ہمراز احسن کا انگریزی ناول
- جمعرات 31 / اکتوبر / 2013
- 11789
ہمراز احسن کا انگریزی ناول "کبوکو جن " اِس دہائی کی ایک منفرد دستاویزی واردات ہے ۔ یہ ناول سمندر پار مقیم ایک پاکستانی نژاد ادیب کا ،جو لندن میں رہتا ہے ، ادبی شہ پارہ ہے ۔ ہمراز احسن کے ناول کی اشاعت میرے لیے کسی اچنبھے سے کم نہیں ۔ میں ہمراز سے تصوف پر کسی تحقیقی مقالے کا منتظر تھا مگر یہ کیا ؟ ناول ، اور وہ بھی انگریزی میں ۔
ہمراز احسن کو میں نے پہلی بار ستّر کی دہائی میں لاہور میں دیکھا تھا ۔ تب سے اب تک ہمراز احسن کی زندگی کا ایک اجمالی جائزہ لوں تو وہ ایک ترقی پسند طالب علم لیڈر ، سیاسی کارکن ، کارکن صحافی ، ایڈیٹر ، شاعر، سکرین رائٹر اور صوفی دانشور کے طور پر ایک ہفت پہلو شخصیت کی طرح نظر آتے ہیں ۔ پچھلے برس ہمراز احسن کی پنجابی شاعری کا مجموعہ "میکی کجھ نہ آکھ" لاہور سے شائع ہؤا تھا جب کہ یہ انگریزی ناول دہلی میں چھپا ہے ۔
لگ بھگ تین سو صفحات کی یہ کتاب پنجاب کی الف لیلی ہے ۔ منقسم پنجاب کی یہ کہانی غیر منقسم پنجاب سے شروع ہوتی ہےاور کہانی پڑھتے ہوئے اس امر کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ پنجاب روحانی ، لسانی اور ثقافتی طور پر اب بھی غیر منقسم ہے۔ کیونکہ پنجاب کو روحانی طور پر تقسیم کرنا ممکن ہی نہیں تھا ۔ پاکستانی مسلمانوں کا بھارت میں مقیم بیس کروڑ مسلمانوں سے دینی رشتہ ایک بہت سنگین اوردبیز سیاسی لکیر کی زد میں ہے۔ لیکن پنجاب کی صورت حال دوسری ہے کہ سکھوں کے مقدس مقامات ڈیرہ بابا نانک صاحب ، پنجہ صاحب اور ننکانہ صاحب پاکستان میں ہیں اور سکھ ہندوستان میں ۔ بھارتی پنجاب میں مسلمانوں کے روحانی پیشوائوں کی یادگاریں ہیں ۔ سرہند میں مجدد الف ثانی کی خانقاہِ عالیہ مجددیہ اور مزار ہے ۔ پانی پت میں بُو علی قلندر مدفون ہیں ۔ اگرچہ سرحدوں کی سیاسی لکیروں نے پاکستان کو بھارت سے جُدا کر رکھا ہے مگر اس سے صدیوں پرانی پنجابی ثقافت کا بال تک بیکا نہیں ہؤا ۔
ناول کی آمد سُنی تو میں بڑی بے تابی سے اُس کی راہ دیکھنے لگا۔ کیونکہ میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایک صوفی منش ، صحافی شاعر نے ناول نگاری میں کیسا تجربہ کیا ہو گا ۔ کیسی انگریزی لکھی ہو گی ، اور کیا وہ سرحد کے دونوں طرف کے اور مغربی ممالک کے قارئین کو اپنی داستان سرائی کے طلسم سے مسخّر کر کے اپنی ناول نگاری پر داد و تحسین سمیٹ سکے گا ۔
لیکن خلافِ توقع کبوکو کی کہانی پر ہمراز کی گرفت اور کہانی کہنے کا ملکہ مجھے سچ مچ حیران کر گیا ۔ لگا کہ یہ ناول ہمراز نے نہیں لکھا بلکہ یہ سچ مچ میں کسی جن کا کارنامہ ہے ۔ اللہ دین کے جن کا ۔
جنّوں کی کہانیاں میں بچپن سے سنتا آیا ہوں ، پڑھتا آیا ہوں ۔ ملکہ سبا بلقیس کا تخت اُڑا لانے والا جن مجھے ابھی تک نہیں بھولا کیونکہ یہ کہانی میرے احساس میں اس طرح جا گزیں ہے جیسے میری آنکھوں دیکھی بات اور واردات ہو ۔ پھر اُم الکتاب میں مرقوم ہے کہ جن اور انسان عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ کہ جن کی تخلیق آگ کے شعلے سے ہوئی ہے اور یہ وہ شہادت ہے جسے وحی کہتے ہیں اور جس سے انکار ممکن نہیں ۔
مگر میں سچ کہوں گا کہ میں نے اپنی زندگی کے سفر میں آج تک کوئی جن نہیں دیکھا۔ البتہ قصے ضرور سنے ہیں کہ جن خوبصورت لڑکیوں پر عاشق ہو جاتے ہیں ۔
