ہمارے کرتوت

  • اتوار 06 / اکتوبر / 2013
  • 5444

بنی نوع انسان کو درپیش آفات عموماً دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک قدرتی آفات جن پر انسان کنٹرول نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا اس پر کوئی اختیار ہوتا ہے اور دوسری انسانوں کی اپنی پیدا کردہ آفات۔ نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن ان دونوں اقسام کے مضمرات سے نمٹنا اور بھگتنا انسان کو ہی پڑتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع اوران میں آنے والے طاقتور زلزلے میں انسان کا کوئی ہاتھ تو نہیں تھا لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد سب سے افسوسناک پہلو جو سامنے آ رہا ہے وہ ان دہشت گردوں کے حملے ہیں جن کا سامنا امدادی سامان لیکر جانے والے قافلوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آفت زدہ اور بے اماں لوگ ان سہولیات سے بھی مستفید نہیں ہو پا رہے جو حکومت اور این جی اوز سمیت دیگر درد دل رکھنے والے لوگ ان تک پہنچانا چاہ رہے ہیں۔

زلزلے کے بعد کی دردناک صورتحال میں حکومت اور سویلین امدادی قافلوں پر حملے کرنے والے انسان نہیں درندے ہیں جو بزعم خود حریت پسند ہونے کے دعویدار ہیں۔

بلوچستان میں یہ وطن دشمن کارروائیاں ایک عرصے سے جاری ہیں اور ان میں تیزی اس وقت سے آئی ہے جب سے امریکہ کی افغانستان سے پسپائی کی خبریں بازگشت میں ہیں ۔اور بڑی بڑی عالمی طاقتیں ہزیمت اور رسوائی کے بعد راہ فرار ڈھونڈ رہی ہیں۔ لیکن پسپائی کے بعد بھی شر جاری رکھنے کیلئے پاکستان کے اس حساس علاقے میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے۔ بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک عالمی طاقتوں کا ہی چھوڑا ہؤا شوشہ ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی حکمرانوں سے بلوچستان کے ضمن میں مجرمانہ غلطیاں ہوئیں اور ہر حکومت نے ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنا چاہی اور عوام کو حقوق دینے سے انکار کرنے کی کوشش کی۔ جس کے باعث یہاں کے عوام کے مزاج میں تشدد پسندی داخل ہوئی۔ جس نے رفتہ رفتہ نجی ملیشیا اور مافیا کا روپ دھارا۔ تاہم اس کے باوجود اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان عناصر کو امداد غیر ملکی طاقتیں فراہم کر رہی ہیں۔

دوسری طرف وہ بدبخت طالبان بھی  ہیں جنہوں نے پشاور میں اللہ کے نام پر اس کے ان بے گناہ عیسائی بندوں کا خون بہایا۔ جو اپنے طریقے سے اپنے گرجا گھر میں اسی ایک اللہ کی عبادت کر رہے تھے جس کی عبادت مسلمان کرتے ہیں۔ اس سفاکی، اس ظلم اور بربریت کی اجازت ان خون آشام درندوں نے کس سے لی ؟ یہ درندے اس خدا کے نام پر معصوموں اور بیگناہوں کو قتل کر رہے ہیں جس کا واضح اعلان یہ ہے کہ ایک بیگناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

ہم مسلمان جذباتیت کے کی رو میں بہت آسانی سے یہ کہہ جاتے ہیں کہ مغرب ہمارا دشمن ہے۔ ایسا ہوگا لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن تو ہم خود ہیں۔ ہم اپنی جہالت، اپنی گمراہی اور اپنے ناقص تصور دین کے سبب اس دین برحق کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں جو پوری انسانی برادری کو امن اور آشتی کا گہوارہ بنانے کیلئے آیا تھا ۔

آج اگر ہماری کوتاہیوں اور کم عقلی کی وجہ سے امت مسلمہ عالمی برادری کیلئے مذاق بن کر رہ گئی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف ہمارے اپنے کرتوت ہیں۔ بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے معاشرے پر اب زلزلوں اور دھماکوں کی صورت میں اللہ کا عذاب نازل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔ مگر اس عہد بے اماں کے باوجود آج بھی ہم میں سے لوگوں کی اکثریت اپنا محاسبہ کرنے کو تیار نظر نہیں آتی۔