ہمارے بچے، ہماری ذمہ داریاں
- جمعہ 01 / نومبر / 2013
- 4428
22 جولائی 2011 کو ناروے کی سرزمین پردہشت گردی کا ایک ہولناک واقعہ عمل پذیر ہوا۔ دہشت گرد نے چند لمحوں میں وزیرِاعظم کے دفتر کو بم سے اڑا دیا۔ اس میں 8 جانیں ضائع ہوئیں۔ بعد ازاں اس نے 68 بیگناہ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نارویجن قوم نے اس دہشت گردی کا سامنا تاریخی فراخدلی اور ہمت و جراءت سے کیا۔
ہمیں یہ کہنے میں عار نہیں ہے کہ نارویجن مسلمانوں کو یہ جان کرقدرے سکون ملا تھا کہ دہشت گرد مسلمان نہ تھا۔ گو کہ ہمیں بھی اس دہشت گردی پر اتنا ہی ملال تھا جتنا کسی بھی دوسرے نارویجئن شہری کو تھا۔ اس دہشت گردی میں مسلمان بچے بھی جان بحق ہوئے تھے۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر دہشت گرد مسلمان ہوتا تو اس دہشت گردی سے نارویجئن قوم کیوں کر نپٹتی۔ ایسا ناممکن نہیں ہے کہ ایسی صورت میں قومی رویہ بہت مختلف ہوتا۔
کیا نارویجئن سر زمین پر ایک مسلمان دہشت گردی کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا عین ممکن ہے۔ تو اس کا سدِ باب کرنے کے لیے ہماری حکمت عملی کیا ہے؟
اگر لوگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کریں تو پْرامن معاشرے تھوڑی ہی مدت میں جہنم بن سکتے ہیں۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیجیے۔ 2011 میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی محافظ نے قتل کر دیا۔ سلمان تاثیر کا گناہ یہ تھا کہ وہ ملک کے بلاسفیمی قانون پر نظر ثانی چاہتے تھے۔ جوان کی رائے میں، اور مذہبی اقلیتوں کے مطابق، ملک کی مذہبی اقلیتوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان کے محافظ کی نظر میں یہ اتنا بڑا جرم تھا کہ سلمان تاثیر کا قتل عین واجب تھا۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ملک کے وزیرِ داخلہ نے قومی ٹیلی وژن پر کہا کہ اگر مجھے موقع ملتا تو میں بھی وہی کرتا جو قاتل نے کیا۔ ایسے میں ملک میں قانون کی بالا دستی کیسے قائم ہو سکتی ہے؟
جب میں سلمان تاثیرکے جاں نشین نے ملنے گیا تومیری سرکاری گاڑی کو کئی ناکوں اور تلاشیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گورنر صاحب ایک قیدی کی طرح اپنے دفتر میں بیٹھے تھے۔ جبکہ دہشت پسند اور مجرم سڑکوں پر کھلے عام پھرتے تھے۔ ہر وہ شخص جو قانون کی بالادستی، آزادئی رائے، آزادئی عقیدہ، کشادہ دلی اور انسانی حقوق کی بات کرتا ہے ۔۔۔ اس کی جان اور مال خطرہ میں ہے۔ مَلالہ یوسف زئی جیسی بچیوں کو ان کی تعلیم سے روکنے کے لیے ان کی سر میں گولی ماری جاتی اور انہیں اس دہشت گردی سے فرار ہو کربیرونَ ملک ہجرت کرناپڑتی ہے۔ 1970 کی دہائی تک ایک پرسکون اور کشادہ دل معاشرہ آج بہت سے لوگوں کے لیے ایک جہنم بن چکا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ناروے میں ایسے مسلمان نوجوان رہتے ہیں جو بدقسمتی سے ایسے لوگوں کے چنگل میں پھنس گئے ہیں جو دہشت گردی، گولی اور بارود استعمال کرنے سے ہر گز نہیں ہچکچا ئیں گے۔ یہ لوگ خود انتہا پسند ہیں اور دوسروں کو بھی اس پر مائل کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ بیرون ملک جا کر انتہا پسندی کی آئڈیالوجی اور گولہ بارود استعمال کرنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ ملک شام کو جانے والے اس کی تازہ مثال ہیں۔ اتازہ ترین واقعہ ایک سولہ سالہ نوجوان لڑکی کا ملک شام جانے کا ہے۔
