طالبان سے مذاکرات - آئندہ لائیحہ عمل
- بدھ 06 / نومبر / 2013
- 5818
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آیا ہؤا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہونے والا تھا اور وزیر داخلہ اور مذاکراتی عمل کے سربراہ چوہدری نثار علی خان کے بقول جس شام 6 بجے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا اس کے اگلے دن10 بجے ایک مذاکراتی وفد وزیرستان روانہ ہونا تھا اور اس نے اسی دوپہر کو طالبان کے ساتھ ابتدائی بات چیت کرنا تھی۔
یہ ڈرون حملہ نواز اوبامہ ملاقات کے فوری بعد ہؤا تھا جس کے بارے میں حکومتی وفد کے رکن طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ اس دورے میں امریکہ کے ساتھ ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا گیا تھا جس پر امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی تشویش کو Appreciate کرتے ہیں اور یہ معاملہ ان کے ہاں تسلسل کے ساتھ زیر غور ہے۔ اس ملاقات اور حکومتی دعووں کے باوجود پاکستانی حدود میں تازہ امریکی حملہ اور اس میں ایک ایسے شخص کی ہلاکت جو نہ صرف امن مذاکرات کا مرکز تھا بلکہ مذاکرات کا حامی ہونے کا باقاعدہ اعلان بھی کر چکا تھا امریکہ کی کھلی دھوکہ بازی، سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
چنانچہ اس پر پاکستان میں شدید رد عمل سامنے آیا۔ پہلے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکیم اللہ کی ہلاکت ایک شخص کی ہلاکت نہیں بلکہ پورے امن کے عمل کا قتل ہے۔ جس پر مذاکرات کا عمل بری طرح متاثر ہؤا ہے۔ اور اس سلسلے میں ہونے والی اب تک کی محنت اور کوششیں اکارت گئی ہیں۔
صورتحال اس قدر کشیدہ ہوگئی تھی کہ اس پر نہ صرف وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا بلکہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں نے کھل کر اظہار خیال کیا اور کسی لگی لپٹی کے بغیرامریکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود کو نہ تو پاکستانی حکومت نے ہلاک کیا ہے نہ طالبان نے اور نہ پاکستانی فوج نے۔
مبصر ین نے چوہدر ی نثار کے شدید رد عمل کو دو انداز میں دیکھا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ ان کے حقیقی جذبات ہیں اور وہ امریکہ یا حکومت کی پرواہ کیے بغیر اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب کہ بعض لوگ اسے سیاست اور معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ طالبان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے معاملے پر بھی حکومت پاکستان کو اعتماد میں لیا ہو۔ کیونکہ اس واقعہ کے فوری بعد امریکی ترجمان نے یہ محتاط بیان جاری کیا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے جاری ہیں۔
اور اب تو امریکہ اپنے ڈرون حملے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے جواز بھی پیش کر رہا ہے۔ گرما گرمی کی اس فضا میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ 20نومبر تک ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو نیٹو سپلائی بند کر دیں گے، چاہے ہماری خیبر پختونخواہ حکومت ہی چلی جائے۔ دوسرے اس معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کے لیے بھر پور جدوجہد کریں گے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے زیادہ بے باکی اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا ہے۔
گو لبرل میڈیا اس پر بہت شور مچا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ عوامی جذبات کی درست ترجمانی ہے۔ اس دباؤ کے بعد وفاقی کابینہ یہ اعلان کرنے پر مجبوری ہوئی ہے کہ امن کوششوں کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے۔ جبکہ نواز شریف نے زیادہ وضاحت سے بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کوئی تعاون نہیں کر سکتا تو اسے نقصان بھی نہ پہنچائے۔ ان کا واضح اشارہ امریکہ کی جانب ہے۔
اس صورتحال میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ عوامی اور سیاسی سطح پر امریکہ کے خلاف پاکستان میں موجود نفرت میں زبردست اضافہ ہؤا ہے اور حالیہ ڈرون حملوں کے بعد سے حکومت پاکستان پر بھی عوامی پریشر زیادہ ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟
حکومت نے اب تک مذاکرات میں خاصی تاخیر بلاوجہ کر دی ہے۔ حالانکہ ملک کی تمام جماعتیں تقریباً دو ماہ قبل (9ستمبر2013ء) اسے مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دی چکی ہیں۔ اب اس سلسلے میں دی جانے والی حکومتی وضاحتوں کو کوئی نہیں مان رہا۔ نہ طالبان اور نہ ہی عوام۔ امریکہ حکومت پاکستان کی مجبو ریوں اور اس پر موجود دباؤ کی کوئی پرواہ نہیں کر رہا۔ ایسے میں سردست مذاکرات شروع ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
طالبان نے ابھی اپنے مستقل امیر کا تقرر بھی کرنا ہے اور اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی۔ تاہم وہ اس وقت تک حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی حرف آخر نہیں لیکن طالبان کو مذاکرات کی پٹڑی پر لانے کے لیے اب پہلے سے زیادہ سودمند اور بامقصد کوششیں کرنا پڑیں گی۔
ڈرون حملے سب کو معلوم ہیں کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی مرضی سے جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان انہیں روکنے کے لیے نیٹو سپلائی بند کر سکیں گے۔ لگتا ہے کہ اب فوج بھی عوام کا موڈ بھانپ چکی ہے اور اسے نیٹو سپلائی بند کرنے پر اعتراض نہیں ہو گا۔ ایسے میں یہ اعلان خود حکومت کرے گی اور زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ اعلان چوہدری نثار علی خان ہی مجاہدانہ انداز میں کریں گے۔ت اکہ تحریک انصاف عوامی ہمدردی حاصل نہ کر سکے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نیٹو سپلائی رکنے سے امریکہ پر کتنا اثر پڑے گا کیا وہ اس دباؤ میں ڈرون حملے کرنا بند کر دے گا اور اگر بالفرض وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر ہمارا اگلا اقدام کیا ہو گا؟
اس صورت حال میں دانشوروں کی رائے ہے کہ حکومت پاکستان بلا تاخیر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔ میڈیا اور نام نہاد لبرل دانشوروں کو مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے سے روکے۔ اور ساتھ ہی ڈرون حملوں کو روکنے کی تیز رفتار اور مؤثر منصوبہ بندی کرے۔ ورنہ یہ تقریریں اور نعرے محض دکھاوا ثابت ہوں گی۔