بکھرا خواب
- منگل 01 / اکتوبر / 2013
- 4678
ناروے کے حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی ہائرے اور اس کی قائد ارنا سولبرگ کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا کہ قدامت پسند گروپ میں شامل چاروں پارٹیاں مل کر ملک کی آئندہ حکومت قائم کریں اور اس طرح آئندہ 4 برس کے دوران ایسی کارکردگی پیش کریں کہ 2017ء کا انتخاب جیتنے کی راہ بھی ہموار ہو سکے۔
چاروں پارٹیوں کے درمیان بارہ روز کے مشکل اور طویل مذاکرات کے بعد سوموار کی رات کو یہ واضح ہو گیا کہ یہ چاروں پارٹیاں مل کر حکومت نہیں بنائیں گی۔ حالانکہ چاروں پارٹیاں آربائیدر پارٹی کی قیادت میں 8 برس تک حکومت کرنے والے ریڈ گرین اتحاد کی حکومت کا متبادل لانے کا وعدہ کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدامت پسند گروپ کی دو چھوٹی پارٹیوں نے حکومت میں شمولیت سے معذرت کرنے کے باوجود دوسری دونوں بڑی پارٹیوں کی حکومت کی تائید کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو خاموش کروانے اور قدامت پسند پارٹیوں کے حامیوں کی تسلی کے لئے 12 روزہ مذاکرات کے آخر میں باہمی تعاون کا ایک معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔
اس معاہدہ کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہے۔ قدامت پسند گروپ کی دو چھوٹی پارٹیاں کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی اور وینسترے پارٹی کی اپنے انتخابی وعدے ، منشور اور پارٹی کانگرییس کے فیصلوں کی وجہ سے ہائرے کی قیادت میں بننے والی حکومت کی حمایت کرنے کی پابند ہیں۔ اس کے لئے کسی قسم کا معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن سیاسی مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ اب اس گروپ کے حامی اس معاہدے کو ایک ٹھوس دستاویز کا نام دینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ دونوں چھوٹی پارٹیوں کے قائدین کل رات جب ایک پریس کانفرنس میں اس حوالے سے سوالوں کے جواب دے رہے تھے تو ان کی مسکراہٹ اور بظاہر خوبصورت و پرامید لفظوں کے پیچھے چھپی مایوسی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔
اب قدامت پسند گروپ کی دو بڑی پارٹیاں ہائرے اور فریم اسکرٹس پارٹی حکومت سازی کے لئے بات چیت کا آغاز کریں گی۔ گزشتہ دو ہفتوں کے درمیان چار پارٹی مذاکرات میں بنیادی باتیں واضح ہو گئی ہیں۔ تاہم حکومت کا اعلامیہ اور بنیادی دستاویز تیار کرنے کے لئے ان دونوں پارٹیوں کو 14 اکتوبر تک آپس میں کسی نتیجے پر پہنچنا ہے۔ اس طرح اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فریم اسکرتس پارٹی پہلی بار ناروے کی حکومت کا حصہ بنے گی اور اس کی قائد سیوینسن شاید ملک کی وزیر خزانہ بننے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
چاروں پارٹیوں نے بارہ روزہ مذاکرات کے بعد جو معاہدہ کیا ہے اس کے مطابق چاروں پارٹیاں اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ ملک میں تیل کی آمدنی کا 4 فیصد تک استعمال کرنے کا جو اصول وضع کیا گیا تھا اسے برقرار رکھا جائے گا۔ فریم اسکرتس پارٹی اس اصول کو ختم کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں تیل کی آمدنی ملک کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور بہبود کے منصوبوں پر صرف کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح بحر شمالی میں تیل کے نئے ذخائر تلاش کرنے کے حوالے سے بھی ہائرے پارٹی اس بات پر متفق ہوئی ہے کہ اس بارے میں سوجھ بوجھ اور تحمل سے کام لیا جائے گا۔ قدامت پسند اتحاد میں شامل وینسترے پارٹی ماحولیاتی نقطہء نظر سے اس قسم کی نئی تلاش کے خلاف ہے۔
اس معاہدے میں ملک میں مقیم چار سو سے زائد ایسے خاندانوں کو عام معافی دیتے ہوئے رہنے کی مستقل اجازت دی جائے گی جو کمسن بچوں کے ہمراہ سیاسی پناہ کے لئے ناروے آئے تھے۔ ان کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں لیکن کمسن بچوں کی وجہ سے انہیں ملک سے نکالنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس معاہدہ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ پتہ چل رہا ہے کہ ان بچوں کے لئے عام معافی کا کوئی معاہدہ نہیں ہؤا ہے بلکہ اس قسم کی سہولت دینے کے لئے کڑی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ ایسے پناہ گزین خاندانوں کے اصل ملکوں کے ساتھ ناروے کا لوگوں کو واپس بھیجنے کا معاہدہ Returavtale موجود نہ ہو۔ اس کے علاوہ بچوں کے والدین کو اپنی اصل شناخت کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان شرائط کے ہوتے ہوئے اس سہولت سے بہت کم خاندان فائدہ اٹھا سکیں گے۔