اس وقت ہمارے ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نہ صرف کہ گولہ بارود استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ ایسا کرنے کی عملی اور تربیتی استطاعت بھی رکھتے ہیں۔ یہ کسی بھی نارویجئن شہری کے لیے نیند اڑا دینے والی حقیقت ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں کے لیے اس سے خوفناک حقیقت اس وقت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ نارویجن سرزمین پر کسی مسلمان کے ہاتھوں دہشت گردی کا ایک واقعہ مسلمانوں کے لیے خوفناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے یہ بیدار ہونے کا وقت ہے۔
ہم میں سے اکثر مہاجر ہیں۔ ہم نے اپنے آبائی وطنوں سے اس لیے ہجرت کی کہ وہاں پر روزگار، تعلیم، جان و مال کی حفاظت، قانون کی بالادستی، آزادٗی رائے اور آزادئی عقیدہ مفقود تھی۔ نیز وہاں نسلی و مذہبی تعصب اور بدعنوانی کا بول بالا تھا۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنے نئے وطن میں ان خباثتوں کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ ایسے میں یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہمارے آبائی ممالک میں یہ خباثتیں تھیں، تو اس کی کیا وجہ تھی۔ اور جب ہمارے بچوں کے اور ہمارے نئے وطن میں ہمیں عزت، تحفظ اور آزادی میسر ہے تو ہمیں اس کی حفاظت کیسے کرنا ہے۔ ہر وہ شخص جو ان اقدار کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ ہمارا اور ہمارے آنے والی نسلوں کا دشمن ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم ہجرت کر کے اپنے اصل وطن سے سے اِس ملک تو آگئے ہیں۔ اور اب اگر یہاں بھی وہی ظلم شروع ہو گیا تو پھر کہاں جائیں گے۔
وزیرِ اعظم سولبرگ نے مقامی اخبار آفتن پوستن میں 30 اکتوبر کو ایک مقالہ لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ انتہا پسندی کے خلاف جہاد کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک اور معاشرہ کےساتھ تعلق پیدا کریں۔ جو چیز ہماری اپنی ہوتی ہے ہم اسے ہر گز نقصان نہیں پہنچاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نارویجئن معاشرہ کو اپنا معاشرہ سمجھتے ہیں؟
اس ملک میں چالیس سال گزار کر بھی ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے گلی محلہ میں کیا ہو رہا ہے۔ جبکہ ہمیں اس بات کی مکمل آگاہی ہوتی ہے کہ جو شہر ہم نے چالیس سال پہلے چھوڑا تھا وہاں کیا ہو رہاہے۔ ہم آج چالیس سال بعد بھی اپنے آبائی ممالک کی سیاست اور معاملات سے مکمل آگاہ رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمارے نئے ملک میں قومی انتخابات کس دن منعقد ہوں گے۔ ہم ان معاشروں کے بارے میں کہیں زیادہ متفکر ہیں جن میں ہم کبھی رہا کرتے تھے جبکہ اْس معاشرہ کے بارے میں ہمیں کوئی فکر نہیں جس میں ہمارے بچے اور پوتے پوتیاں اور آنے والی نسلیں رہیں گی۔
مساجد میں نماز کے بعد ہمارے امام پاکستان، عراق، چیچنیا اور فلسطین کے لیے لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنا جائز بھی ہے۔ لیکن ایسے امام اب بھی شاذ ہی ملتےہیں جو اْس ملک کے لیے بھی دعا کریں جس میں وہ خود اور ہمارے آنے والی نسلوں کو رہنا ہے۔ یہ مقامِ فکر ہے!
ہمارے یہ رویے ہمارے بچوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ جب ہم مقامی معاملات میں حصہ نہیں لیتے، بلکہ ہم میں سے بہت سے اس معاشرہ کو غلیظ اور ناپاک کہتے ہیں، تو ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہمارے بچے اس معاشرہ کے ساتھ وابستہ رہیں گے اور اس کی سلامتی اور بہتری کے لیے کام کریں گے۔ ایسے میں یہ بچے ان لوگوں کے لیے لقمئہ تر ہیں جو نہ تو ہمارے ملک اور معاشرہ کو جانتے ہیں اور نہ ہی ان کااس سے کوئی مفاد وابستہ ہے۔ یہ ہمارا وطن ہے۔ اس کی حفاطت ہمارا کام ہے۔ یہ ہمارے بچے ہیں۔ ان کی حفاظت ہمارا کام ہے۔
(اختر چوہدری نارویجئن ستورتنگ کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہیں اور منجھے ہوئے پاکستانی نژاد سیاست دان ہیں)