ایک عہد ساز ناول “ جنگل میں مقتل “

  • سوموار 21 / اکتوبر / 2013
  • 7735

انیس احمد کا ناول " جنگل میں منگل" ، جسے میں اپنی تفہیمی سہولت کے لیے "جنگل میں مقتل" کے عنوان تلے پڑھتا ہوں ، اس دہائی میں لکھے جانے والے اُردو ناولوں میں اپنے متن اور اسلوب کے اعتبار سے ایک بے حد اہم اور منفرد ناول ہے ۔ میں نے اس ناول کو جو کم و بیش دو سو پندرہ صفحات پر مشتمل ہے ، چھ نشستوں میں پڑھا اور اس کی خواندگی کی لذّت کو ہر نشست میں سوا محسوس کیا ۔

اس ناول کو پڑھتے ہوئے بارہا یہ سوال میرے ذہن میں عود کر آتا رہا کہ یہ پینسٹھ سالہ پاکستانی معاشرت کا منظر نامہ ہے یا ما قبلِ تقسیم کے مسلمان حکمرانوں کی تاریخ ۔ دورانِ مطالعہ ، داستان گو رنگو دادا نے گہے مجھے میر امن کے قصہء چہار درویش کی یاد دہانی کروائی ، اور گہے قرۃ العین حیدر کے ناول " آگ کا دریا" کی آنچ محسوس ہوئی ۔ اسی بیچ انتظار حسین کا "زرد کُتّا " بھی بھونکا اور اُن کا "آخری آدمی" دُم اُٹھا کر بندروں میں جا شامل ہوا ۔
 
انیس احمد کی نثر پڑھتے ہوئے بہت سے لہجوں اور اسلوبوں کو ایک پنجند میں سمٹتے محسوس کیا ۔ ناول کی نثر کے بارے میں میرا حتمی تاثر یہ ہے کہ انیس احمد بطور ناول نگار ترقی پسندوں ، جدیدیوں اور روایتی داستان گویوں کا دھنک رنگ مرقع بن کر تخلیق کے رنگ بکھیرتے نظر آئے اور یوں اپنے حسنِ بیان سے اس ناول کو اظہار و بیان کے چار چاند لگا دیے ۔
 
عین ممکن ہے بعض لوگ میرے بیان کو غلو پر محمول کریں لیکن جب دوست اس طرح کے تخلیقی معرکے سر کرتے ہیں تو اُ ن پر پیار آتا ہے ، فخر محسوس ہوتا ہے اور اُن کی دوستی کے احساس سے ، بطور قاری ، سر رشک سے بلند ہوجاتا ہے ۔
 
اِس ناول کا پلاٹ کیا ہے ؟ اسکی بنیادی کہانی کیا ہے؟ اس کا جواب دینا آسان نہیں کیونکہ ایک طرف تو یہ ناول دانشمند اُلّو بودم کی داستانِ حیات ہے اور دوسری طرف طوطا بخت کی بد سیاستیوں کا قصّہ۔ تیسری طرف رنگو دادا ہیں جو ایک سکول ماسٹر کی طرح بچوں کو تاریخی کہانیاں سناتے ہیں اور چوتھے مُلا خروس ماکیانی ہیں ، جن کا ہدف آبِ حیات ہے ۔ یہ اس ناول کے چار ستارے ہیں جو مل کر ایک چار ستاروں والے عسکری جرنیل کی وردی میں مدغم ہونے کا تاثر پیش کرتے ہیں ۔
 
یہ کہانی جہاں وقوع پذیر ہو رہی ہے ، وہ ایک جنگل ہے اور جنگل کے قانون کے تصور سے ہم سب آگاہ ہیں کہ جنگل کا قانون در اصل ردِ قانون ہے ۔ چنانچہ ایسی جگہ جہاں لاقانونیت ہو وہاں کی بد نظمی کو جنگل کے قانون سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اور کسی ایسی معاشرت پر ، جس کے اعلی ادارے آئین کی تنسیخ اور قانون کے تعطل کو چائے کا کپ سمجھتے ہوں ، جنگل کے قانون کا استعارہ منطبق ہوتا ہے ۔
یہ وہ نقطہ ہے جس کا ذکر آسمانی کتابوں نے کیا ہے کہ جب انسان قانون کی پابندی ترک کردے تو وہ انسان نہیں رہتا بلکہ بندر بن جاتا ہے ۔ نقال اور جعلساز ۔
 
