رقیبوں کی رپٹ

  • سوموار 11 / نومبر / 2013
  • 8717

میرے ایک دیرینہ کرم فرما ہیں جن کو مجھ سے شکایت ہے کہ میں اس جدید زمانے میں مذہب کی بات کیوں کرتا ہوں ۔ قرآن اور قرآنی فکر پر استوار کتابوں کے حوالے کیوں دیتا ہوں ۔ میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا کہ میں چونکہ لاکھوں برس پرانی روایت کا آدمی ہوں ۔مگر بد قسمتی سے اس زمانے کے زنداں میں سزا کاٹ رہا ہو ں ، اس لیے میں اپنی اصل کو نہیں بھول سکا ۔ لیکن میرے پاس آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بھی حسب ذیل اعتراضات  ہیں:

۱۔ کہ آپ نے ملحد ہوتے ہوئے مولوی سے نکاح کیوں پڑھوایا؟
۲۔ بیٹے کا ختنہ کیوں کروایا ؟
۳۔ آپ کو کئی بار جنازہ پڑھتے بھی دیکھا گیا ہے ، آپ ایسی فرسودہ رسوم میں شرکت کیوں کرتے ہیں ؟
 
یہ سب مذہبی رسوم ہیں اور ان پر آپ کا عمل آپ کو ایک ناقص قسم کا اور بھونڈا مسلمان ظاہر کرتا ہے ۔
آپ نے جس قسم کی شکایت میرے طرزِ عمل کے بارےمیں کی ہے اُس کا جواب ہمارے اکبر الہ آبادی تجویز کر چکے ہیں:
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا کر یہ تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خُدا کا اِس زمانے میں
 
رہا میرا مؤقف ، تو میں جانتا ہوں کہ مذہب زندگی کا مرکزی شعبہ ہے جس کے بغیر انسان کا فطرت سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے ۔
میں نے اہل فقر سے جو پٹّی پڑھی ہے اُس کے مطابق زندگی تین شعبوں میں تقسیم ہے ۔
1۔ ذہن جو سائینسں اور علم کا شعبہ ہے
2۔ دل جو مذہب  ، یعنی محبت اور انسانی رواداری کا شعبہ ہے
3۔ قوتِ ارادہ و عمل جو عملی فنون کا شعبہ ہے ۔
 
اگر ان تینوں شعبوں میں باہمی ربط و ضبط اور تعاون نہ ہو تو زندگی کا اصل مفہوم گم ہو جاتا ہے ۔ مذہب جو انسانوں کو فطرت اور کائنات کی قوتوں سے مربوط رکھتا ہے اوراس توازن کے نتیجے میں انسانی معاشرت امن،  ترقی اور خوشحالی کی راہ پر لڑکھڑائے بِغیر استقامت اور استقلال سے رواں دواں رہتی ہے ۔
 
میرا مؤقف یہ ہے کہ فطرت کی کارگاہ میں مذہب ، سائینس اور عملی فنون ایک ہی نصاب کے تین حصّے ہیں ۔ اور ا گر ان تینوں شعبوں میں باہمی ربط و ضبط نظر نہیں آتا تو اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اس کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا ہے ۔ اور جب تک یہ غیر فطری تقسیم قائم رہے گی تب تک لوگ حقیقت اور صداقت تک رسائی نہیں پا سکیں گے ۔
مذہب ، ساَئینس اور عملی فنون مل کر ایک کُل بناتے ہیں جس کی روشنی میں ہم زندگی کو سمجھ کر اس کی تشریح و تفسیر کر سکتے ہیں ۔
 
میں ایک بار پھر اعادہ کردوں کہ سائینس ہمارے ذہن کی ضرورت ہے ، مذہب ہمارے دل کا معاملہ ہے اور فنون ہمارے ارادے اور قوتِ عمل کی ضرورت ہیں۔ جس کے ذریعے ہم اپنی تخلیقی قوتوں کا اظہار کر سکیں ، اور تعمیر و ترقی کے راستے پر سنگِ میل نصب کر سکیں ۔ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تینوں شعبے باہم مربوط ہوں تاکہ ہم جو کچھ سوچیں ، اُسے محسوس کر یں اور پھر اُس کو ایک ٹھوس حقیقت بنا سکیں ۔
 
لیکن ہمارا سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کی غیر معیاری قوتیں تینوں شعبوں کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور وہ اس لیے کہ ان کا مبلغِ علم روایتی ، فرسودہ اور دقیانوسی ہے جو عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔ مروجہ اسلامی نصاب اس زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپ ٹو دیٹ نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے مذہب کی بنیاد پر قائم معاشرتیں پسپا ، عقب افتادہ اور پس ماندہ رہ گئی ہیں ۔  جس کی سب سے واضح مثال پاکستان ہے،  کہ مذہب کے نام پرقائم کی گئی ریاست مذہب کی قتل گاہ بن کر رہ گئی ہے ۔
 
