پاکستان کی کمزور حکمت عملی

  • جمعہ 04 / اکتوبر / 2013
  • 5351

وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ، امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ لاحاصل اور بے نتیجہ گفتگو کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ وہ جس جوش و خروش کے ساتھ امریکہ روانہ ہوئے تھے واپسی پر وہ کافور ہو چکا تھا۔

اپنے تیسرے دور میں 100 دن کی حکومت کے دوران جو مسکراہٹ ان کے چہرے سے معدوم رہی اور جسے وہ اپنے مشیران اور سفارتی ماہرین کے کہنے پر من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں بمشکل اپنے چہرے پر لے آئے تھے، امریکہ سے واپسی پر وہ پھر ان کے چہرے سے مفقود ہو چکی تھی۔ ان کے وفد کے ارکان بھی ڈھیلے ڈھالے انداز میں واپس لوٹے ہیں۔

پاکستان میں موجود مسلم لیگ (ن) کے رہنما ، سرکاری میڈیا سے وابستہ اہلکار اور آزاد میڈیا میں حکومت کے کارندے اس دورے کو حیلوں بہانوں سے کامیاب قرار دے رہے ہیں اور اس کے لئے بڑی دور کی کوڑیاں نکال کر لا رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا  کہ نواز شریف اور منموہن ملاقات سے کم از کم اتنا تو ہؤا یا اس کا کم سے کم یہ نتیجہ تو نکلا۔۔۔ دراصل ناکامی کا اعلان اور اعتراف ہے۔ اینکرز کی چرب زبانی اور کالم نگاروں کی نکتہ آفرینی اس دورے کو عقلی اور عوامی سطح پر کامیاب قرار نہیں دلوا سکے گی کہ نواز شریف اور ان کے وفد کے ارکان کے چہرے کسی دوسری کہانی کی چغلی کھا رہے ہیں۔

نواز شریف کا حالیہ دورہ امریکہ دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم پاکستان کے خطاب کے حوالے سے تھا۔ یہ کوئی غیر اہم واقعہ نہیں تھا۔ ایک ملک کے منتخب وزیراعظم کو دنیا بھر کی قیادت کے سامنے اور نمائندہ فورم پر اپنا نقطہء نظر ، اپنی مشکلات ، خطے کی صورتحال ، عالم اسلام کی تکلیف دہ حالات ، بڑی طاقتوں کی مسلم ممالک میں سفاکانہ جارحیت ، اقوام متحدہ کی بے بسی و بے حسی ، ہمسایوں کی ریشہ دوانیوں اور پوری دنیا پر مسلط آگ اور خون کی جنگ کے ساتھ تیسری دنیا میں جہالت ، غربت و اجلاس اور بیماری کے بڑھتے ہوئے سائے پر گفتگو کرنے اور اپنی بصیرت کے مطابق ان کا حل پیش کرنے کا موقع میسر آ رہا تھا۔

یہ بذات کود ایک اہم ایجنڈا تھا۔ لیکن نواز شریف کے نادان دوستوں نے اسے پاک بھارت تعلقات سے جوڑ دیا۔ چونکہ خود نواز شریف بھی اس رو میں یہ کہہ چکے تھے اس لئے ان نادان دوستوں نے اپنے سیاسی ہم نواﺅں اور میڈیا کے ناسمجھ لوگوں کے ذریعے اسے اتنا بڑھا چڑھا دیا تھا کہ ہر شخص کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ نواز شریف امریکہ صرف من موہن سنگھ سے ملنے جا رہے ہیں۔ جنرل اسمبلی سے خطاب تو محض بہانہ ہے۔ یا یہ کہ جنرل اسمبلی سے تو نواز شریف کا خطاب ہو ہی جائے گا اصل بات تو ایشیا کی ابھرتی ہوئی طاقت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رخصت ہوتے ہوئے وزیراعظم من موہن سنگھ کے درشن اور ان سے ملاقات ہے۔

