آؤ ہم سب آنسو بہائیں
- جمعرات 03 / اکتوبر / 2013
- 5564
بانئ پاکستان محمد علی جناح ، جنھہں ہم سب قائد اعظم ، قائدِ اعظم کہتے نہیں تھکتے اور جن کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ کا بصد اہتمام لاحقہ لگاتے ہیں ، ہمارے لیے کتنے قابلِ احترام ہیں ؟
ہمارا متفقہ جواب یقیناً یہ ہوگا کہ ہمیں قائد اعظم سے محبّت ہے ۔ بہت محبت ۔ ہم اُن کے خلاف کوئی بات نہیں سُن سکتے ۔ اگر زیارت میں واقع اُن کی قیام گاہ کی بے حرمتی ہو جائے تو ہم چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا کے مینڈکوں کی ٹر ٹر سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور بے چاری سماعتوں کی قوتِ برداشت جواب دے جاتی ہے ۔
لیکن کیا ہم اُن کے وضع کیے ہوئے اصولوں کا بھی اُتنا ہی احترام روا رکھتے ہیں جتنا اُن کے نام کا ؟
کون سے اصول ؟
جی ، پاکستانیت کے تین بنیادی اصول ۔ آپ کو یاد تو ہوں گے ؟
یا میں یاد دہانی کرادوں ؟ میں حسب ذیل اصولوں کی بات کر رہا ہوں ، جن پر چل کر اِس خطے میں رہنے والے لوگ پاکستانیت کا شرف حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اصول یہ ہیں :۔
1۔ اتحاد
2۔ تنظیم
3۔ یقینِ محکم
مجھ سمیت ، ہم سب ، جوخود کو پاکستان کی مِٹّی سے جُڑا سمجھتے ہیں ، ان تینوں لفظوں کو پچھلے پینسٹھ برس سے مُسلسل دوہرا رہے ہیں لیکن یہ اصول ہیں کہ معاشرے کا عملی رویہ بن ہی نہیں پا رہے ۔ اتحاد کے نعرے کا بار بار اعادہ قوم کو اتحاد کے راستے پر نہیں چلا سکا ۔ تنظیم کا نیا نام گُڈ گورننس رکھ کر بھی ہم نظم و ضبط کا پرچم اور اپنا سر بلند نہیں رکھ سکے اور یقین ؟ یقینِ محکم تو دور کی بات ہے ، سادہ یقین بھی اس معاشرت سے عنقا ہے ۔
لگتا ہے قائد اعظم کی تقریریں ، قرار دادِ لاہور کا متن اور تحریکِ پاکستان کی تاریخ، پاکستان کے گلی کوچوں میں رسوا ہو کر طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئی ہیں ۔
ہم قائدِ اعظم کی تقریروں کا حوالہ ایسے ہی دیتے ہیں جیسے امام غزالی کی احیا العلوم کا یا امام مالک علیہ رحمت کی "موطا" کا ۔ مگر عملاً قائد اعظم کے وہ اصول جو انہوں نے پاکستانیت کے لیے مُختص کیے تھے، بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں ۔ یہ الفاظ ایسے سفید جھوٹ میں تبدیل ہو گئے ہیں جن کا کوئی استعمال نہیں ۔ لگتا ہے یہ الفاظ محض پراپیگنڈہ ہیں جو حکمران طبقات اور اُن کے زر خرید دانشور اپنی غلیظ سیاست کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کرتے ہیں ۔ مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم پاکستانیوں نے ان قیمتی الفاظ کو اپنی پریشاں فکری میں تبدیل کر دیا ہے ۔
لیکن کیا کسی کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ اس پریشاں فکری کا مداوا کرے ؟ پاکستانی معاشرت میں رائج بے نظمی ، بد امنی اور اضطراب کو سمجھے اور اس معاشرت کو امن، تنظیم اور ترتیب و تدوین سے ہمکنار کرے۔
لگتا ہے ہم سب تماشائیوں کی قوم ہیں جو گھر پھونک تماشا دیکھ کر، تالیاں بجانے کو زندگی سمجھتے ہیں ۔ کیا ہمارے لیے زندگی سچ مُچ ایک کرکٹ میچ کے برابر ہے ؟
اور ہاں ، اب تو ہمارے نئے سیاسی رہنما ، جو کرکٹ سے کینسر ہسپتال کے راستے اسمبلی میں پہنچے ہیں، باقاعدہ طور پر کرکٹ کی اصطلاحوں میں ہی سیاسی باتیں کرتےہیں ۔
ایک تماشائی کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کھیل میں براہِ راست شریک نہیں ہوتا بلکہ ایک بیرونی عنصر ہوتا ہے جسے ادب اور نفسیات کی زبان میں آؤٹ سائیڈر کہا جاتا ہے ۔ اور ایک آؤٹ سائیڈر کے لیے کھیل کی نوعیت وقتی اور عارضی ہوتی کیونکہ کھیل ختم تماشا ہضم ۔
کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے لیے من حیث القوم جمہوری انتخابات ، مارشل لائیں ، احتجاج ، کرپشن ، لوڈ شیڈنگ، ٹارگٹ کلنگ اور خود کُش بمباریاں بھی تماشے ہیں ۔ جنازوں میں ماتم ہمارے گھر کے ہنگاموں کی رونقیں ہیں۔ اخباری بیانوں کے ذریعے مظلوموں کے آنسو پونچھنا ہماری پالیسی اور ٹی وی کے ٹاک شوز میں حب الوطنی اور عوام دوستی کے اعلامیے جاری کرنا ہمارا قومی شعار ہے ؟
