ناصر سے باصر تک ۔۔ گریز کی گواہی

  • اتوار 27 / اکتوبر / 2013
  • 7189

شاعری میرے لیے معلوم کی سرحدوں کو عبور کر کے شعور کے پار اُترنے کا عرفان ہے ۔ ایک وجدانی ریاض ہے ۔ ایک روحانی مراقبہ ہے ۔ میں نے لاہور کی مال روڈ پر رات کے پچھلے پہروں کی پسپائی کے دوران اقلیمِ سُخن کے اُس عارف کو جسے ناصر کاظمی کہا جاتا ہے ، شب زندہ داری کے وظیفے میں محو دیکھا ہے ۔ وہ تحرکِ ذات اور فکر و تدبر کا ایک سیارہ ہے جو کائنات حرف و صوت کے گرد چکر کاٹ رہا ہے اور وہ چکر تا دمِ تحریر تمام نہیں ہؤا ۔

ناصر کے شعری شجر کا بیج جب مزرعِ وقت میں بویا گیا تو باصر کا آہنگ زمینِ شعر سے پھوٹا ۔ سلطانِ سُخن کے تخت کا وارث ۔ لیکن میرے لیے اس وراثت کی منتقلی کی فرد ، گریز کی دستاویز ہے ۔ جنریشن گیپ کے تمام تر لوازمات اور تقاضوں کے ساتھ ۔
جب باصر سلطان کاظمی کا شعری مجموعہ " چمن کوئی بھی ہو " ، بہم ہؤا تو مجھے ناصر یاد آئے :۔
طنابِ خیمہ ء گُل تھام ناصر
بڑے زوروں کی آندھی آ رہی ہے
 
یہ آندھی ماضی کے زرد پتوں کو اُڑا لے گئی اور لے جا کر یا تو سُخن کے سمندروں کی پایابی کی نظر کر دیا یا عمق بُرد کر دیا ۔ اور پھر  اس بحر کی تہ سے جو موتی اُچھلا اُس پر رقم تھا :۔
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
 
یہ ایک صاحبِ حال عارف کا حسبِ حال شعر ہے جو ناصر کے لاہور میں نہیں ، باصر کے مانچسٹر میں تخلیق ہؤا ہے ۔ یہ افقی سفر کا پیرایہ ہے جس کا مزاج عمودی ہے ۔ آندھی میں خیمہ ء گُل کی طناب چھوٹ جائے تو پھول اپنی خوشبو کے دوش پر رنگوں کے پر پہن کر پرواز کرنے لگتا ہے ۔ خاک کے ان پروں کی طاقتِ پرواز تخلیقی وارداتوں کو جنم دیتی ہے لیکن اپنی اصل سے رشتہ منقطع نہیں کرتی ۔
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سُخن میں لوگ
 
شعاعِ تخلیق کا جو خط ناصر کی صراط تھا ، باصر اُس کی توسیع کے طور پر اپنا جہانِ حرف و صوت تخلیق کر رہا ہے۔ مگر ایک گریز کے پیرائے میں اور ایک نسبتاً تازہ تر لہجے میں ۔ قصیدے میں ، تشبیب سے غزل تک کے مرحلے کی طرح دلدار اور دلنواز ادا کے ساتھ ۔ باصر کے سُخن میں دلنوازی کا وہی سلیقہ ہے جو ناصر کی غزلوں کا خاصہ رہا ہے لیکن اس میں باصر کا اپنا عہد اور مشاہدہ بولتا ہے ۔
خُدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی
ہمیں بلند ئ معیار نے ہلاک کیا
 
ناصر کی غزل کے معیار کو سامنے رکھ کر ایک نیا شعری عہد تخلیق کرنا سہل نہیں ہے ۔ کیونکہ ہر شاعر کا بیٹا شاعر اور ہر پیغمبر کا بیٹا پیغمبر نہیں ہؤا کرتا ۔ اسی لیے نظامی گنجوی نے اپنے پوت کے پاؤں پالنے میں دیکھے تو ازرہِ وصیت و نصیحت کہا :۔
 در شعر مجو ہیچ نیک نامی
کہ ایں ختم شدہ است بر نظامی
 
مگر ناصر نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔  اور باصر کے لیے کوئی ایسا پند نامہ مرتب نہیں کیا جس میں اس کے تخلیقی املاک سے عاق کیے جانے کا اشارہ ملتا ہو ۔ اور یہ باصر کی خودداری ہے کہ وہ ایک لائقِ تقلید باپ کا فرزند ہوتے ہوئے بھی اپنی راہ الگ تراش رہا ہے ۔ باصر کاظمی کہتے ہیں :۔
اب اس سے بڑھ کے کیا نام و نسب ہو
میں آدم ، ابنِ آدم ، ابن آدم
بہت چھوٹی سی اپنی سلطنت میں
منم سلطان ، ہم سلطان زادم
 
