۔

خانہ کعبہ کی تا ریخ اور اہمیت:۔ روئے زمین کے ہر خطے پر کفر و شرک بت پرستی اور جہا لت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا ئے ہو ئے تھے کہ اللہ تعالی نے اپنے پیا رے خلیل حضرت ابرا ھیم علیہ السلام کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ کی عبادت کے لیے ایک گھر بنا ئیں۔ جہا ں وہ کئی برس قبل اپنی اہلیہ محترمہ حضرت حا جرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چھو ڑ گئے تھے ۔ چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کی مدد سے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی۔ اور اللہ کے حکم پر صفاء پہا ڑی پر کھڑے ہو کر لو گو ں کو حج کے لیے پکا را ۔

اللہ تعالی نے یہ آ وا ز پو رے روئے زمین پر مو جود لو گو ں کے کا نو ں تک پہنچا دی بلکہ عالم ارواح میں آئندہ پیدا ہو نے والی رو حو ں نے بھی اس آ واز کو سنا ۔ پھر جس کی قسمت میں حج تھا وہ پکار اٹھا لبیک اللھم لبیک۔ بس اس جواب کے بعد جسکے مقدر میں حج ہے اسے مو سم حج میں بیت اللہ شریف اپنی طرف اسی طرح کھینچ لیتا ہے جس طرح مقنا طیس لو ہے کو کھینچ لیتا ہے ۔ ذی الحج کے ان پا نچ ایام میں جو عبا دت کی جا تی ہے اسے حج کہتے ہیں با قی سال جو زیا رت بیت اللہ شریف اور وہا ں دیگر اعمال کیے جا تے ہیں اس کا نام عمرہ ہے ۔

حج کے کئی مصالح ہیں ۔ 1۔ انفرادی فوائد۔ 2۔ اجتما عی فوا ئد۔ 3۔ معا شی فوا ئد۔ 4۔ سیا سی فوائد۔ 5۔ خالص دینی و اخروی فوائد۔

انفرادی مصالح :۔ حج سے احساس عبدیت پیدا ہو تا ہے ۔ آ دمی جب اپنا وطن گھر با ر اعزا ء و اقربا ء اور اپنی محبوب اشیا ء کو چھو ڑ کر اپنی مرغوبا ت اور تعیشات کو خیر باد کہ کر اس سفر دشوا ر کے لیے نکلتا ہے تو زبان حال سے یہ ظاہر ہو رہا ہو تا ہے کہ یہ بندہ اقرار کر رہا ہے کہ میں اپنے رب کا غلام ہو ں اور اس کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہو ں ۔ 

تو حید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہدے

یہ بندہ دو عا لم سے خفا میرے لیے ہے۔

حج اظہا ر محبوبیت کا ذریعہ ہے انسان جب سب کو چھو ڑ کر کفن والا سفید لبا س پہن کر لبیک اللھم لبیک کا نغمہ حجا زی الاپتے ہو ئے دیوا نہ وا ر گھر سے نکلتا ہے تو ہر چیز یہ کہتے ہو ئے نظر آ تی ہے کہ یہ عا شق خدا ورسولﷺ ان دو نو ں کے پیار میں ہر چیز کو چھو ڑے جا رہا ہے ۔ یہ نور جمال کا مشا ہدہ کر نے کے لیے جس اشتیاق سے نکلا ہے اس کے نزدیک اس کی جان مال ، آبروسے زیا دہ پیا رے اللہ اور اس کے رسول ہیں 