یار لوگوں نے اس معاملے کو اتنی بلندی پر پہنچا دیا کہ خود نواز شریف نے دورے سے قبل یہ انکشاف کر کے پوری قوم کو حیران کر دیا کہ انہیں تو قوم نے مینڈیٹ ہی بھارت سے بہتر تعلقات بنانے کا دیا ہے۔ اگرچہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانا نہ تو کوئی جرم ہے نہ گناہ۔ لیکن اگر قوم انہیں یہ مینڈیٹ نہ دیتی تو کیا وہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش نہ کرتے۔ درحقیقت نواز شریف کا یہ بیان حقائق کے منافی تھا۔ انہیں قوم نے ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔ ان کی پارٹی کے منشور میں بھارت سے تعلقات کے حوالے سے وہی باتیں درج ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کے منشور میں ہیں۔ پھر اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جس طرح لوڈ شیڈنگ، کرپشن ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے علاوہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے ایشوز کو بار بار اٹھایا اس طرح تو انہوں نے پاک بھارت تعلقات کو اپنی انتخابی مہم میں کبھی اٹھایا ہی نہیں۔ یہ کام تو انہوں نے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد شروع کیا۔

11 مئی کے انتخابات سے قبل ہی مغربی اور بھارتی میڈیا نے پاکستان میں ڈیرے ڈال لئے تھے۔ بھارتی میڈیا یہاں آنے والے صحافیوں میں تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ تھا۔ ان میں این ڈی ٹی وی کی برکی رت ، انڈیا نیوز ٹی وی کی شیتل راجپوت اور بی بی سی کے ستییش جیکب سب سے نمایاں تھے۔ 11 مئی کی رات جب مسلم لیگ (ن) کی کامیابی واضح ہو گئی نواز شریف نے پہلے ماڈل ٹاﺅن میں واقع پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کی بالکونی سے اپنے کارکنوں سے خطاب کیا۔ جس کے فوری بعد انہوں نے برکی رت اور شیتل راجپوت کو انٹرییو دیا اور ان بھارتی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

14 مئی کو نواز شریف نے جاتی امراء میں برکی رت کو تفصیلی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی۔ انٹرویو ختم ہو چکا تھا اور نواز شریف اور برکی رت انٹرویو کے بعد کمرے سے باہر نکلے۔ برکی رت نے کمال ہوشیاری سے اور شاید منصوبہ بندی کے تحت یہ سوال داغ دیا کہ کیا آپ جلد بھارت کا دورہ کریں گے جس پر نواز شریف نے کہا کہ وہ بالکل بھارت جائیں گے۔ اور غیر شعوری طور پر یہاں تک کہہ گئے کہ اگر من موہن سنگھ نے انہیں دعوت نہ دی تو وہ تب بھی بھارت چلے جائیں گے۔

یہاں سے اس سفارتی کھیل کا آغاز ہؤا جس میں پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم کی پوزیشن خاصی خراب تھی۔ نواز شریف کے انٹرویو کے اس حصے کو بھارتی میڈیا نے بار بار اور نمایاں کر کے دکھایا۔

چنانچہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نواز شریف اور من موہن سنگھ کے خطاب کا مرحلہ آیا تو اس موقع پر نواز شریف من موہن سنگھ ممکنہ ممکنہ ملاقات کا ذکر آنے لگا۔ پہلے تو بھارت کے سفارتی حلقوں نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ لیکن جب پاکستانی میڈیا اور مذاکرات کے حامیوں کا دباﺅ بڑھا تو بھارتی حکام نے اس طرح کی کسی ملاقات کے امکان کو مسترد یا قبل از وقت قرار دیدیا۔ دراصل یہ بھارت کی سفارتی چال تھی۔

پاکستانی حکام اور پاکستان میں بھارت نواز لابی جب زیادہ پریشان ہوئی اور ملاقات کے لئے بے چین نظر آنے لگی تو بھارتی حکام نے اس بات کی تو تصدیق کر دی کہ من موہن نواز شریف سے ملاقات کریں گے مگر اس سلسلے میں کوئی گرمجوشی نہ دکھائی۔ اور ملاقات کی تفصیلات طے کرنے اور اسے میڈیا کو بتانے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ جب پاکستانی ذمہ داروں اور میڈیا نے زیادہ واویلا کیا تو بھارتی حکام نے بیان دیدیا کہ بھارت بھی ملاقات کا خواہشمند ہے اور امید ہے کہ ملاقات سود مند ہو گی۔

