عوام کے لئے کڑوی گولی
- جمعرات 10 / اکتوبر / 2013
- 4495
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ بے حس قوموں کو ترقی کی شاہراہ پر لانے کےلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات کڑوی گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔ لیکن نواز شریف کی حکومت پاکستان کی پہلی حکومت ہے جس نے عوام کو کڑوی گولیاں دینے سے پہلے خود اور اپنے وزراء ، ارکان کابینہ کو کڑوی گولیاں نگلنے کی ترغیب دی۔ آج عوام ، وزراء کڑوی گولیاں نگل رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے یہ باتیں معروف صحافی، کالم نگار، تجزیہ کار، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر اور نوائے وقت لاہور کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی کی کتاب ’’کب راج کرے گی خلق خدا‘‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ہیں۔ اس تقریب سے ممتاز صحافیوں سید انور قدوائی، رؤف طاہر، ظفر علی راجا، سلیم بخاری کے علاوہ بیگم مہناز رفیع، منظر گیلانی، قیوم نظامی، منیر احمد خان اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری رفعت قادری نے بھی خطاب کیا تھا۔
اپنے صدارتی اور اختتامی خطاب میں پرویز رشید نے کڑوی گولی والی بات کہی۔ حالانکہ تقریب کی مناسبت سے اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ وہ دراصل دو روز قبل پارلیمنٹ میں کی ہوئی اپنی بات کو ہی دہرارہے تھے۔ جس میں انہوں نے عوام کو صبر و شکر کے ساتھ کڑوی گولی نگلنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن شاید اس پر آنے والے ردعمل کے بعد وہ اس تقریب میں یہ صفائی دینے لگے کہ کڑوی گولی تو دراصل وہ اور ان کے ساتھی وزراء نگل رہے ہیں۔
پرویز رشید کی دلیل تھی کہ ہم نے اپنی وزارتوں کے اخراجات میں 30فیصد کمی کر دی ہے۔ نئی گاڑیاں لینے کے بجائے سابق وزراء کی استعمال شدہ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ (یہ بات انہوں نے کسی قدر دلگرفتگی اور اندرونی کرب کے ساتھ کہی) اپنے دفاتر کی تزئین و آرائش نہیں کر رہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں 200 یونٹ کے بعد اضافہ اور 700یونٹ کے بعد بے تحاشا اضافہ دراصل غریب نہیں امیر طبقے اور وزراء کے لئے ہے۔ اصول یہ ہے کہ جو زیادہ بجلی استعمال کرے وہ زیادہ بل بھی ادا کرے۔
پرویز رشید کی یہ منطق بظاہر تو بہت اچھی لگتی ہے لیکن کیا وہ دو کمرے کے کسی معمولی گھر میں بھی 200 یونٹ ماہانہ استعمال کا فارمولا قو م کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ آج کے دور میں معمولی سے گھر میں کفایت کے ساتھ بھی 200یونٹ سے زائد استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح کڑوی گولی تو سب سے پہلے غریب اور بے کس عوام کو نگلنا پڑے گی۔ سرکاری افسران اور وزراء کو تو جیب سے بل دینا ہی نہیں ہو گا۔ ان کے 700یونٹ استعمال ہوں یا 7000، بل تو سرکاری خزانے سے جائے گا۔ جسے بھرنے کے لئے کڑوی گولیاں عوام کو نگلنا پڑتی ہیں۔
پھر 700یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے بھی امراء، تاجروں اور فنکاروں کے بل میں اضافہ ہو گا جسے وہ اسی خوشدلی سے قبول تو کر لیں گے لیکن وہ اس کے جواب میں اپنی مصنوعات، اشیائے تجارت کی قیمتیں بڑھا دیں گے۔ اس طرح یہ کڑوی گولی ان کے حلق سے نکل کر غریب عوام کے حلق میں جا پھنسے گی۔ وزراء کے دفاتر اورگھروں کی بجلی آج بھی نہیں جاتی۔ بلکہ موجودہ حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود عام شہری کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ ایک ایک نماز کے دوران چار چار بار مساجد کی بجلی جا رہی ہے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پسے جا رہے ہیں اور حکمران اپنے خاندانوں کے انڈوں بچوں سمیت غیر ملکی دورے کر رہے ہیں۔ اور پرویز رشید کڑوی گولیاں صرف عوام کو کھا رہے ہیں۔ بلکہ حکمران تو عوام کو یہ گولیاں نگلنے کی ترغیب دینے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔
