وزیر اعظم کے عالمی دورے
- جمعہ 01 / نومبر / 2013
- 4881
وزیراعظم نوازشریف کا دورۂ امریکہ اور نواز اوباما ملاقات ابھی زیر بحث تھے کہ نوازشریف اپنے تیسرے دور کے پانچویں دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ جہاں وہ طالبان کو امن اور سیاسی عمل کا حصہ بننے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے باعث ابھی تک طالبان سے مذاکرات شروع نہیں ہوسکے۔ اور اب چودھری نثار کو مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ میاں نوازشریف کو جو کام پاکستان میں کرنا چاہیے تھا وہ یہ کام برطانیہ جاکر کررہے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ انہیں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے کوئی ڈیڑھ ماہ قبل دیا تھا، جس پر تاحال ان کا کام صفر ہے۔
نہ مذاکراتی کمیٹی بنی ہے، نہ مذاکرات کے ایجنڈے پرکسی سے بات کی گئی ہے۔ نہ اس کام کے لیے ضروری چینل استعمال ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں برطانیہ جاکر یہ باتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اب تک وہ طالبان سے مذاکرات کے مینڈیٹ کو آگے بڑھانے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔ اس کی وجوہات بھی وہی جانتے ہوں گے جو انہیں قوم کو بتانا چاہئیں یا اپنی کوتاہی اور سست روی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
طالبان سے مذاکرات کی طرح نوازشریف کا حالیہ دورۂ امریکہ اور صدر اوباما سے ملاقات بھی بہت سے سوالات اٹھا رہی ہے۔ حکومتی وزراء اس دورے کو بہت کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کے دورۂ امریکہ اور اوباما سے ملاقات پر نوازشریف اور ان کی ٹیم کو زیادہ سے زیادہ 20 نمبر دیے جا سکتے ہیں۔ 10 نمبر اس بات کے کہ اوباما سے ملاقات ہوگئی اور 10 نمبر اس بات کے کہ اوباما نے ہماری بات سن لی۔ باقی دورہ اور ملاقات دونوں ناکام رہے۔
امریکہ کی جانب سے کئی مواقع پر توہین آمیز انداز بھی اختیار کیا گیا۔ کاش نوازشریف اور ان کی ٹیم اپنی ضرورتوں، مجبوریوں اور مصلحتوں کا پورا پورا ادراک کرنے کے بعد قومی وقار کے مطابق اس ملاقات کے لیے کوئی لائحہ عمل اور طریقہ کار طے کرتے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے حالات اور معاملات ایسے نہیں ہیں۔ ہماری کمزور معیشت، قرضوں کا بوجھ اور مزید قرضوں کی ضرورت گفتگو کے دوران ہمارے حوصلے پست کردیتی ہے۔ لیکن دنیا میں کسی طاقتور اور کمزور کے درمیان یہ پہلی ملاقات نہیں تھی۔ تاریخ میں طاقتور اور کمزور بارہا ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ جہاں کمزور فریق اپنی قومی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے حوصلے اور اچھے سفارتی طریقوں کے ذریعے اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نوازشریف اور ان کی ٹیم نے اس موقع پر اس قومی حمیت کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسا
کافر کو ہے یورپ کی مشینوں کا سہارا
جب نوازشریف اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے امریکہ گئے تھے اُس وقت امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے تو ملاقات کرلی تھی لیکن وزیراعظم پاکستان جو امریکہ ہی میں موجود تھے، ان سے ملاقات ضروری نہ سمجھی۔ اس سفارتی موو (Move) کو پاکستانی حکام کو سمجھنا چاہیے تھا اور اس پر اپنا باحمیت ردعمل بھی اچھے طریقے سے دینا چاہیے تھا جو نہیں دیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستانی حکام نے من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے موقع پر بھی اسی طرح کی سفارتی موشگافیوں کونظرانداز کیا جس کے نتیجے میں نواز من موہن ملاقات پاکستان کے نقطہء نظر سے ایک بے نتیجہ ملاقات رہی۔ جس میں بھارت کا رویہ جارحانہ تھا اور پاکستان کا معذرت خواہانہ تھا۔
