پاکستان میں بدامنی اور امریکی مفاد

  • بدھ 06 / نومبر / 2013
  • 5867

پاکستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ڈرون حملوں کے حوالے سے بحث میں امریکہ ولن کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دھؤاں دار بیانات کے بعد اب قومی اسمبلی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک ڈرون حملے میں امریکہ نے تحریک طالبان کے قائد حکیم اللہ محسود کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکومت ، تحریک انصاف اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس حملہ کو بنیاد بنا کر امریکہ کے خوب لتے لئے تھے۔ ان رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگرچہ متعدد تجزیہ نگاروں کی طرف سے اکثر یہ بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ڈرون حملے تن تنہا طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ ہونے کا عذر نہیں ہو سکے۔ تاہم اس دلیل کو سننے اور اس مسئلہ کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا ماحول سامنے نہیں آ سکا ہے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو پاکستان میں قومی المیہ بنا کر پیش کیا گیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے الزام عائد کیا کہ امریکہ پاکستان میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان دونوں کا یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ یکم نومبر کو حکیم اللہ محسود کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت کو روکنا تھا۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جس روز حکیم اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا اسی روز ایک وفد طالبان سے ملنے کے لئے جانے والا تھا۔ اس لئے عین اس وقت طالبان کے رہنما کی ہلاکت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل میں آئی ہے۔ عمران خان نے بھی اس سے ملتا جلتا مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کئے تو 20 نومبر سے خیبر پختونخوا کے راستے نیٹو کی سپلائی روک دی جائے گی۔ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی میں یہ مطالبہ بھی کر چکے ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حکومت ڈرون طیاروں کو مار گرانے کا اعلان کرے۔

یہ سیاسی بیان بازی ایک ایسے مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جسے ملک کا ہر سیاسی لیڈر بہرطور جیتنا چاہتا ہے۔ اسی لئے جماعت اسلامی کے مولانا منور حسن، حکیم اللہ کو شہید قرار دے کر شہرت اور مقبولیت کی منازل طے کر رہے ہیں تو جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نہ صرف یہ کہ حکیم اللہ کو شہید قرار دینے پر مصر ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر قومی اسمبلی میں یہ فرما چکے ہیں کہ امریکہ اگر کتا بھی مارے گا تو اسے بھی میں شہید ہی کہوں گا۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا وہ حکیم اللہ کو کتا کہنا چاہ رہے ہیں یا امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دے کر اپنا سیاسی وزن بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس صورتحال میں اگرچہ دلیل اور حجّت بےمعنی چیزیں ہو جاتی ہیں تاہم اس اس بات پر قوم کو متفق کر لیا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کا دشمن ہے۔ اسی لئے نہ تو وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کا حامی ہے اور نہ ہی ملک میں امن و امان کا خواہاں ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان میں بدامنی کی بنیادی ذمہ داری پاکستان ساختہ انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ گروہوں کے سر عائد ہوتی ہے۔ ان گروہوں کو کسی نہ کسی مرحلے پر افواج پاکستان اور خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی تو ضرور حاصل رہی ہے لیکن امریکہ سے ان کا تعلق جوڑنا مشکل ہے۔

تاہم عام آدمی تو بیانات میں صرف ٹارگٹ پر ہوتا ہے۔ پروپیگنڈا کی تابڑ توڑ مہم جوئی میں نہ تو عام شخص کو سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے اتنا ہوش میں رہنے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حواس استعمال کرتے ہوئے یہ غور کر سکے کہ مسلسل حملے کرنے والے ، آئین کو مسترد کرنے والے اور افواج پاکستان کو مرتد قرار دینے والے کیوں کر اور کیسے اس قوم کے بھائی قرار دئیے جا رہے ہیں اور ایک ایسا ملک جس سے ہماری ہر حکومت نے دوستی کی پینگیں بڑھائی ہیں، اس کو اچانک دشمن نمبر 1 کے درجے پر فائز کر دیا جاتا ہے۔

اس بارے میں تو دو رائے نہیں ہیں کہ امریکہ اپنے مفادات کے مطابق حکمت عملی تیار کرتا ہے۔ ماضی میں بھی اس کی پالیسیوں کی وجہ سے متعدد چھوٹی اقوام کو شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ لیکن امریکہ نے اپنی قوت اور اثر و نفوذ کی بنیاد پر وہی کیا جو اس کے پالیسی سازوں کے نزدیک امریکی قوم کے بہترین مفاد میں تھا۔ اگرچہ ہر ملک اپنے قومی مفاد میں ہی فیصلے کرتا ہے لیکن امریکہ قومی مفاد کے نام پر اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں جنگ مسلط کرنے ، سراسمیگی  پھیلانے، بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں بھی مصروف رہا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر کے امن دوست اور انسانیت نواز حلقے امریکہ کی اس جارحانہ حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہیں۔

