بلدیاتی انتخابات کا “اونٹ“

  • سوموار 28 / اکتوبر / 2013
  • 5351

سپریم کورٹ کے حکم پر دسمبر کے پہلے ہفتے تک بلدیانی انتخابات کرانے کا حکومتی اعلان ہو چکا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں اور وفاق کو نومبر کے آخری ہفتے تک بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں آئین و قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا واضح اعلان کیا تھا۔

سپریم کورٹ اس سے قبل 15 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے چکی تھی۔ لیکن کسی صوبے یا وفاق نے اس پر رتی برابر عملدرآمد نہ کیا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے اپنے تازہ حکم میں خاصی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالت بلدیاتی انتخابات کو کس قدر اہمیت دے رہی ہے۔ جبکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ان احکامات کو کس طرح نظرانداز کررہی ہیں۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ یہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتیں یا پھر اس کے لیے ان کی پوری تیاری اور ہوم ورک موجود نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں بلدیاتی اداروں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سندھ حکومت نے 27 نومبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی  ہے جو اس سے پہلے دسمبر سے قبل ایسا کرنا ناممکن قرار دے رہی تھی۔ پنجاب حکومت نے فوری طور پر الیکشن کمیشن کو چٹھی لکھ دی ہے جس میں کمیشن سے 7 دسمبر کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 7 دسمبر وہی تاریخ ہے جس پر1970ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے اور جن کے نتیجے میں ملک بھی دولخت ہوگیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اس اہم کیس کی سماعت کے دوران بلوچستان کے وکیل پیش ہی نہیں ہوئے۔ جبکہ خیبر پختون خوا حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ جس پر سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ حکومتوں کو ضرورت ہوتی ہے تو ایک دن میں آرڈیننس جاری کردیا جاتا ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کے لیے ایسا نہیں کیا جاسکتا! اس موقع پر چیف جسٹس نے یہاں تک کہا کہ موجودہ نظام سے صرف اشرافیہ کو فائدہ ہورہا ہے۔  نچلی سطح تک عوام کو اقتدار کی منتقلی تک بدعنوانی کا خاتمہ اور عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

نچلی سطح تک عوام کو اقتدار کی منتقلی کا واحد مؤثر ذریعہ بلدیاتی انتخابات ہیں جن کے لیے ہماری حکومتوں کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ابھی تک خیبر پختون خوا حکومت نے اس سلسلے میں ضروری قانون سازی بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہاں کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے 60 دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرادینے کا وعدہ اپنے منشور میں کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود کہ تمام صوبے 15 اگست تک بلدیاتی انتخابات کے انتظامات مکمل کرلیں، ابھی تک کسی صوبے نے یہ انتظامات نہیں کیے ہیں۔

وفاق نے اسلام آباد اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں جو انتخابات کرانے ہیں ان کا ابھی تک کسی سطح پر تذکرہ تک نہیں کیا۔  صرف پنجاب نے7 دسمبر کو یہ انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے۔ جبکہ باقی صوبوں اور وفاق نے اس سلسلے میں ابھی تک الیکشن کمیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ اسی طرح کسی صوبے نے تاحال بلدیاتی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا۔

اس قانونی کشمکش، سپریم کورٹ کی وارننگ اور حکومتوں کی عدم دلچسپی کے ماحول میں یہ انتخابات ہونے والے ہیں۔ پنجاب نے اپوزیشن کو بلڈوز کرتے ہوئے جو لوکل گورنمنٹ بل منظور کیا ہے اس کے تحت صوبے میں ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن اور 10میونسپل کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ پنجاب میں یہ انتخابات صدر ضیاء الحق دور کے کونسلرسسٹم اور پرویز مشرف دور کی ضلعی نظامت کا مرغوبہ ہے۔ خیبر پختون خوا میں یہ نظام ضلعی نظامت پر مبنی ہوگا۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان کی صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں نعروں کے سوا کوئی کام نہیں کرتیں۔ پاکستان میں اب تک جو چار طرح کے بلدیاتی نظام رائج رہے ہیں اُن میں پہلا انگریز کا دیا ہوا، دوسرا فیلڈ مارشل ایوب خان اور باقی دو ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے نظام ہیں۔ اس ملک کی سیاسی جماعتیں نہ تو اپنی اپنی سطح پر اور نہ ہی اجتماعی سطح پر کوئی بلدیاتی نظام دے سکی ہیں۔

اس تذبذب اور بے چینی کے باوجود پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ دیہات کی سطح پر مؤثر گروپ جتھہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ وہ سیٹوں کی بندر بانٹ پر صلاح مشورے کررہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ شہروں میں چونکہ سیاسی جماعتیں کسی حد تک مؤثر ہیں اس لیے یہاں جتھہ بندیاں سیاسی وابستگیوں کے ساتھ ہورہی ہیں۔

لاہور شہر میں جہاں ضلعی نظامت کے تحت 150بلدیاتی حلقے تھے اب وہاں 113 کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس طرح تقریباً دو سابقہ حلقوں کو اب تین حلقوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ شہر میں بینر اور پوسٹر آویزاں کردیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ امیدوار مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں۔ اس کی وجہ اس پارٹی کی مقبولیت نہیں بلکہ اس کا حکومت میں ہونا ہے۔

امیدوار سمجھتے ہیں کہ شہبازشریف حکومتی مشینری کو استعمال کرکے انہیں کامیاب کرا دیں گے۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کی وجہ سے اس طرف بھی امیدواروں کا رجحان موجود ہے۔ پیپلز پارٹی تاحال خاموش ہے۔ شاید مئی کے انتخابات کے شاک سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکی۔ لیکن لاہور شہر میں اور پنجاب بھر میں پیپلزپارٹی کی بلدیاتی قوت اور ووٹ بینک خاصا ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

جماعت اسلامی کی تنظیم چونکہ ہر محلہ اور وارڈ کی سطح پر موجود ہے اور 2002ء کے بلدیاتی انتخابات میں لاہور سے حافظ سلمان بٹ ایک انتہائی مضبوط امیدوار رہے ہیں اس لیے شہر میں جماعت اسلامی کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ دیگر دینی جماعتیں اگرچہ منظم انداز میں میدان میں نہیں اتر رہیں لیکن ان کا اتحاد ہوسکتا ہے اور چھوٹے حلقوں کی وجہ سے یہ اتحاد خاصا مؤثر رہے گا۔ مسلم لیگ (ق) اور اے این پی کا لاہور شہر کے بلدیاتی انتخابات میں تاحال کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں پنجاب بھرمیں خصوصاً لاہور میں مسلم لیگ (ن) کو لازماً دھچکہ لگے گا اور اگر عمران خان نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور جماعت اسلامی اور دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنالیا تو مسلم لیگ (ن) کے لیے شدید مشکلات پید ا ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں بعض حلقے اس حکومت مخالف اتحاد کے لیے سرگرم بھی ہیں اور اپنا اپنا اثر و رسوخ اس کام کے لیے استعمال کررہے ہیں۔