اوباما سے ملاقات سے قبل پاکستانی دانشوروں، سفارت کاروں اور خود حکومتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم ڈرون حملے بند کرنے، سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی پاکستان کو دینے اور پاکستان کو ایڈ نہیں ٹریڈ دینے کی بات کریں گے۔ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاملے پر تو شاید وزیراعظم نے سرے سے بات ہی نہیں کی۔ ڈرون حملوں کا مشترکہ اعلامیہ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جبکہ طارق فاطمی کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ ہر سطح پر اٹھایا گیا۔ وزیراعظم نے بھی یہ معاملہ اوباما کے ساتھ ملاقات میں اٹھایا اور امریکہ نے اس پر کہا کہ تسلسل کے ساتھ اُن کے ہاں یہ معاملہ زیر غور ہے۔ وہ پاکستان کی اس کوشش کو Appreciate کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایسا تھا تو اسے مشترکہ اعلامیہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اور اگر امریکہ نے یہ بات مشترکہ اعلامیہ میں شامل نہیں ہونے دی تو پاکستان نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ محض یہ کہنا کہ مشترکہ اعلامیہ عجلت میں تیار ہؤا اس کوتاہی کی تلافی نہیں کرتا۔ کیونکہ پاکستان کے لیے یہ سب سے اہم معاملہ تھا جس کا اظہار خود وزیراعظم بھی کرچکے تھے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پراسے عالمی فورمز پر اٹھانے کا نوازشریف کو مینڈیٹ دے چکی تھیں۔
عافیہ صدیقی کے مسئلے پر بھی پاکستانی افسر شاہی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر خاصی بات ہوئی۔ جب کہ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ ملاقات میں زیربحث نہیں آیا۔ اس ملاقات کے دوران نہ تو امریکہ نے کسی نئی ایڈ یا امداد کا یقین دلایا اور نہ ٹریڈ یا باہمی تجارت پر کوئی بات کی۔ ان معاملات پر ورکنگ گروپ بنادیے گئے ہیں۔ پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر اہم ملک کے سربراہ کی امریکی صدر سے ملاقات ہو اور کوئی فوری معاہدہ دستخط ہو اور نہ کسی معاملے کو حل کیا جائے تو ایسی ملاقات کو کون کامیاب کہے گا!
ملاقات کے دوران نوازشریف ایک نوٹ بک پر لکھے ہوئے نکات کی مدد سے بات کرتے رہے۔ ان کا یہ انداز عالمی میڈیا نے بار بار دکھایا۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج تو نہیں لیکن یہ سربراہِ حکومت کے وقار کے منافی ہے۔ اس طرح کے علامتی اظہار سفارتی معاملات میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جن کا نہ صرف نوازشریف جیسے تجربہ کار وزیراعظم کو خیال رکھنا چاہیے تھا بلکہ ان کی ٹیم کو بھی اس نازک ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے تھا۔
اوباما سے ملاقات کے بعد امریکہ کی طرف سے یہ کہنا کہ پاکستان میں دہشت گردی کم کرنے کی کوشش کریں گے، ایک بادلِ نخواستہ اظہار تھا۔ کیونکہ دہشت گردی کم نہیں ختم ہونی چاہیے۔ جبکہ ڈرون حملے خود بڑی دہشت گردی ہیں۔ اس ملاقات میں امریکہ نے جس طرح شکیل آفریدی اور حافظ سعید کا معاملہ اٹھایا ہے وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت ہے۔ یہ کام دراصل بھارتی لابی نے ہوشیاری کے ساتھ کیا تھا۔ جس کا پاکستان کو پہلے سے توڑ کرنا چاہیے تھا۔
اس ملاقات کا ایک فائدہ ضرور ہؤا ہے کہ ملاقات کے بعد پاکستان میں ڈرون حملے عالمی مسئلہ بن گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس پر ایک رپورٹ دی ہے۔ جمائما خان نے ایک دستاویزی فلم ریلیز کی ہے۔ جبکہ امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی بچی نبیلہ رحمان نے امریکی کانگریس کے ارکان کو اپنے اور اپنے خاندان پر ہونے والے ظلم کی داستان سنائی ہے۔ جس پر وہاں ماحول سوگوار ہوگیا۔ یہ اچھی کوشش اور پیش رفت ہے۔ لیکن اس میں پاکستانی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اب حکومت اور اس کی خارجہ امور کی ٹیم کو اس مسئلے کو مزید آگے جاکر عالمی فورمز پر اٹھانا چاہیے تاکہ امریکہ پر عالمی دباؤ میں مزید اضافہ ہو۔