ملک میں جاری بحران کچھ مراعات یافتہ طبقوں کے لیے سود مند اور منافع بخش بھی ہوتے ہیں ۔ چونکہ یہ حکمران طبقے جو ایسٹیبلشمینٹ کا تاروپود ہوتے ہیں ، بحرانوں سے سیاسی ، اقتصادی اور نفسیاتی فوائد حاصل کرتے ہیں ، اِس لیے ان کو بحرانوں کے جاری رہنے اور گھر پھونک تماشوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔
مذہبی فرقہ بندی ملکی اتحاد پر لوہار کی ایک چوٹ کی طرح ہے ۔ ایک دوسرے کو کافر کہہ کر ملکی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ایک مقدس عمل قرار پا چکا ہے ۔ کفر کا فتویٰ جاری کرنا ایسا ہی سہل ہے جیسے پیٹ سے ہواخارج کرنا اور پھر انسانی جانوں سے کھیل کر ایسا تاثر دینا جیسے یہ کوئی بات ہی نہ ہو ۔
یہ فرقے اُمّت کی پریشاں نظری میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں مگر کوئی اس صورت حال کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا ۔ مذہبی ادارے جنت اور روزِمحشر کی منظر نگاری تو کرتے ہیں مگر معاشرے میں اخوت ، مساوات اور رزق کی فراہمی کی ضمانت کا پروگرام نہیں دیتے اور نہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ رب کا جو سب کا روزی رساں ہے ، سب کے لیے اتارا ہؤا رزق سب تک کیوں نہیں پہنچتا اور آبادی کا ایک بڑا حصّہ ضروریاتِ زندگی سے محروم کیوں ہے اور دجلہ کے کنارے سوئے بھوکے کُتّے کی خوراک کی ضمانت دینے والا اسلام کہاں ہے ؟
اپنی ذمہ داریوں سے رو گردانی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سسٹم کی خرابی کا رونا رویا جائے اور اپنی نالائقی اور نا اہلی کی ذمہ داری سسٹم پر ڈالی جائے ۔ ایسی صورت میں سسٹم کو فرد سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ سسٹم فرد سے بالاتر قرار پاتا ہے اور سسٹم کی قربان گاہ پر افراد کی قربانی جائز قرار پاتی ہے ۔
چانچہ سسٹم مقدس گائے ہے اور ہم ، تُم اور میر اپنی انسانی قدر کھو بیٹھے ہیں ۔ ایسے میں سسٹم کے مائی باپ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ، دائَیں بازو کے ہوں یا بائیں کے ، سول ہوں یا عسکری ، اقتدار اور اختیار کی رسّی تھامے انسانوں کی قربانی کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں ۔
ایک دوروز پہلے کسی شیطان نے میرے کان میں یہ افواہ بھی پھونکی ہے کہ اس بار عیدِ قرباں پر بہت سے اسماعلیوں کی اجتماعی قربانی ہونے والی ہے ۔ پیش گوئی کرنے والے کے مونہہ میں خاک ۔
آخر یہ سارا بحران اور مصیبت کیا ہے کہ ایک طرف گھروں میں بچے اور مائیں قلتِ اشیا اور ڈاکہ زنی کے خوف میں مبتلا ہیں اور باہر خانہ جنگی جاری ہَے ۔ کیا یہ گینگ وار نہیں ہے جو مختلف مذہبی اور سیاسی فرقوں کے درمیان جاری ہے؟ آخر وہ کون سی قدریں ہیں جو ہمیں اقلیتوں کو تہِ تیغ کرنے کا سادہ چیک دیتی ہیں کہ تعداد ہم اس میں خود لکھ لیں اور پھر جلاد بن کر لوگوں کو خون میں نہلانا شروع کر دیں ؟
المیہ یہ ہے کہ مختلف مذہبی فرقوں کے عقائد جن میں سے بیشتر غلط فہمی اور کم علمی پر مبنی ہیں ، انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی سمجھے جا رہے ہیں۔
اب آخری سوال یہ ہے کہ آیا ہم اس اپنے ایجاد کردہ عذاب کو یک دم بریک لگا کر اپنے غم اندوہ اور پریشاں روزگاری کو لگام ڈال سکتے ہیں ؟
یقیناً ڈال سکتے ہیں مگر کوئَی سسٹم انسانوں میں تبدیلی کے نہیں بو سکتا بلکہ یہ انسان ہے جو سسٹم کو تبدیل کرتا ہے اور یہی اُم الکتاب میں بھی لکھا ہے :
" لا یغییر ما بقوم حتی یغییر ما بانفسھم "
کہ فرد کو بدلے بغیر قوم کو نہیں بدلا جا سکتا ۔
اور ہم ہیں کہ ایک ایسے سست ، آلسی اور کند دماغ کی طرح ، جسے تبدیلی میں کوئی حقیقی دل چسپی نہیں ہوتی ، اُن خطبات اور تلاوت کو ہی ہر دکھ کا مداوا سمجھتے ہیں جو پچھلے پینسٹھ برس میں اس بیمار قوم کو شفا نہیں دے سکے ۔
ایسے میں بےچارہ عام آدمی جو مجبور بھی ہے اور بے اختیار بھی ، آنسو بہانے کے سوا کیا کر سکتا ہے ۔