حج جہاد زندگی کی تربیت بھی دیتا ہے ۔ انسان کو اپنے گھر میں جو آ رام و اسائش حا صل ہو تا ہے وہ اس صبر آزما سفر میں کا فور ہو جا تا ہے ۔ مگر وہ باو جود نازک اندام ہو نے کے سب کچھ برداشت کر نے کے لیے تیار ہو جا تا ہے یہ صعوبتوں کو برداشت کر نے کے لے جہاد زندگی کی ایک بڑی تربیت ہے ۔ حج ما ضی سے وابستگی کا بھی اظہار ہے۔ یہا ں قدم قدم پر حضرت ابراھیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی یا دیں ہیں۔ حج سے معا شی فائدہ بھی ہو تا ہے ۔ اس مبارک سفر کے شوق میں بچت کی عا دت پڑتی ہے ۔ محنت کا داعیہ ابھرتا ہے ۔

سیا سی مصا لح :۔ حج کے سفر میں انسان کو احساس مرکزیت بھی پیدا ہو تا ہے جب مشرق و مغرب شمال و جنوب تمام انسانوں کو ایک ہی بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہو ئے ایک ہی پیغمبر ﷺ کے درا قدس پر حاضری دیتے ہو ئے دیکھتا ہے تو خود بخود احساس ہو نے لگتا ہے کہ امت مسلمہ ایک ہی بدن کے حصے ہیں۔ پھر یہ چیز سامنے آتی ہے کہ ہمیں اپنے تمام مسا ئل کے حل کے لیے ایک ہو جانا چا ہیے۔ اور سب کے دکھ درد کو یکساں سمجھنا چا ہیے۔  

 ایک ہو ں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر 

 حج کے خالص دینی و اخروی فوا ئد :۔ اس سفر مقدس کا حقیقی مقصد اپنی آ خرت کو سنوارنا ہو تا ہے ۔ اس کے لیے یاد آخرت گنا ہوں سے معا فی جنت کی طلب کثرت سے پیدا ہو تی ہے ۔ سفر مبا رک میں نمازکی پا بندی کی عا دت زکو ۃ ، خیر خیرات ، کر نے کا جذبہ پیدا ہو تا ہے۔ روزہ کی روح بھی یہی ہے کہ انسان اپنی نفسانی خوا شاہت پر قا بو پا نا سیکھ لے ۔ حج اس کی بھی ایک ٹریننگ ہے ۔ گو یا کہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں تما م عبادات کی رو ح آجاتی ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے پیا رے پیغمبر ﷺ کی زبا ن مبا رک سے حجاج کرام کو یہ خوشخبری سنا ئی ہے کہ جو شخص حج کے سفر سے واپس آ تا ہے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جا تا ہے جیسے آج ما ں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔ اور پیا رے پیغمبر ﷺ فرما تے ہیں کہ حج کا بدلہ اللہ کے نزدیک صرف جنت ہے ۔

مسائل حج و عمرہ و آسان طریقہ:۔ حج کرنے کے تین طریقے ہیں ۔ نمبر 1۔ صرف حج کے ارادے سے جائے اور احرام صرف حج کی نیت کا کر کے باندھے اسے حج افراد کہتے ہیں۔ دوسری قسم ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کی نیت کر کے جائے اور احرام باندھتے وقت عمرہ اور حج کا اکٹھے احرام باندھ لے۔ اس کو حج قران کہتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں آدمی جب احرام باندھ لے گا تو اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔ جب تک حج مکمل نہیں ہو جاتا ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ نیت ارادہ تو حج اور عمرہ دونوں کا ہی ہے۔ مگرجب احرام با ندھنے لگے تو صرف عمرہ کی نیت کر کے احرام باندھے دل میں یہ بات اچھی طرح رکھ لے کہ آج میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں۔  انشاء اللہ العزیز حرمین شریفین پہنچ کر آٹھ ذوالحج سے حج کا احرام باندھوں گا۔ اس کو حج تمتع کہتے ہیں عموما حجاج کرام حج تمتع ہی کیا کرتے ہیں۔

عمرہ کی تیاری :۔ یاد رکھیں کہ عمرہ میں دوچیزیں فرض ہیں نمبر 1۔ احرام باندھنا نمبر 2۔ طواف کرنا ۔ دوچیزیں واجب ہیں نمبر 1۔ صفا اور مروا کے درمیان سعی کرنا۔  2۔ سر کے بال بنڈوانا یا کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا ترشوانا ۔