یہ بات کہہ لینے کے بعد یہ سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم اور کمزور کرنے میں امریکہ کا کون سا مفاد پنہاں ہو سکتا ہے۔ عمران خان کے علاوہ خاص طور سے جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا سے قبل پاکستان کو انتشار اور بدامنی کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے تو یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ آخر اس سے امریکہ کون سے مقاصد حاصل کر سکے گا۔ افغانستان میں دس سال جنگ کرنے کے بعد اب اتحادی افواج وہاں سے کوچ کر رہی ہیں۔ امریکہ کسی نہ کسی طور افغانستان میں اپنے فوجی اڈے بھی قائم رکھے گا تا کہ وہ ایسے سرکش گروہوں کا قلع قمع کرتا رہے جو امریکہ کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

اس صورت میں تو افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی ایک مضبوط حکومت اور پرامن معاشرہ امریکی مفاد میں ہے۔ دنیا بھر کو آج جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے سارے ڈانڈے انہی دو ملکوں سے ملے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہیں ہیں اور وہاں پر دنیا بھر کے انتہا پسندوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔ امریکہ اس رویہ اور سوچ کے خاتمے کا خواہشمند ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں ایک پرامن ماحول پیدا ہو، مضبوط سویلین حکومت ہو، عام لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر مار دھاڑ اور دشمنی نبھانے کی باتیں کرنے کی بجائے بھائی چارے اور امن سے رہنے پر یقین کریں۔

اس لئے محض یہ کہہ دینے سے کہ امریکہ اپنے مفاد کے لئے پاکستان میں انتشار اور بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے، اس بات کو تسلیم کر لینا ممکن نہیں ہو گا۔ امریکہ یقیناٌ اپنے مفاد کے مطابق اپنے آپشنز اختیار کرے گا لیکن پاکستانی افواج کو کمزور کرنا اور ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینا کسی صورت اس کا آپشن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انتہا پسندی کے فروغ سے امریکہ کے علاوہ مغربی معاشروں کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گا۔ اس ملک میں انتہا پسندی بڑھنے سے اسلام کا نام لے کر مارنے والے دہشت گرد زیادہ بڑی تعداد میں پیدا ہوں گے اور جہادی گروہوں کو ذیادہ اور بہتر پناہ گاہیں نصیب ہو سکیں گی۔

اس کے برعکس پاکستان میں انتشار بڑھنے اور حکومت کمزور ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ طالبان جیسی تحریکوں اور عناصر کو ہو گا۔ وہ جو ایجنڈا قبائلی علاقوں میں نافذ کر چکے ہیں اسی کو پورے پاکستان پر نافذ کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ ملک کی لبرل پہچان کو ختم کیا جائے گا اور اس کی جگہ ایک ایسا تشخص ابھارا جائے گا جو دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ دینی انتہا پسندی کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا۔ بعض عقائد اور مسالک کو ختم کرنے کے لئے جنگ جاری رکھی جائے گی اور ملک میں مذہبی اقلیتوں پر زندگی مزید حرام کر دی جائے گی۔

یہ گروہ پاکستان کے معاملات پر قبضہ کرنے کا خواب بہت دیر سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں یا کسی اور طریقے سے ان ہی لوگوں کی قوت میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ امریکہ اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان میں بدامنی پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے امریکہ کو اپنی مفاد پرستی کے لئے کسی بھی جرم میں ملوث قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن انتہا پسندی کا فروغ خود امریکی مفادات کے برعکس ہے۔

اس صورتحال سے صرف وہ مذہبی جماعتیں فائدہ اٹھا سکتی ہے جو اس وقت طالبان کے دہشت گرد قائد کی موت کو شہادت کا درجہ دے کر اسے پاکستانیوں کی نظر میں ہیرو بنا کر پیش کرنا چاہتی ہیں۔ ان جماعتوں کو اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے کبھی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم اگر لبرل سوچ کی حامل جماعتیں ناکام ہو جائیں، سول معاملات چوپٹ ہوں اور ملک کی حکومت کمزور اور افواج بددل ہو جائیں تو اس سیاسی خلا VACUUM میں ان قوتوں کو سر اٹھانے اور عوام میں مقبول ہونے کا موقع ضرور مل سکتا ہے۔

یہاں یہ کہنا ہرگز مقصود نہیں ہے کہ جماعت اسلامی یا جمعیت علمائے اسلام جان بوجھ کر ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن طالبان کے ساتھ ان کی ہمدردی اور موجودہ صورتحال میں سیاسی طرز عمل اس بات کو ضرور آشکار کرتا ہے کہ انہیں اس صورتحال میں بڑے سیاسی فائدے کی امید ہے۔ اس طرح وہ عوام کی تائید سے پاکستان میں ایک ایسا نظام مسلط کرنے کی خواہش بھی ضرور رکھتی ہوں گی جو ابھی تک لوگوں کی اکثریت کو منظور نہیں ہے ۔ تاہم اس مقصد کے لئے عوام کی مزاج سازی کا کام زور و شور سے جاری ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکہ پاکستان میں انتشار اور بدامنی کا حامی نہیں ہو سکتا۔ اگر اس حوالے سے کوئی ٹھوس اور واقعاتی دلائل موجود ہوں تو یہ رویہ عام کرنے سے پہلے ان دلائل کا سامنے آنا ضروری ہے۔