پاکستانی وقار کی جھوٹی علامتیں
- اتوار 27 / اکتوبر / 2013
- 4498
پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے دنیا بھر میں اکثر موضوع بحث رہتا ہے۔ اسلامی انتہا پسندی چونکہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اور اس رویہ کو اپنانے والے دنیا بھر کی اقوام کے لئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں ، اس لحاظ سے سب ممالک یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ذہنیت کیوں کر پیدا ہو رہی ہے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ اب یہ معاملہ محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں رہا۔ بلکہ گزشتہ چند دہائیوں میں اس ذہنیت نے ایسے پر پرزے نکالے ہیں کہ بعض انتہا پسند عناصر نام نہاد جہاد کے نام پر اقوام عالم پر جنگ مسلط کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اس کا عملی آغاز تو بہت پہلے ہو چکا تھا لیکن 2001ء میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر کئے گئے حملے نے اس مسئلہ کو انتہائی سنگین شکل دے دی تھی۔
9/11 کے بعد دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کی حکومت اپنی سرزمین پر ہونے والے اس حملہ کا بدلہ لینے کے لئے اس قدر بے تاب اور بے قرار تھی کہ اس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یہ انتہا پسندانہ طرز عمل اس وقت امریکہ کے صدر جارج بش کی اس ڈاکٹرئن سے مزید عیاں ہو گیا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں یا تو آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔ یعنی امریکہ نے اس وقت غیر جانبدار رہنے کے تمام امکانات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ نےاس قومی غیض و غضب کے عالم میں پہلے افغانستان پر حملہ کیا اور اس کے بعد عراق کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ بعد میں یہ بات ثابت بھی ہو گئی کہ عراق کی جنگ بلا جواز شروع کی گئی تھی اور صدام حسین کے عراق میں القاعدہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن غصے میں کئے گئے اگر انفرادی فیصلے غلط ہوتے ہیں تو اس سانحہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ غصے میں کئے ہوئے قومی فیصلے بھی غلط ہو سکتے ہیں اور قوموں کو ان غلط فیصلوں کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
عراق پر جنگ مسلط کرنے کی قیمت امریکہ کے علاوہ عراق اور اس پورے خطے کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اگرچہ امریکی افواج اب عراق سے نکل چکی ہیں لیکن اس 8 سالہ جنگ کے نتیجہ میں جو ہیجان اور ابتری مشرق وسطیٰ میں پیدا ہوئی اس نے اب کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہؤا ہے۔ اسی صورتحال میں عرب بہار کی تحریک نے بھی جنم لیا۔ اس تحریک کے بارے میں بھی اب کہا جا سکتا ہے کہ اس نے جمہوریت اور عوامی حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے بدامنی ، عدم استحکام اور شدت پسندی کو ہی فروغ دیا ہے۔ اس کے مظاہر ہم مصر ، لیبیا اور یمن میں دیکھ چکے ہیں۔ افریقہ کے کئی ممالک بھی اب اسی قسم کے رویوں کی لپیٹ میں ہیں۔
امریکہ نے القاعدہ کی سرکوبی کے لئے افغانستان پر حملہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس کے نتیجے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا عفریت اب پاکستان کی حدود تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان کے اس وقت کے فوجی سربراہ پرویز مشرف نے امریکی دباﺅ کے باعث امریکہ کا ساتھ دینے اور دہشت گردی کی جنگ میں فریق بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان خود اس مشکل میں گرفتار ہو گیا۔ گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کی شہری آبادیوں پر دہشت گرد حملوں میں 50 ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ فوجی شہادتوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔
مذہب کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی اس انتہا پسندی کے نتیجے میں 2009ء میں سوات کے پرامن جنت نظیر علاقوں پر ان قوتوں کا قبضہ ہو چکا تھا جو ہر قسم کی بنیادی انسانی اقدار کو پامال کرنے کے درپے تھے۔ وہ ہر قسم کا قانون ماننے اور اصول و ضابطے کی پابندی کے خلاف تھے۔ صورتحال انتہائی ابتر ہونے پر پاکستانی افواج کو کارروائی کر کے ان علاقوں میں امن بحال کرنا پڑا تھا۔ اب تک یہ علاقے فوج کی حفاظت اور نگرانی میں ہیں۔ ملک میں جمہوری نظام مروج ہونے کے باوجود سوات کی وادی میں اب تک سول انتظام پوری طرح بحال نہیں ہو سکا ہے۔
اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں فوج کی ایک کثیر تعداد انتہا پسند گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی تنظیم مسلسل مذاکرات کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ یہ اس قدر منہ زور ہو چکی ہے کہ یہ آئین پاکستان اور ملک میں جاری نظام کو مسترد کرتی ہے اور افواج پاکستان کو اپنا دشمن قرار دیتی ہے۔
بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام میں ان عناصر کے خلاف واضح اور دوٹوک مخالفانہ رویہ سامنے آنے کی بجائے ایسی سیاسی قوتیں زور پکڑ رہی ہیں جو انتہا پسندوں کی تائید و حمایت اور دوسرے لفظوں میں ان کے فروغ کا سبب بن رہی ہیں۔ شروع میں مٹھی بھر ایسی مذہبی تنظیمیں اور گروہ ان انتہا پسند عناصر کی حمایت کرتے تھے جو ان باغی نوجوانوں کے سرپرست کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ تاہم آہستہ آہستہ ملک کی قومی سیاسی جماعتوں نے بھی پروپیگنڈا کی اس جنگ میں انتہا پسند عناصر کی پشت پناہی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ اسی صورتحال کی وجہ سے حکومت سمیت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں انتہا پسندوں اور ان کی دہشت گردی کو مسترد کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود کسی نہ کسی طرح ان کی قوت کا سبب بھی بن رہی ہیں۔
یہ صورتحال مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر کئے جانے والے مسلسل پروپیگنڈا کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ عام آدمی کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ کون سا کام ملک و قوم کی دشمنی ہے اور کون سے اقدامات سے اسلام اور دینی شعائر کی خدمت کی جا رہی ہے۔ ان تمام باتوں کو جان بوجھ کر اس قدر خلط ملط کر دیا گیا ہے کہ قومی مفادات پر کاری ضرب لگانے والوں کو ہی عام آدمی کی ہمدردیاں حاصل ہونے لگی ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال اسلام آباد کی لال مسجد کا سانحہ ہے۔ اس کے خطیبوں نے نہ صرف افواج پاکستان کے خلاف فتوے جاری کئے بلکہ انہوں نے ڈنڈا بردار فورس کے ذریعے شہر کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ حکومت کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں یہ مرکز تو ختم ہو گیا لیکن انتہا پسندوں کی پروپیگنڈا مشینری نے اس مرکز کو قومی غیرت کی علامت بنا کر بچے بچے کو یہ بات ازبر کروا دی ہے کہ لال مسجد میں بے گناہوں کو شہید کیا گیا تھا۔
اس کی دوسری مثال ڈرون حملے ہیں۔ یہ حملے حکومت پاکستان کی صوابدید سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو ٹارگٹ کرنے کے لئے شروع کئے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دس برس میں ان حملوں میں 2200 افراد مارے گئے ہیں جن میں 300 سویلین بھی شامل ہیں۔ لیکن اب پاکستانی عوام کو ان حملوں کے بارے میں یہ سبق یاد کروایا گیا ہے کہ یہ حملے قوم کی خود مختاری اور غیرت پر حملہ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف خود اس نقطہء نظر کے سب سے بڑے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔
اس کی تیسری مثال ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے۔ امریکی شہریت یافتہ یہ خاتون امریکہ کو مطلوب چھ خطرناک ترین دہشت گردوں میں شامل تھی۔ اس کا ماضی مشتبہ کارروائیوں سے لبریز ہے لیکن چند برس کی میڈیا مہم جوئی کے ذریعے اب یہ عورت پاکستان میں قومی ہیرو بلکہ ” مادر ملت “ کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور پاکستان کا بے بس وزیراعظم امریکی صدر سے ملاقات کے دوران اس سوال پر بات کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ فہرست طویل ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ قومی وقار کی پہچان کے لئے یہ علامتیں کھڑی کرنے والے کون لوگ ہیں اور آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ اس طرح قوم کو ایک جذباتی کیفیت سے دوچار کر کے آخر ملک و قوم کا کون سا بھلا کیا جا رہا ہے۔ کون یہ بات سمجھا سکتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ، شکیل آفریدی کی امریکہ روانگی ، ڈرون حملوں کی بندش یا لال مسجد کی بحالی سے اس ملک کے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ مسائل جان بوجھ کر حقیقی مسائل اور صورتحال سے گریز کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں۔
پاکستان کا حقیقی مسئلہ جہالت ہے۔ پاکستان میں بجلی ناپید ہے۔ گیس ختم ہو رہی ہے۔ وزیر پانی و بجلی بتا رہے ہیں کہ پندرہ برس میں پاکستان میں پانی کی اس قدر قلت ہو جائے گی کہ صورتحال ایتھوپیا سے بھی ابتر ہو گی۔ ملک کے 60 فیصد سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں۔ قومی سطح پر بیزاری اور مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ ملک بھر میں بدامنی اور لاقانونیت کا راج ہے۔ بدعنوانی کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سیاسی ابتری زوروں پر ہے۔ لیکن ہمیں ان مسائل کا حل بتانے کی بجائےامریکہ مردہ باد کا نعرہ لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
پاکستان کے وقار کی غلط علامتیں پاکستانی عوام کو جاہل ، ان پڑھ ، گمراہ اور محروم رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ آخر کوئی ہے جو ان رویوں کے خلاف آواز اٹھائے۔