ہمراز کے جن کبوکو نے جس طرح اقلیمِ اجنہ کا منظر نامہ لکھا اور پیش کیا ہے اُس پر سچ مچ یقین کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ کبوکو کا اجی شاہ کے جسم پر قبضہ جمائے بغیر اس کے ساتھ ایک دوست کی طرح مقیم ہونا ایک انوکھی واردات ہے جو ہیری پوٹر کی جادوئی دنیا سے زیادہ دل چسپ لگتی ہے ۔ ہمراز نے جس طرح جن لڑکی سے اپنی شادی ، نرینہ اولاد اور کبوکو کی محبوبہ کا قصّہ رچا ہے وہ اس کی فنی مہارت کا مونہہ بولتا ثبوت ہے ۔ آخر میں کبوکو جن اور اجی شاہ کے راستے جس طرح جدا ہوتے ہیں وہ بھی ایک ایسا معجز نما موڑ ہے ، جس سے کہانی کار کی خیال آفریں جادوبیانی کا جوہر مترشح ہوتا ہے ۔
ناول پنجاب کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی ، ہنستی گاتی ، ناچتی اور دھمال ڈالتی ہمہ رنگ تصویر ہے ، جسےمصنف کے عمیق مشاہدے اور پنجاب کے ثقافتی اور فکری رویوں سے اُس کی گہری وابستگی نے حسنِ بیان کے چارچاند لگا دیئے ہیں۔ لیکن اس ناول میں تصوف کا جو زاویہ پیش کیا گیا ہے، وہ در حقیقت ردِ تصوف ہے ۔
تصوف یا صوفی تناظر میں لکھے جانے والے ناولوں میں جمیلہ ہاشمی کا اردو ناول " دشتِ سُوس" قابلِ ذکر ہے۔ جو مسیحِ بغداد حسین بن منصور حلاج کی سوانح ہے ۔ اسی روایت کو دوسری زبانوں میں بھی بطورِ مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ جس میں ایک نام ہرمن ہیسے کے ناول " سدھارتھ" کا ہے ۔ ہمراز نے برگِ حشیش کے ذریعے اختلالِ حواس کے جس تجربے کا ذکر کیا ہے وہ ملامتیوں کا راستہ ہے جس میں ہدف بالعموم اخلاقی یا روحانی نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی اور طبیعی ریاضتوں کے ذریعے ما فوق الفطرت صلاحیتوں کا حصول ہوتا ہے تاکہ دنیاوی مقاصد حاصل کیے جا سکیں ۔
چنانچہ خاکِ بدن کو روحانی کیمیا گری کے ذریعے کندن بنانے کے بجائے کم تر دھاتوں کو سونا بنانے کے تجربے ، باؤ لوہار کا ہمزاد کے ذریعے سو کا نوٹ بنانا یا کرم شاہ کی میت کی جیب کاٹنااور سائیں سدھو کے تکیے پر گیلی چور جیسے لوگوں کا اجتماع، ایک ایسی زیرِ زمین دنیا سے متعارف کرواتا ہے ، جس میں تصوف کا راستہ روحانی بالیدگی کے لیے نہیں بلکہ شعبدہ بازی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے ۔
ہمزاد کا تصور بھی خالصتاً طبیعاتی ہے ۔ آئیں سٹائین کے نظریے کے مطابق ایک انسانی جسم دو ہزار میگاواٹ ٹن توانائی پر مشتمل ہوتا ہے اور اگر جسم کی قوتوں پر خلیوں کی ترتیب و تنظیمِ نو کے ذریعے کنٹرول حاصل کر لیا جائے تو انسان اپنی جسمانی توانائی کے برابر توانائی نہ صرف پیدا کر سکتا ہے بلکہ جہاں چاہے ، جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے اُسے استعمال میں لا سکتا ہے ۔ اس طبیعاتی توانائی پر جو نوعیت و ماہیت کے اعتبار سے نفسیاتی ہوتی ہے ، مختلف جسمانی ریاضتوں ، چلّوں اور مشقوں کے ذریعے جس میں منشیات کا استعمال بھی شامل ہے ، قابو پایا جاتا ہے ۔
یہ نظریاتی حقائق اپنی جگہ ،مگر یہاں بات کہانی کہنے کے ہنر کی ہے جس میں مصنف کی ادبی اور فنی صلاحیتوں پر بات ہو رہی ہے کہ مصنف نے ناول کا پلاٹ جس خوبصورتی سے مرتب کیا ہے اُس پر عش عش کے سوا کیا ہی کیا جا سکتا ہے۔ مستزاد یہ کہ ہمزاد کردار نگاری کے بھی ماسٹر ہیں ۔ اُنہوں نے کرم شاہ ، باؤ لوہار ، سائیں سدھو ، سانپوں کے بادشاہ ، طوائف شمیم ، اجی شاہ اور کبوکو جن کے کردار جس مہارت سے تخلیق کیے اور نبھائے ہیں وہ مصنف کی ژرف نگاہی ، دروں بینی اور ہنر مندی کی روشن نشانیاں اور معتبر گواہیاں ہیں ۔
تاہم یہ ایک ایسا ناول ہے جو اگر اردو میں لکھا جاتا تو مصنف کے لیے ویسے ہی مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے جو سعادت حسن منٹو کو اپنے بعض افسانوں پر بھگتنے پڑے تھے۔ کیونکہ اس ناول میں جس طرح جنسی رویوں ،