بندر بن جانا یا بنا دیا جانا ایک علامت یا نشانی ہے ، جسے اُم الکتاب آیت کہتی ہے ۔ بندر انسان کے مقابلے میں کم تر مخلوق ہے ، اور اگر میں برہنہ اظہار کو اپنے لیے جائز قرار دوں تو بندر بن جانا انسانی سطح سے گرجانے کا کنایہ ہے ۔ جس سے اہلِ تصوف یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شریعت یعنی مروجہ قانون کی پابندی نہ کرنے والے انسانوں کے منصب سے محروم ہو جاتے ہیں اور جب ایسا ہو جائے تو شہر جنگل بن جاتا ہے اور اسی جنگل کی کہانی انیس احمد نے لکھی ہے ۔
 
انیس احمد کے دریافت کیے ہوئے جنگل سے گزرتے ہوئے ، بصد شدّت یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کے اردگرد جو انسان نما جانور ہیں ، وہ جانے پہچانے سیاسی اور سماجی کردار ہیں ، جو سیاسی سٹیج پر کرتب دکھاتے دکھاتے مقبول مسخروں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان جنگلوں میں اچانک میری نظر مولانا جلال الدین رومی پر پڑتی ہے ،جو دن کی روشنی میں ، جلتا ہوا چراغ ہتھیلی پر رکھے ، انسان تلاش کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں:
دے شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دام و دد ملوم و انسانم آرزوست
زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت
شیرِ خُدا و رستمِ دستام آرزوست
 
اس ناول کا ایک اور مخصوص داستانی خال وخد آبِ حیات کی تلاش ہے ، جو ملا خروس ماکیانی کے حوالے سے عدل کی قبر سے برآمد ہوتا محسوس ہوتا ہے ۔ آبِ حیات کا استعارہ ایک مردہ معاشرے میں زندگی کی تلاش کا کنایہ ہے ۔یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں قبروں کی تعداد گھروں سے زیادہ ہے ، اور دانشمندی کا سمبل بودم ، جو آبِ حیات پی چکا ہے ، اس مرگِ مُسلسل کی فضا میں زندہ رہنا نہیں چاہتا اور ٹھہرے ہوئی غلیظ پانی کے سڑتے ہوئے معاشری جوہڑ سے آبِ مرگ پی کر زندگی کو خیر باد کہ دیتا ہے ، بالکل اُسی طرح جس طرح انتظار حسین کا "آخری آدمی " بندروں میں شامل ہو جاتا ہے ۔
 
کہانی پر انیس احمد کی گرفت بے حد مضبوط ہے ۔ وہ تمام کرداروں کو قلم کی رسی پر کاٹھ کی پُتلیوں کی طرح اس طرح متحرک رکھتے ہیں کہ وہ زندگی سے بھرپور نظر آتی ہیں ۔ ایک ماہر فلمی ہدایت کار کی طرح وہ اس ناول کے منظر نامے کو بڑی مہارت ، نفاست ، سلیقے اور فنّی پختگی کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔
 
انیس احمد کو ز بان پر جو عبور حاصل ہے وہ ایک ایک جملے سے عیاں ہے اور ناول کو پڑھتے ہوئے بار بار متن کی ہیئت اور ساخت و پرداخت پر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ مگر کتاب پڑھتے ہوئے کتابت یا کمپوزنگ کی غلطی خواندگی کے کباب میں ہڈّی بنتی ہے تو یارِ سُخن طراز ساقی فاروقی کا نسخہ یاد آتا ہے کہ کتاب پڑھتے جاؤ اور کمپوزر کو بے نقط سناتے جاؤ ۔
 
 انیس احمد نے اپنے ناول میں جس طلسم کاری کے ساتھ ایسٹیبلشمنٹ کا کچا چٹھا بیان کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ ایک اُجڑے ہوئے معاشرے کی پسِ پردہ قوتوں کی، جن میں فوجی لشکر ، شرعی لشکر ، عدالتی لشکر اور لشکرِ دانش و فرہنگ شامل ہیں ، اچھی طرح خبر لی ہے ، بلکہ زیادہ واضح اور موزوں الفاظ میں اُن کی شلوار سے ازار بند ہی کھنچ لیا ہے ۔
تالیاں ۔ ۔ ۔
 
یہ ناول جمہوری پبلیکیشنز لاہور سے فرخ سہیل گوئندی کے زیرِ اہتمام شائع ہؤا ہے۔ جس کا سر ورق مصباح سرفراز نے خوب  بنایا ہے ۔  کتاب 215 صفحات پر مشتمل ہے ۔ پاکستانی سکے میں کتاب کی قیمت چار سو ساٹھ روپے ہے ۔ اور مصنف کے اس ضمنی نوشتے کے باوجود کہ ناول کے تمام کردار ، مقامات اور واقعات فرضی ہیں ، قاری کو بالکل اصلی لگتے ہیں ۔
انیس احمد ، جنگل میں یہ منگل مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