’’ گو امریکہ گو ‘‘
- جمعرات 24 / اکتوبر / 2013
- 5688
اس بات میں یقیناًکوئی مبالغہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک اور پاکستانی دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو سب سے زیادہ امداد بھی امریکہ سے وصول کرتے ہیں اور سب سے زیادہ نفرت اور گالیاں بھی اسی کو دیتے ہیں۔
ہمارے دوغلے پن کی انتہا تو یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت نفرت کے مستحق امریکہ کے ویزے کیلئے ہر وقت مادر وطن پر دو حرف بھیجنے کو بھی تیار رہتی ہے۔ ہمارے رویوں کا یہ دوغلا پن ہی ہمارے کئی مسائل کی اصل جڑ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ امریکہ جو عالمی حقوق کا چیمپئن بنا پھرتا ہے ، اصل میں خود انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے زیادہ ذمہ دار بھی ہے مگر ہمیں بھی اپنے تمام مسائل کیلئے کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا۔
وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران زیادہ زور ڈرون حملے روکنے پر دیا۔ مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ڈرون حملے روکے جانے کی صورت میں پاکستان ان شدت پسندوں کیخلاف کیا کارروائی کرے گا۔ حکومت پاکستان کے پاس اس وقت پلان بی اور سی تو کیا پلان اے تک بھی نہیں ہے۔ حکومت صرف اور صرف ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کر رہی ہے اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ عرصہ تک بادشاہت کے مزے لوٹنا ہے۔
ڈرون حملے یقیناً پاکستان کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کیخلاف ہیں مگر امریکہ کو ڈرون حملوں کا جواز کس نے فراہم کیا؟ طالبان کیخلاف زمینی کارروائی کے ہم خلاف ہیں، ڈرون حملے رکوانے کے لئے بھی تیار بیٹھے ہیں تو پھر آپشن کیا بچے گا؟۔ امریکہ اور پاکستان نے بہت بار ایک دوسرے کے بازو آزمائے ہوئے ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر کلی طور پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ کبھی بھی ڈرون حملے بند کرنے کا آپشن عمل میں نہیں لائے گا اور یہ بات طالبان بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے لئے ان کا سارا زور ڈرون حملوں کی بندش پر ہے۔
ڈرون حملوں کے بڑے مخالفین میں آج وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اگر متحدہ مجلس عمل عرف ایم ایم اے ( جسے بجا طور پر ملا ملٹری الائنس بھی کہا گیا) پرویز مشرف کو کندھا فراہم نہ کرتے تو یقیناًآ ج صورتحال اتنی زیادہ خراب نہ ہوتی اور نہ جنرل صاحب کو شتر بے مہار کی طرح من مانیاں کرنے کا موقع ملتا۔
پاکستان میں شدت پسندی کی بڑی حد تک ذمہ دار یہی مذہبی جماعتیں ہیں جو وقت آنے پر اپنی وفاداریاں بدلنے میں یدطولیٰ رکھتی ہیں۔ پاکستانی سیاست ( جس کی گنگا دنیا سے الٹی بہتی ہے) میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو اکیڈمی کا درجہ دیا جاتا ہے اور وہی طالبان کے پرجوش حامی اور معاون و ممدوح بھی ہیں۔
ہمارے بڑے بڑے جید مذہبی رہنماؤں کے بچوں عرف طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی آئینی حدود کے اندر مذاکرات ناقابل قبول ہیں اور یہ مذاکرات تب تک نہیں ہو سکتے جب تک ڈرون حملے بند نہ ہوں۔ طالبان کا لہجہ ایک ایسے فاتح کی مانند ہے جو کہ سمجھتا ہے کہ اس کا مدمقابل پہلے ہی شکست کھا چکا ہے۔ لہٰذا اس سے اپنی شرائط منوانا آسان ہے۔ اگر مذاکرات پاکستانی آئین کی حدود میں نہیں ہوں گے تو ان کی نوعیت کے بارے تاحال کوئی نہیں سوچ رہا ۔ یہ صورتحال تو اس طرح ہو گی جیسے دو ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہو۔
قرائن بتا رہے ہیں کہ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہ آسانی سے افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اسلامی امارت قائم کر لیں گے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کی اکثریتی سیاسی و مذہبی قیادت سادہ دلی یا سیاسی عیاری سے مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کیلئے پاکستان کا جہادی تنظیموں کے بارے میں رویہ تشویش کا باعث رہا ہے اور مستقبل کے تعلقات میں کلیدی حیثیت کا حامل بھی ہے۔ پاکستان کا جنگجوؤں کے بارے میں تذبذب یا ابہام دنیا کیلئے قابل قبول نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈرون حملوں کو عارضی طور پر بھی رکوا نہیں سکتا۔
ڈرون حملوں کے معاملے سے قطع نظر پاک امریکہ تعلقات میں کچھ بہتری آ رہی ہے۔ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 322 ملین ڈالر پاکستان کو دے دئیے ہیں۔ اسی طرح فوجی اور معاشی امداد کے لئے 1.6 بلین ڈالر بھی جاری کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ کو گالیاں ہی دینا ہیں تو پھر اس کے سامنے دست سوال پھیلانے کا کیا تک بنتا ہے۔ یا تو ہم خود دار قوم بنیں اور مرتے مر جائیں مگر کسی سے بھیک نہ مانگیں اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر بہت سارے کڑوے گھونٹ پینا ناگزیر ہے۔ اس وقت ہماری مثال سو جوتے اور سو پیاز کھانے والے کی طرح ہے۔
آج پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کو حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے جذباتی اور جوشیلے نوجوانوں کو ’’ گو امریکہ گو ‘‘ کے نعرے لگوانے کی بجائے اگر سچائی سے آگاہ کرتے ہوئے نیک نیتی سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا شمار آنے والے سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں نہ ہو سکے۔