عمرہ کااحرام باندھنے سے پہلے حجامت کی ضرور ت ہوتوکرالیں ، زیرناف بال اور بغلوں کے بال صاف کرلیں۔ ناخن ترشوالیں کوئی بھی شخص جب حج اورعمرہ کی نیت کر کے چلتا ہے تو وہ میقات سے بغیر احرام کے نہیں گذرسکتا۔ ہند و پاک کے حجاج کرام کے لیے میقات یلملم ہے۔ یہ جہاز میں ہی گذرجاتا ہے۔ اس لیے تمام حجاج کرام جہازمیں سوارہونے سے قبل احرام باندھ لیں۔ بعض لوگ جدہ جاکراحرام باندھتے ہیں۔ جوبالکل غلط ہے۔

احرام باندھنے کاطریقہ :۔ احرام میں دو چادریں سفید بغیر سلی ہوئی استعمال کی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے غسل کریں اگروقت نہ ہواوراپنے ہر طرح سے پاک ہونے کا یقین بھی ہوتو صرف وضوکرلیں۔ایک چادرناف تک نچلے دھڑپرباندھ لیں اورایک چادراوپرکے دھڑ پرلپیٹ لیں۔ سر ڈھانپ کر عمرہ کے نفلوں کی نیت کر کے دو رکعت نماز نفل پڑھیں جب سلام پھیریں اسی وقت سر کو ننگا کر لیں۔ اور بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں۔ لَبَّیک اَلّٰھُمَّ لَبَّیک لَبَّیک لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِ یکَ لَکَ۔ اس تلبیہ کو سفر عمرہ کے دوران بار بار پڑھتے رہنا ہے ۔ جب طواف شروع کرنے لگے تو پڑھنا بند کردے ۔

احرام باندھنے کے بعد پابندیاں۔ احرام باندھنے کے بعد زبان سے کسی قسم کی فسق و فجور کی بات گالی گلو چ نہیں نکال سکتا۔ جنگ و جدل نہیں کر سکتا۔ کسی جانور کا شکار نہیں کر سکتا۔ مکھی مچھر چیونٹی یا کوئی بھی ذی روح چیز کو نہیں مار سکتا ۔ سر کا ننگا رکھنا ضروری ہے۔ اور پاؤں میں ہوائی چپل پہنے یاایسا جوتا جو صرف انگلیوں کوڈھانپے۔ ابھرتی ہوئی ہڈی ننگی رہے۔ہ رقسم کی خوشبو لگا نا با لکل منع ہے۔ جسم کے کسی بھی حصے سے بال نا خن کٹانا اکھاڑنا منع ہے ۔احرام کے دوران ہمبستری منع ہے ۔

سفرحج وعمرہ مبارک :احرام باندھنے کے بعدتلبیہ واللہ تعالی کاذکرحضوراکرمﷺ پردرودسلام پڑھتے ہوئے جہازپرسوارہو۔ جب حرم پاک میں پہنچے توباوضوہوکرانتہائی عجز نیاز کے سا تھ بیت اللہ شریف کی طرف چلے۔ آنکھوں کو نیچی رکھے جب دیکھے کہ اب اللہ تعالی کا پاک گھر پوری طرح نظر آ نے لگ گیا ہے تو اس کی زیارت کرے یہ وہ موقع ہے جب ہر دعا قبول ہو تی ہے۔ اپنے مہربان رب سے جو دل چاہے اپنے لیے بھی مانگے اور اپنے احباب کے لیے بھی مانگے۔دعا میں مختصر یہ دعا ضرور کر لے کہ اے اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا فرما۔ اور یہ کہے کہ اے اللہ ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے ان تمام مقامات پر جو جو خیر کی دعائیں مانگی ہیں و ہ آپ کے علم میں ہیں۔ ہماری طرف سے بھی ان تمام دعاؤں کو قبول فرما پھر کالی پٹی پر حجر اسود کے سامنے چلا جائے جہاں سے طواف شروع کرنا ہے ۔