گزشتہ حکومت نے زبردست عوامی دباﺅ کے باوجود یہ معافی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم قدامت پسند پارٹیوں میں شامل کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کے لئے یہ معاملہ بے حد اہم تھا۔ یوں لگتا ہے کہ اب یہ مسئلہ جزوی طور پرحل کر لیا جائے گا۔ یا کم از کم کرسچئن ڈیموکریٹک پارٹی اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے قابل ضرور ہوگی۔ تاہم اس فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے آئندہ حکومت کا کوئی وزیر ہی متعلقہ قواعد میں تبدیلی کے اصول وضع کرے گا۔ اس وقت یہ بات سامنے آئے گی کہ حکومت بنانے والی دونوں پاڑتیان کس حد تک یہ ڈھیل دینے پر آمادہ ہیں۔ بظاہر فریم اسکرتس پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کے لئے اپنے نعروں اور وعدوں کے برعکس اس سیاسی شکست کو کسی حد تک قبول کیا ہے۔
اس بظاہر کامیابی کے باوجود کرسچئن ڈیمو کریٹک پارٹی کے لیڈر کنت آرلڈہارآئیدے نے کل پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا کہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ خوشگوار بات چیت کے باوجود ہمارے اور ان کے سیاسی پروگرام میں اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائرے ہماری پارٹی سے 6 گنا اور فریم اسکرتس پارٹی تین گنا بڑی ہے۔ اس لئے مشترکہ مخلوط حکومت میں چھوٹی پارٹیوں کی سیاسی ضرورتوں کے لئے گنجائش پیدا ہونا ممکن نہیں تھا۔
چاروں پارٹیوں کے مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں جو خبریں غیر مصدقہ ذرائع سے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق نئی حکومت امیگریشن اور پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسیوں کو سخت کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ فریم اسکرتس پارٹی سیاسی پناہ گزینوں کے حوالے سے سخت موقف رکھتی ہے۔ اسی طرح وہ اہل خاندان کے ویزوں کے حوالے سے بھی پالیسی تبدیل کرنے کی حامی ہے۔ وینسترے اور کرسچئن ڈیمو کریٹک پارٹیاں ان پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ تاہم نئی ستورتنگ میں ہائرے اور فریم اسکرتس پارٹی کی حکومت امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کے لئے آربائیدر پارٹی کی غیر مشروط حمایت حاصل ہو گی۔ اس طرح اس ملک کے تارکین وطن کے حوالے سے نئی حکومت کی پالیسی دلچسپی کا سبب ہو گی۔
فریم اسکرتس پارٹی کو امیگریشن پالیسی کے علاوہ ٹیکس میں کمی کے حوالے سے کچھ مراعات حاصل ہو سکیں گی۔ ان دو شعبوں سے قطع نظر نئی حکومت کے لائحہ عمل اور پالیسیوں پر ہائرے پارٹی کی چھاپ ہو گی۔ فریم اسکرتس پارٹی اس بات کو اپنی کامیابی قرار دے سکتی ہے کہ اسے اپنی 40 سالہ تاریخ میں پہلی بار حکومت میں شامل ہونے کے موقع مل رہا ہے۔ اس سے قبل سینٹر کی پارٹیوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے ہائرے کبھی فریم اسکرتس پارٹی کو مخلوط حکومت میں شامل نہیں کر سکی۔ اس بار ہائرے نے اپنی روایتی حامی اور ساتھی پارٹیوں کو چھوڑ کر نئی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح یہ فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ ہائرے کا بھی سخت امتحان ہو گا۔
اکتوبر میں نئی حکومت بننے اور نئے بجٹ کے بعد قانون سازی اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے مرحلے میں ہی یہ بات واضح ہو سکے گی کہ فریم اسکرتس پارٹی کس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتی ہے اور ہائرے کی لیڈر ارنا سولبرگ کس حد تک اپنی روایتی حامی پارٹیوں کرسچئن ڈیمو کریٹک اور وینسترے پارٹی کو ساتھ لے کر چل سکتی ہیں۔ اگر انہوں نے معاملات طے کرنے کے لئے فریم اسکرتس پارٹی کی خواہشات کے پیش نظر دوسری دو پارٹیوں کی سیاسی ضرورتوں کو نظر انداز کیا اور ستورتنگ کی اپوزیشن پارٹیوں کے تعاون سے بعض معاملات میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی تو آنے والے برسوں میں برسر اقتدار قدامت پسند پارٹیاں اور سینٹر کی پارٹیوں میں فاصلے بڑھتے رہیں گے۔
ناروے میں برسر اقتدار آنے والی نئی حکومت دریں حالات کوئی ڈرامائی اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اسے ہر مرحلے پر کسی دوسری پارٹی کی اعانت کے لئے کوشش کرنا پڑے گی۔ اس لئے احتیاط کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ نئی حکومت ایک کمزور اور تجرباتی حکومت ہو گی۔ تاہم یہ اپنی کارکردگی سے اپنی صلاحیت ظاہر کر کے اس رائے کو تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ فی الوقت تو یوں لگتا ہے کہ ہائرے اور ارنا سولبرگ کا صرف 4 پارٹیوں کی حکومت بنانے کا خواب ہی پریشان نہیں ہوا بلکہ شاید 2017ء میں انتخابات جیتنے کی امید پر بھی پانی پھر گیا ہے۔