یہ چھوٹی سی سلطنت ایک مسیحا نفس کی ہتھیلی پر رائی کے بیج کا استعارہ ہے  ، مگر جب یہ بیج درخت بنتا ہے تو اپنے ثمر سے شرف پاتا ہے ۔
اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے
اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب
 
لیکن کون سا ثمر اور کیسا شجر ؟۔
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہُنر کی منتطر
آخرش سر پھوڑنا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
 
باصر سلطان کاظمی نے اپنے شعری ورثے کو جس ذمہ داری سے سنبھالا ہے ، جس لگن اور پیوستگی سے اُس کی دیکھ بھال کی ہے اور جس تخلیقی اُپج سے اُس کی ساخت اور پرداخت کو نیا روپ دیا ہے وہ اُس کے شعری مجموعے سے پوری طرح عیاں ہے ۔
 
باصر کی شعری کائنات اُن اعلی تخلیقی قدروں سے منسلک ہے جس کا جنم پیغمبروں کے صحیفوں میں ہؤا اور جسے شہیدانِ حق لے کر چلے ، جسے منصور کے دار بردار عشق نے زندہ کیا اور جسے رومی اور اقبال نے  اپنی شرح و تفسیر سے حیاتِ جاوید بخشی ۔ چانچہ باصر کی کلک نوازی نے سُخن کا جو نغمہ ایجاد کیا اُس سے بھی اُسی روایت کی صدا آئی :۔
مری دانست میں نام محمد
کلیدِ ہر دوعالم ، اسمِ اعظم

یہ وہ تخلیقی نغمگی ہے  جو مسجد کے مروجہ مذہب کا صریح انکار ہے کیونکہ اسمِ اعظم نہ تو امام اعظم ابو حنیفہ کی فقہ کا رہین ہے اور نہ غوثِ اعظم کی غنیۃ الطالبین کا ، بلکہ یہ وہ نام ہے جو صادق اور امین کی صداقت اور امانت داری کی موضوعی اور معروضی ، عملی اور علمی اقدار کی مستند گواہی ہے ۔ یہ گواہی رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی اتھاہ اور بے پایاں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہفت قلزمی آبِ حیات ہے جس کو نہ کوئی ابلہِ مسجد چکھ پاتا ہے اور نہ خود جبریل کہ اس راستے میں جبریل بھی  کہہ اُٹھتے ہیں :۔

اگر یک سر موئے بر تر پرم

فروغِ تجلی بسوزد پرم

 
لیکن تجلی کے قاب قوسین سے مشرف ہونا صریرِ خامہ کی حدود میں تو پڑتا ہے لیکن یہ راز اور نقطہ کسی نا فقیہہ اور خود ساختہ شیخ الاسلام کی نگاہ پر افشا نہیں ہوتا ۔
 آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اس کا حصول
جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیر
 
باصر نے جام شبیر کی جس شرط پر نظر رکھی ہے وہ جامِ شہادت کی شرط ہے اور یہ کوئی عاشق ہو یا سچا شاعر ، وہ لمحہ بہ لمحہ راہِ حق میں جامِ شہادت نوش کرتا چلا جاتا ہے کیونکہ شبیریت جو اسلام کا جوہر ہے، حق و صداقت کے لیے جان کی بازی لگانے کا چلہ ہے ۔
جامِ شبیر کا استعارہ مجھے علی اور حسین تک لے جاتا ہے ، جو ناصر اور باصر تک آتے آتے اپنے اصل تصور کے ازسرِ نو اعادے اور احیاء کا فکری اور شعری امکان بنتا نظر آتا ہے ۔
اس کاروبار عشق میں ایسی ہے کیا کشش
پہلے پدر خراب ہو ا پھر پسر خراب
 
اور ان سطور کے راقم نے پدر کی خرابی تو دیکھی تھی مگر اب پسر کی فرمانبرداری بھی دیکھ رہا ہے اور اس منظر نامےکا کمال یہ ہے کہ اس ربط کے درمیان گُلِ اقبال کی خوشبو بھی اپنی مہک ارزاں کر رہی ہے :۔
 
صدق خلیل بھی ہے عشق ، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ ء وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق
 
لیکن یہ انتباہ پیش نظر رہے کہ رومانی شاعری کی روایت میں عشق ڈھونڈنے والوں کو یقیناً مونہہ کی کھانی پڑے گی کیونکہ ان میں سے اکثر نہ تو اقبال کو جانتے ہیں اور نہ ناصر کو ۔ مگر میری دعا ہے کہ باصر اپنی صدا کے بھرم اور نوا گری کے اعتبار سے اُن بے بصیرتوں کو محبت کا نقطہ سمجھانے میں کاماب ہوں اور انہیں اپنی طرح باصر بنا دیں ۔ صاحبِ بصیرت باصر ۔ اور یہ ایک شاعر کی دعا نہیں بلکہ ناصر کے ایک پرستار کی دعا ہے ۔
اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے
------------
 

8 اگست 2010 ۔ مسعود منور کی ڈائری کا ایک ورق