طواف کا طریقہ :۔بیت اللہ شریف اورسا تھ چھٹی ہوئی خالی جگہ حطیم کواندرلے کراردگردسات چکرلگانے کو ایک طواف کہتے ہیں۔ طواف کا طریقہ یہ ہے ۔ کہ اگر آسانی سے ممکن ہو تو حجرے اسود کے پاس جا کر دونوں ہا تھ حجر اسود پر رکھ کر دونوں ہونٹوں سے حجر اسود کو بوسہ دے ۔ اگر دھکم پیل کا خطرہ ہو تو قطعاٌ ایسا نہ کرے۔ حجر اسود چومنے کے لیے دھینگا مشتی کرنا سخت گناہ ہے۔ بس اس سیاہ پٹی پر کھڑا ہوجائے جو حجر اسود سے شروع ہو تی ہے اوربرآمدے تک چلی جاتی ہے۔ اس پٹی پر کھڑے ہو کر تلبیہ پڑھنا بند کر دے ۔ احرام والی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لے۔ اس کو اضطباع کہتے ہیں۔ یعنی دائیں کندھے کو ننگا رکھنا ۔

اب رخ حجر اسود کی طرف کر کے یعنی سینہ اور منہ حجر اسود کی طرف موڑ کر حجر اسود کا استقبال کریں۔  اور یہ دعا مناسب اونچی آواز سے پڑھیں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ اَ اللّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد یہ کہتے ہوئے دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھا کرنیچے کرے پھر حجر اسود کا استلام کرے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کی طرف دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیاں کر کے اسے چوم لے اوردائیں طرف رخ بدل کر طواف شروع کر دے۔ پہلے تین چکروں میں رمل کرنا ضروری ہے۔ رمل کہتے ہیں کہ سینہ نکال کر اکڑتے ہوئے دونوں شانوں کو ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم بھرتے ہوئے طواف کرے۔ یہ رمل صرف پہلے تین چکروں میں کیا جاتا ہے۔ دوسرے چار چکر عام طریقے سے چل کر لگائے جاتے ہیں۔ جب کالی پٹی سے چل کر دوبارہ کالی پٹی پر پہنچیں تو سینہ اور منہ پھر حجر اسود کی طرف کریں ۔ اور استلام کریں اب ہا تھ کانوں تک نہ لے جائیں بلکہ صرف ہتیھلیاں حجر اسود کی طرف کر کے انہیں چوم لیں اور پھر دائیں طرف مڑ کر دوسرا چکر شروع کر دے ۔

اس طرح جب سات چکر پورے ہو جائیں تو آخری بار استلام کر کے گویا کہ ایک طواف میں استلام آٹھ دفعہ ہو جائے گا ۔اب کالی پٹی سے ہٹ کر دو نوں کندھوں کو دوبارہ ڈھانپ لیں۔اور ملتزم پرآکر۔۔ یہ حجر اسود اور دروازہ بیت اللہ شریف کی درمیانی دیوار کو کہتے ہیں۔ یہاں خشوع خضوع سے دعا مانگے۔ پھر پیچھے ہٹ کر جگہ مل جائے تو مقام ابراھیم کے پاس دو رکعت نماز نفل واجب الطواف پڑھیں۔ مقام ابراھیم کے پاس جگہ نہ ہو تو مسجد الحرام میں حہاں جگہ ملے وہیں پڑھ لیں۔