اس پر پاکستان میں بھارت نواز میڈیا اور لابی نے بغلیں بجائیں تو بھارت طے شدہ ایجنڈے کے تحت سخت رویے پر اتر آیا۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید اور سیکرٹری خارجہ شیو شنکر مینن نے تھوڑے ملفوف انداز میں پاکستان پر الزام تراشی شروع کی۔ جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر اوباما کے ساتھ ملاقات میں زیادہ ترش رویہ اختیار کیا۔ جس پر نیویارک آئے ہوئے پاکستانی حکام ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھے اور فوری طور پر وہاں موجود جیو ٹی وی کے حامد میر اور این ڈی ٹی وی کی برکی رت کو  بلا کر ان کی نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی۔ ( برکی رت کے بارے میں وکی پیڈیا میں موجود معلومات کے مطابق وہ متنازع اور غیر ذمہ داری صحافی خاتون ہے)

اس ملاقات کے بعد حامد میر نے جیو ٹی وی پر بتایا کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ من موہن سنگھ نے اوباما سے ملاقات میں دیہاتی عورت کی طرح پاکستان کی شکائیتیں کی ہیں۔ (بعد میں حامد میر نے دوستوں کے زریعے یہ کہا کہ کہ دیہتی عورت والا لاحقہ انہوں نے خود لگایا تھا) جس کے بعد بھارتی حکام ، بھارتی میڈیا اور خصوصاً بھارتی جنتا پارٹی کے نامزد امیدوار برائے وزارت عظمیٰ نریندر مودی نے طوفان کھڑا کر دیا۔ حالانکہ برکی رت نے ابھی تک اس طرح کی کسی بات کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نواز شریف نے یہ بات نہیں کہی تھی تو حامد میر نے از خود یہ بات گھڑ لی اور ایسا تھا تو اگلا سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

اس کے بعد تو صورتحال یہ رہی کہ نواز من موہن ملاقات بھی خطرے میں پڑ گئی۔ فوری طور پر بھارتی حکام نے پاکستانی حکام کو اطلاع دی کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق من موہن سنگھ نواز شریف کی آمد پر ان کے ساتھ ناشتہ کرنے والے تھے مگر اب اسے منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ چنانچہ یہ ملاقات ناشتے کی میز پر نہیں ہو سکی۔ ملاقات میں من موہن سنگھ زیادہ پرجوش بھی نظر نہیں آئے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھارت نے پاکستانی وزیراعظم اور وفد کے ارکان کو ناشہ دینے سے انکار کر دیا تھا اس کے بعد پاکستان حکام کو یہ ملاقات ہی منسوخ کر دینی چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستانی حمیت کے اظہار کے ساتھ ملک کی سفارتی پوزیشن بھی بہتر ہوتی اور شاید بھارت بیک فٹ پر آ جاتا۔ مگر ہمارے حکمران ایسا نہیں کر سکے۔ جس کا پاکستان کے عوام اور حساس طبقوں کو شاید قلق ہے۔

سوا گھنٹے کی ملاقات میں بھارت ہی کا مؤقف نمایاں رہا۔ پاکستانی دانشوروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھارت کے بارے میں اپنی پالیسی از سر نو وضع کرے جس میں پاکستانی وقار اور مفادات سب سے مقدم ہونے چاہئیں۔ نواز شریف کی غیر واضح پالیسی ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکی۔ ان کے رویّے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بے وقعتی کے ساتھ بھارت سے تعلقات کے خواہاں ہیں یا عزت و وقار کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ وہ کبھی بیک فٹ پر آ جاتے ہیں اور کبھی فرنٹ فٹ پر آ کر ایک آدھ شاٹ لگاتے ہیں۔ جنرل اسمبلی میں من موہن سنگھ کی تقریر ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ جس میں بھارت نے طویل عرصہ کے بعد ایک بار پھر پورے زور کے ساتھ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز ٹھہرایا ہے۔ ممبئی حملوں کے معاملے کو ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔

زیادہ بہتر ہو کہ نواز شریف پاک بھارت تعلقات پر بھی ایک اے پی سی بلائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں اور پھر اس سلسلے میں ایک قومی مفادات کا تحفظ کرنے والی ایک مشترکہ پالیسی تیار کریں اور اس کی روشنی میں آگے بڑھیں۔ بھارت کے ساتھ معذرت خواہانہ رویہ نہ پہلے کبھی چل سکا ہے اور نہ آئندہ چلے گا۔