حکیم اللہ محسود اور ہماری سیاست

  • ہفتہ 02 / نومبر / 2013
  • 6031

امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف ڈرون حملوں کا مسئلہ شد و مد سے اٹھایا مگر امریکی صدر کی طرف سے محض یہ کہہ کر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، خاموشی اختیار کرلینا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ ڈرون حملے حسب سابق جاری رہیں گے ۔

اس سے قبل پالیسی بیان میں بھی اوباما کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ اگر حقیقت پسندانہ طور پر تجزیہ کیا جائے تو ڈرون حملے پاکستان کے مفاد میں ہیں کیونکہ جن علاقوں میں یہ حملے کئے جاتے ہیں وہاں پاکستانی حکومت کی رٹ برائے نام بھی نہیں ہے۔

اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ امریکہ ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاررہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان امور کا جائزہ لے جن کو ان دونوں تنظیموں نے دستاویزی صورت دی ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ اگر یہ شہادت ملے کہ ان حملوں میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں تو انہیں عام کیا جائے۔ مگر امریکہ نے ان  مطابات کو درخوراعتنا نہیں جانا۔

دوسری طرف پاکستانی حکومت نے سینیٹ میں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی جو تعداد بتائی وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بالکل برعکس تھی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت کا یا تو اس حوالے سے کوئی ہوم ورک نہیں ہے یا وہ جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور اصل حقائق اور مرنے والوں کی تعداد چھپا رہی ہے۔

ادھر ایک معنی خیز پہلو یہ بھی ہے کہ اسی دوران امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی حکمران ڈرون حملوں کی نہ صرف حمایت کرتے رہے ہیں بلکہ بریفنگ بھی لیتے رہے ہیں۔اس خبر کا شائع ہونا دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام کو یہ پیغام تھا کہ ڈرون حملے پاکستانی حکمرانوں کے ایما پر کئے جاتے ہیں۔

اب اسی تناطر میں دیکھنا یہ ہو گا کہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ہلاک ہونے کے بعد مذاکرات کی شکل کیا ٹھہرے گی؟ اب مذاکرات ہو بھی پائیں گے یا نہیں؟ اس موقع پر اگر صورتحال کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہی امکان اغلب ہے کہ ٹی ٹی پی سے ریاست کے مذاکرات اپنے’’ منطقی انجام‘‘ کو پہنچ چکے ہیں۔ حکیم اللہ محسود چند دن قبل بی بی سی سے انٹرویو کے دوران یہ واضح پیغام دے چکے تھے کہ مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک ڈرون حملے رک نہیں جاتے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈرون حملے بھی ہوتے رہیں اور مذاکرات بھی ؟

ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود جیسے درندہ صفت قاتل کے مرنے کے بعد ہمارے چالباز حکمرانوں کا ردعمل بھی دیدنی ہے۔ طالبان سربراہ کے مرنے پر اس طرح سے واویلا مچایا جا رہا ہے گویا اس نے کوئی عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ حکیم اللہ محسود وہی شخص ہے جس نے 300 پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر اپنے ہی جیسے دہشت گردوں کو ان کے بدلے میں آزاد کروایا تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے پاک فوج کے ہزاروں جوانوں اور معصوم عوام کی شہادتوں کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ وہی قاتل ہے جس نے جی ایچ کیو ، مہران بیس،  کامرہ ائر بیس پر حملے سمیت دیگر سنگین جرائم کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی تھی۔ اور فخریہ انداز میں بتایا تھا کہ یہ کارنامے اس کے گروہ نے سرانجام دئے ہیں۔

اس سے زیادہ حیرت اور افسوس کی بات کیا ہو گی کہ ایسے شخص کے مرنے پر ہمارے لیڈر اور مذہبی رہنما آج آگ بگولہ ہیں اور نیٹو سپلائی بند کرنے سے لے کر ڈرون گرانے تک کی دھمکیاں اور مشورے دے رہے ہیں۔ آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری سیاست کا محور حکیم اللہ محسود بن گیا ہے اور یہ یقیناً بطور قوم ہمارے لئے مقام عبرت ہے۔