نفلوں سے فارغ ہو کر حسب ضرورت آب زم زم جو پورے حرم پاک میں ہر جگہ دستیاب ہے وہ پئیں۔ بہتر ہے کہ ٹھنڈے زم زم کی بجائے جسے وہاں مبرد کہتے ہیں۔ دوسرا زم زم جیسے غیر مبرد کہتے ہیں پئیں۔ اس لیے کہ بعض دفعہ زیادہ ٹھنڈا پانی ہینے سے گلے میں تکلیف ہو جاتی ہے۔اب دوسرے اہم عمل سعی صفاء مروہ کی تیاری کرے اور صفاء پہا ڑی پر آ جائیں اتنے بلند ضرور ہوں کہ بیت اللہ شریف صاف نظر آ جائے۔
اب قبلہ رو ہو کر دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھانے کی بجائے ایسے اٹھائیں جیسے دعا میں اٹھائے جاتے ہیں۔ پھر بلند آواز سے تین مرتبہ پڑھیں اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد۔ اور تیسرا کلمہ و چوتھا کلمہ و درود شریف پڑھ کر دعا مانگیں۔ اور مروہ کی طرف چل پڑیں۔

سعی کے دوران چوتھا کلمہ جو نماز کی کتابوں میں عام لکھا ہوا ہے یہ یاد کر کے جائیں۔ اور وہاں پڑھتے رہیں۔ جب صفاء سے چلیں گے تو تھوڑی دور سبز ستون آ جائیں گے وہاں بتیاں بھی سبز ہیں وہاں سے تیز چلنا شروع کردیں دوڑنا نہیں ہے مگر دوڑنے کے قریب تیز چلیں اور پڑھیں رَ بِّ ا غْفِرْ وَ ارْ حَمْ اِ نَّکَ اَنْتَ الْاَ عَزُّ الْاَ کْرَمُ۔ جب سبز بتیاں ختم ہو جائیں تو تیز چلنا بندکردیں۔ مروہ پر پہنچ کر ایک چکر پورا ہوگیا پھر صفاء کی طرف آئیں۔ صفاء پر دوسرا چکر پورا ہو گیا ۔ اس طرح ساتواں چکر مروہ پرختم ہوجائے گا ۔

سعی سے فارغ ہو کر مسجد حرام میں دو رکعت نفل ادا کریں۔ اس کے بعد حجام کے پاس جائیں اور سر پر استرا پھروا دیں۔ یا موٹی مشین سے بال منڈھوا دیں۔ یادرکھیں کہ بالوں کو منڈھوانا کتروانے کی نسبت بہت زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ بعض لوگ انتہائی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کہ وہ وہاں پر صرف ایک چھوٹی سی لٹ قینچی سے کاٹ لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایسا کرنے سے آدمی احرام سے نہیں نکلتا کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا کٹوانا واجب ہے سر مڈھوانے کے بعد اب عمرہ مکمل ہو گیا ۔ عورتیں تمام بالوں کو اکٹھے کرکے آخر سے انگلی کے پورے کے برابر کاٹ لیں اس کے بعد غسل کریں عام کپڑے پہن لیں۔

اب حج کی روانگی کے دن تک حرم پاک میں رہیں۔ نماز باجماعت ادا کریں۔ جتنے زیادہ سے زیادہ طواف ہو سکتے ہوں وہ روزانہ کرتے رہیں ہے۔ یہ تمام طواف عام سادہ کپڑوں میں کیے جاتے ہیں ان میں نہ رمل ہوتا ہے نہ اضطباع ہوتا ہے ۔ جتنا بھی وقت ہو سکے مسجد الحرام میں گذاریں اور تلاوت کلام پاک درود و سلام کی کثرت کریں ۔ عورتیں احرام میں سلاہوا اور رنگ دار لباس پہن سکتی ہے۔ مگر خوشبو لگانا سخت منع ہے۔ زیورپہن سکتی ہیں عورت احرام کے دوران سرکوڈھانپ کررکھیں اورصرف چہرہ کھلارکھیں۔