استلذاذ بالمثل ، ازدواجی مباشرتوں اور چکلے کی کسبیوں کا ذکر ہے ، اُسے اردو میں بیان کرنا ، فقہ کے بیل کو"آ مجھے مار" کا سندیسہ بھیجنے کے مترادف تھا ۔
لیکن یہ ساری کہانی حقیقت پر مبنی ہے ۔ اوائل عمری سے جوانی میں قدم رکھنے پر ایک نوجوان کو نفسیاتی الجھنوں کی جس دلدل سے گزرنا پڑتا ہے ، اُسے ہمراز نے بڑی فنکارانہ چابک دستی سے رقم کیا ہے ۔
مجھے جنات کے اُن افسانوں پر یقین نہیں آیا کرتا جنہیں بالعموم بیان کیا جاتا ہے ۔ میری صوابدید کے مطابق جن کے تصور کو عام لوگوں نے غلط طور پر سمجھا ہے اور غلط طور پر ہی بیان کیا ہے ۔ جنوں کے وجود کی تفصیل اور وضاحت کو سائنسی طور پر مرتب و مدون نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ اسرار و رموز کے دبیز پردوں کی تہوں میں چھپی مخلوق کے بارے میں خیال آفرینیاں ہیں جو فینٹیسی یا جاگتی آنکھوں کا خواب ہے ۔ اور بے تعبیر خواب محض فریب ہؤا کرتے ہیں ۔
کتاب اللہ کسی اور جن کی بات کرتی ہے مگرجس جن کی بات ہم کرتے ہیں وہ انسان کا باطنی شعور ہوتا ہے جو ظاہری شعور کے سامنے صف آرا ہو کر اُس پر تنویمی کیفیت طاری کر کے اسے مغلوب کر لیتا ہے ۔ میں یہاں کانشس اور سب کانشس مائنڈ کی اصطلاحات کے بکھیڑے میں نہیں پڑنا چاہتا بلکہ اس کے بجائے ظاہری شعور اور باطنی شعور کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ انسانی وجود بنیادی طور پر ایک ہے۔ لیکن ظاہر اور باطن کے درمیانی فاصلے میں بعض لوگوں کے ہاں چند میٹر اور بعض کے ہاں سو کوس تک کا بُعد ہوتا ہے۔
اس فاصلے کی بنا پر ایک کشمکش جنم لیتی ہے جس کی وجہ سے آدمی اپنے اندر چھپے آدمی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ جسے دوہری شخصیت اور بٹی ہوئی شخصیت کے حوالے سے بھی شناخت کیا جاتا ہے ۔ تاہم اس موشگافی سے قطع نظر ، کبوکو جن کی یہ کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو معلوم اور نا معلوم کے مابین ، دیدہ اور نادیدہ کے درمیان اور ظاہر و باطن کے درمیان آباد ایک پراسرار کائنات کی کہانی ہے ۔ اور اس کائنات میں جنوں اور انسانوں کے باہمی تعلقات کا سلسلہ اتنا دل چسپ ہے کہ سارا منظر کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے ۔
یہ ناول پنجاب کے کلچر کی ایک دستاویزی فلم ہے۔ جسے ہمراز نے فنکارانہ نفاست سے لفظوں میں فلمایا ہے ۔ اس فلم کا ہیرو اجی شاہ ہے جو کبوکو جن کا ظاہری وجود ہے اور یہ ظاہری وجود ، عشق، تصوف ، جنس اور منشیات کے تجربوں کی شاہراہ سے گزرتا ہؤا ایک ایسی زندگی گزارتا ہے جو حقیقت اور افسانے کا گنگا جمنی سنگم ہے ۔ بلا شبہ یہ ایک انتہائی دل چسپ کہانی پر مبنی یادگار ناول ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اسے ہر مکتبہ ء فکر کے لوگوں میں یکساں دل چسپی سے پڑھا جائے گا اورتنقید کی کتابوں میں اس کا تذکرہ مسلسل رہے گا ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمراز نے ناول نگاری کی طرف آنے میں بہت دیر کردی ۔ اگر وہ یہی کام دو دہائیاں پہلے شروع کرتے تو پنجابی ثقافت اور تہذیب پر بہت سی نرالی اور انوکھی تحریریں وجود میں آگئی ہوتیں۔ لیکن اجی شاہ جانتا ہے کہ یہ مقدر کی بات ہےاور مقدر سے مفر نہیں ۔
یہ کتاب فنگر پرنٹ اشاعت گھر نئی دلی سے شائع ہوئی ہے اور ہندوستان میں اس کی قیمت مبلغ 295 روپے ہے۔
ہمراز احسن ، اس خوبصورت کتاب کی تخلیق پر میری طرف سے دلی مبارکباد ۔