اس تقریب میں کتاب کے نام کی مناسبت سے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ مصنف سعید آسی کا یہ سوال عجیب ہے ’’کب راج کرے گی خلق خداـ‘‘۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آج پاکستان میں خلق خدا ہی راج کر رہی ہے۔ خلق خدا کے راج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور یہ جاری رہے گا۔
کاش ایسا ہوتا لیکن کیا پرویز رشید اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ واقعی ملک میں خلق خدا کا راج ہے۔ ہم یہاں انتہائی ادب سے ان کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں کہ جناب وزیر اطلاعات خلق خدا تو بڑی دور کی بات ہے ابھی تو اس ملک میں جمہوریت اور سیاست کا راج بھی قائم نہیں ہو سکا۔ حقیقی معنوں میں سیاسی جماعتوں کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی۔ ابھی تک صرف فیملی لمیٹڈ کمپنیوں کا راج ہے جو مختلف سیاسی ناموں سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہیں۔
11 مئی تک زرداری فیملی کا راج تھا۔ ہر طرف آصف زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور اور ان کے وفادار اویس مظفر، قائم علی شاہ اور دیگر کی حکمرانی تھی۔ تحریک انصاف میں عمران خان، جے آئی آئی میں مولانا فضل الرحمن اور اے این پی ولی خان کی فیملی لمیٹڈ کمپنیاں بن گئی ہیں۔
آج ملک میں شریف فیملی کا راج ہے۔ مرکز میں نواز شریف، صوبے میں شہباز شریف اور تمام عملی اختیارات حمزہ شہباز اور اسحاق ڈار کے پاس ہیں۔ سلمان شہباز جن کا سیاست اور مسلم لیگ (ن) سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) کے بڑے سے بڑے لیڈر سے زیادہ مؤثر ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ (ن) کا جو مرکزی سیکریٹریٹ قائم ہے وہاں پارٹی کے چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دوسرے پارٹی عہدیداران کیلئے تو کوئی کمرہ یا میزبان نہیں ہے مگر اوورسیز پاکستانیوں کی رقم سے ازسرنو تعمیر ہونے والے اس سیکریٹریٹ میں نواز و شہباز کے علاوہ حمزہ شہباز، مریم نواز اور اسحاق ڈار کے پورے پورے دفاتر قائم ہیں۔
قومی اسمبلی، چاروں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی ایک ہزار سے زائد نشستوں میں سے بہاولپور کی صرف ایک غریب کارکن خاتون کو ٹکٹ دے دینے سے کیا خلق خدا کا راج قائم ہو جاتا ہے؟
آج مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں کارکن اپنے منتخب کردہ وزیراعظم سے ہاتھ بھی نہیں ملا سکتے۔ یہ بے لوث کارکن اپنے وزیراعلیٰ کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھ سکتے۔ وزیراعظم ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور جاتی امراء کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتے۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ان قربانی دینے والے کارکنوں کو اندر داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں کارکن، اس کے لاکھوں ووٹرز اور عوام اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دفاتر کے دھکے کھا رہے ہیں مگر وہاں سے انہیں ذلت اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔
پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کی دعویدار مسلم لیگ کے دور میں لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ چار ماہ کے دوران مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ بجلی کے نرخ اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ تین ماہ کے لئے گیس بند کرنے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ غریب عوام کے لئے ملک بھر میں کوئی روزگار نہیں۔ امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہر روز دس بیس افراد مر رہے ہیں۔ جی یہی خلق خدا کا راج ہے۔
پرویز رشید صاحب خلیفہ دوئم نے کہا تھا کہ دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر جائے تو جوابدہ عمر بن خطاب ہو گا۔ آج لوگ بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ گردے اور جسم کے دوسرے اعضاء بیچ رہے ہیں اور کوئی ان کی فریاد سننے والا نہیں۔
جناب والا یہ خلق خدا کا راج نہیں ایک فیملی لمیٹڈ کمپنی کا راج ہے اور کمپنیوں کے راج کا انجام تاریخ میں کبھی اچھا نہیں رہا۔