عورت کے لیے سرمنڈھانا حرام ہے صرف قصر یعنی آخرسے انگلی کے پورے کے برابر بال کاٹ لے۔احرام کے دوران منہ دھوکرکپڑے سے صاف کرنامنع ہے اگرکسی وجہ سے احرام کی چادریں ناپاک ہوجائیں تودوسری چادریں بدل لیں یا انکودھوکر استعمال کریں۔غسل کی ضرورت ہو تو کرسکتے ہیں دوران غسل چادریں اتارنے سے احرام ختم نہیں ہوتا ۔

حج کا طریقہ:۔ حج میں تین چیزیں فرض ہیں جن کو ترتیب وار اداکرنا اور اس کے مخصوص مقام اور وقت پر ادا کرنا فرض ہے اگر ان میں سے کوئی فرض بھی چھوٹ گیا تو حج بالکل نہ ہوگا اس کا بدل کوئی چیز نہیں بن سکتی۔ 1۔ حج کی نیت سے احرام باندھنا احرام باندھنے طریقہ اوپرلکھا جا چکا ہے۔  2۔ وقوف عرفات نو ذی الحج  کو زوال آفتاب کے بعد رات صبح صادق تک عرفات میں ٹھرنے کا وقت ہے۔اس دوران عرفات میں تھوڑا سا وقت بھی ٹھہر گیا تو یہ فرض ادا ہوجائے گا ۔ 3 ۔ طواف زیارت جس کا وقت 10 زولحج کی صبح سے 12ذیا لحج کوغروب آفتاب تک ہے ۔اور یہ طواف قربانی اور سرمنڈھوانے کے بعد کیا جاتا ہے ۔

حج کے واجبات :۔ چھ ہیں اگر کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کا ازالہ قربانی یا صدقہ سے ہوجاتا ہے۔ واجبات یہ ہیں 1۔ وقوف مزدلفہ 2۔ سعی صفا مروا  3۔ رمی جمار یعنی کنکریاں مار نا  4۔ قربانی کرنا  5۔ حلق یا قصر کرنا یعنی بال منڈھوانا 6۔ طواف وداع کرنا ۔

حج کی سنتیں :۔ سنت کا مطلب ہوتا ہے کہ جس پر عمل بہت بڑا ثواب ہے اور بلا وجہ ترک کرنا نہایت بری بات ہے۔ فرق صرف یہ ہے اگر سنت حج چھوٹ جائے تو کسی قسم کی جزا لازم نہیں آتی۔ سنتیں یہ ہیں ۔ طوقف قدوم کرنا یعنی منا جانے سے پہلے طواف کرنا ۔ سات ذوالحج کو بعد نماز فجر منا کی طرف چلنا وہاں پانچ نمازیں پڑھنا ۔عرفہ کی رات منا میں قیام کرنا۔ عرفہ کے دن طلوع آفتاب کے بعد منا سے عرفات جانا۔ منا سے مکہ واپس ہوتے ہوئے تھوڑی دیر محصب میں ٹھرنا۔ امام کا خطبہ پڑھنا اور اسے سننا گیارہ تاریخ کو مسجد نمرہ میں جانا ۔

یوم حج:۔آٹھ ذوالحج کی صبح کو اپنی قیام گاہ میں نہا دھوکر صاف ستھرے ہوکر صاف چادروں کا احرام باندھ لیں۔ وقت ملے تو ایک طواف بھی کرلے اور منا کی طرف روانہ ہوجائیں۔ وہاں ظہر عصر مغرب عشاء اور رات کے قیام کے بعد نماز فجر ادا کرکے عرفات چلے جائیں۔ مسجد نمرہ کے قریب کوشش کریں کہ قیام ہوجائے۔ آذان نماز ظہر کے بعد امام صاحب دوخطبے دیں گے ۔ پھر اقامت ہوگی ظہراور عصر دونوں نمازیں ملا کر ظہر کے وقت میں ادا کریں۔ ہر نماز کی اقامت جدا جدا ہوگی عرفات کے قیام کے دوران تلبیہ پڑھتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ پھر جو جو دل چاہے اسکا سوال کریں۔ دل میں آئندہ کے لے تمام گناہوں سے توبہ کرلیں ۔

غروب آفتاب کے بعدمزدلفہ آجائیں اورجبل قزح کے پاس قیام کریں۔ نماز عشاء کے وقت میں آذان اوراقامت کے بعد مغرب اورعشاء ملا کرپڑھیں۔ یہ رات شب قدرسے بھی افضل ہے 10ذی الحج کونماز فجرمزدلفہ میں اداکرکے سورج نکلنے سے پہلے مناکی طرف چل پڑیں آج صرف ایک جمرے کی جیسے جمرہ عقبہ اورعام زبان میں بڑاشیطان کہتے ہیں اسکی رمی کریں۔ یعنی سات کنکریاں اسے ماریں۔ بہترہے کہ زوال آفتاب سے پہلے رمی جمرہ عقبہ کردیں۔ واپس اپنے خیمہ میں آکر خود قربانی کرنا ہوتوقربان گاہ جاکراپنے ہاتھ سے قربانی کردے۔ اگربینک میں پیسے جمع کرائے ہیں تو جو و قت قربانی کا دیا گیاہے تو اس کاانتظارکریں۔ تھوڑا سا وقت احتیاطاٌ مزید گزارکرپھرسرکے بال منڈوالیں۔ عورتیں سارے بال اکھٹے کرکے انگلی کے پورے کے برابرکاٹ لیں۔

اسکے بعدمکہ مکرمہ آکرطواف زیارت کریں اورسعی صفامروہ کریں۔اور واپس منیٰ چلے جائیں۔ وہاں گیارہ اوربارہ تاریخ کوتینوں جمرات کی کی رمی زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کریں۔ سب سے پہلے جمرہ اولی کی پھرجمرہ وسطہ کی پھرجمرہ عقبہ کی رمی کی جاتی ہے۔ اگربارہ زی الحج کو غروب آفتاب سے پہلے منیٰ سے چلا آیا تودرست ہے اگرتیرہ ذولحج کووہاں ٹھرارہا تو پھر جمرات کی رمی کرنا پڑے گی۔ بارہ تاریخ کو واپس مکہ مکرمہ آجائے اور طواف وداع کی نیت کرکے طواف کر لے۔ الحمدللہ حاجی کا حج مکمل ہوگیا ۔اگر صفر میں کچھ دن بقایا ہوں تو طواف کرتا رہے۔ اورمعمولات جاری رکھیں۔ جس دن واپسی ہوبیت اللہ شریف جائے طواف کرے۔ جی بھر بھرکردعائیں مانگیں۔ پھرالٹے پاؤں بیت اللہ شریف کوپیچھا کئے بغیر مسجدحرام سے باہرنکل آئے۔

 اگر مدینہ طیبہ کی حاضری ہوچکی ہے تو اپنے وطن کی تیاری کرے اگرحاضری نہیں ہوئی تومدینہ طیبہ کی حاضری کے لیے وہاں جائیں۔ مدینہ طیبہ کی حاضری حج کی روح ہے اس مقدس شہر میں انتہائی ادب و احترام سے رہے۔

مسجد نبوی میں چالیس نمازیں باجماعت اداکریں۔ روضہ اطہر پر کثرت سے درود و سلام کا تحفہ پیش کرے ۔ سرکار دو عالم ﷺ کے حضور جب حا ضری ہو تو انتہائی ادب کے سا تھ کھڑا ہو۔ سانس بھی اونچی لینے کی کوشش نہ کرے۔ یوں تصور کرے کہ ایک ادنی غلام بہت بڑے آ قا  کے حضور کھڑا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں درخواست کرے کہ میری حاضری قبول فرمائیں اور اللہ کے حضور شفاعت کے لیے درخواست کرے۔ پھر قریب ہی موجود سیدنا صدیق اکبرؓ کے حضور سلام پیش کرے دل دل میں ان سے محبت عقیدت کا اظہار کرے ۔ پھر سیدنا عمر فاروقؓ کے حضور سلام پیش کرے اور عقیدت کا ظہار کرے۔ بعد اذاں جنت البقیع میں جاکر تمام ہستیوں کے لیے دعائے مغفرت کرے اور اپنے لیے مغفرت اور ترقی درجات کی دعاکرے ۔

مدینہ پاک میں بہت سی زیارات ہیں۔ جن میں اہم زیارت مسجد قبا کی حا ضر ی ہے۔ جس میں دو نفل ادا کرنا مقبول عمرہ کا ثواب ہے۔ حضرت امیر حمزہ اور دوسرے شہدائے احد کی قبور پر حا ضری دے۔ اس کے علاوہ مسجد جمعہ خمصہ مساجد احد پہاڑ اور دوسری بہت سی زیارات مسجد نبوی میں ریا ض الجنہ میں لازمی طورپر نفل پڑھے اور دعا مانگے۔ حرمین میں نمازوں کے بعد جنازے کی نمازیں ہو تی ہیں ان میں لازماٌ شریک ہوا کرے۔

نابالغ بچوں کا حج :۔ جو بچے بڑے ہوں مگر ابھی با لغ نہیں ہوئے اور تمام ارکان ادا کرنے کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں تو والدین ان سے تمام افعال حج اسی طرح اپنے سا تھ کراتے رہیں۔ جو بچے با لکل چھوٹے ہیں مگر دوڑتے پھرتے ہیں ان کو چا ہیے کہ دو چھو ٹی چھو ٹی چادریں احرام کی بندھوا دی جائیں۔ اور والدین بچے کی طرف سے تلبیہ پڑھیں اور ہر مقام پر جو نیت اپنے لیے کریں وہ بچے کے لیے بھی کرتا رہے۔ بچوں کا بھی حج ہو جائے گا

جنایات :۔ ممنوعات احرام یا ممنوعات افعال حج میں سے کوئی بھی چیز بلا عذر سرزد ہو گئی تو اس کی جزا یا کفارہ لا زم ہوگا۔ اگر کسی جانور کا شکار کیا تو اس کے بدلے میں اسی طر ح کا جانور وہاں خیرات کرنا پڑے گا ۔ مثلا ہرن شکار کیا تو بکرا یا دنبہ نیل گائے شکار کی تو اس کے بدلے میں گائے ذبح کرنی پڑے گی۔ جوں، ٹڈی، مچھر یا مکھی مار دی تو ایک دو ریال صدقہ کر دے ۔ اگر سر کے بال داڑھی کے بال منڈھوا دیے یا ہا تھ پیروں کے نا خن کٹوا دیے یا سلا ہوا کپڑا تمام دن پہنے رکھا۔ ان حالتوں میں ایک بکرا یا دنبہ ذبح کرنا پڑے گا ۔

اگر خوشبو کا استعمال کیا پھر بھی یہ ہی جزا ہو گی۔ اگر خوشبو بھی لگائی اور احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے تو دو جانور ذبح کرنے پڑیں گے۔اگر عورت کو شہوت سے ہا تھ لگایا یا بوسہ لیا تو ایک جانور دینا پڑے گا ۔ اگر کسی صاحب نے احرام کی حالت میں دوسرے کا سر مونڈھا تو ایک دو ریال صدقہ کر دے۔ پھول سونگھنے سے کچھ جزا نہیں ہے۔احرام باندھنے سے وقوف عرفات تک جماع کیا تو حج فاسد ہو جائیگا ۔ احتلام آ نے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ یاد رکھیں جو بھی دم دینا پڑے گا اسے حدود حرم میں ہی دینا پڑیگا۔ مزید مسائل کے لیے کسی عالم دین سے رجوع فرمائیں۔