یہاں کے علماء کے ذہنِ نارسا کا کیا تذکرہ کیا جائے کہ وہ اب کُتّوں تک کو مشرف بہ شہادت کرنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان پڑھ کر کہ امریکا اگر کسی کُتّے کو مارے تو ہم اُسے بھی شہید کہیں گے ۔ مجھے اچنبھا ہوا کہ آیا اس بیان کے ذریعے مولانا موصوف طالبان کے متوفی لیڈر کو کُتا کہہ رہے ہیں یا کتوں کی عزت افزائی کر کے انہیں طالبان کے برابر قرار دے رہے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں یہ بیان ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کے لیے باعثِ ننگ ہے ۔
 
مذہب فی زمانہ ایک بہت لا وارث شعبہ ہے ۔ کسی نے درسِ نظامی میں سندِ فضیلت حاصل کی ہو یا نہ کی ہو ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ عالم ہونے کے لیے قرآن کی چند سورتیں ، پکی روٹی ، چند تقاریر ، جبہ ، دستار اور ریش کافی ہیں ۔ اس کے بعد آپ شریعت کو اسی طرح ہاتھ میں لے سکتے ہیں جیسے قانون کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے ۔
 
جب کوئی کسی کو شہید قرار دیتا ہے تو در اصل اس کی موت کو راہِ حق میں قربانی قرار دے رہا ہوتا ہے اور یہ ایک نجی رائے ہوتی ہے ۔ یہ کوئی ایسی حتمی شہادت نہیں ہوتی جس میں آسمانوں کی تائید شامل ہو ۔ شہادت کے لیے پہلی شرط تو یہ ہے کہ شہید ہونے والے کی زندگی دین کے اصولوں کے مطابق رہی ہو ۔ ایک صادق اور امین کی سی زندگی جس کی گواہی معاشرے کے سب کس و ناکس دیں کہ وہ واقعی راہِ حق کا مسافر تھا ۔ اگر کوئی چور ، ڈاکو یا جرائم پیشہ شخص کسی دہشت گرد لشکر میں شامل ہو کر خونریزی کرتا مارا جائے تو اسے شہید کیسے کہا جا سکتا ہے ۔ غزوہ ء  بدر کے شہدا اور سرِراہ خود کش بمبار کی موت دو الگ الگ مظاہر ہیں اور علمائے عہدِ حاضر دو مختلف مظاہر کو آپس میں گڈ مڈ کر رہے ہیں حالانکہ اُنہیں یہ استحقاق ہر گز حاصل نہیں ہے ۔
 
صوفیا کا کہنا ہے کہ قومیں ، ممالک اور ، مختلف انسانی گروہ بالکل انسانی بچوں کی طرح جنم لیتے ہیں ، پروان چڑھتے ہیں ، بوڑھے ہوتے ہیں اور مر کر نئے آنے والوں کے لیے جگہ خالی کرتے ہیں ۔ وہ سب ایک ہی طریقے سے حیات و موت کے دائرے میں گھومتے ہیں اور اپنی قومی کارکردگی کی دولت پس انداز کر جاتے ہیں ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ تھک کر دم لینے کو گئے ہوں ۔ کچھ عرصے بعد وہ از سرِ نو طلوع ہوتے ہیں ۔
 
تاریخ بتاتی ہے کہ بننا اور مٹنا صرف قوموں ہی کی نہیں مذاہب کی بھی تقدیر ہے ۔ جب مذہب کا سورج طلوع ہوتا ہے تو زندگی روحانی ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہے ، اُس کا دائرہ ، مصر ، شام ، روم او ایران تک بلا روک ٹوک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ پہلے وہ عروج و کمال کی منزل کو پہنچتی ہے اور پھر زوال کا قانون اپنا اثر دکھاتا ہے اور پھر یہ ہوتا ہے کہ مذہب کے علمبرداروں سے سے زندگی کی چابی گم ہو جاتی ہے ۔
کہاں ہے بغداد کا دارالحکمت ۔ کیا ہوا ہسپانیہ کے غرناطہ اور الحمرا کا انجام ۔ زوال نے آ لیا نا ؟
 
اگر کسی مظہر یا معاشرتی ہیئت نے باقی رہنا ہو تو اسے مسلسل اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آج لوگ مذہب سے بیگانہ ہو کر مایوس ہوتے چلے جارے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب کی بات ہی نہ کرو ۔ اس کی وجہ اجتہاد کا فقدان ہے ۔ علماء اجتہاد کی بات کرتے ہیں اور مجتہدینِ عصر کے حوالے دیتے ہیں مگر اجتہاد کہیں نظر ہی نہیں آتا ۔
 
میں یہاں اسلام کے بنیادی اصولوں کی بات نہیں کر رہا جن پر دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم استوار ہے ۔ ان اصولوں سے زیادہ مکمل اور پائدار اصول کہیں نہیں ہیں۔ لیکن اس عہد کی مساجد اپنے مقصد حاصل نہیں کر پارہیں ۔ وہ لوگوں کو صلوۃ کے پارس سے سونا بنانے میں ناکام رہی ہیں ۔ یہ سونا کیا ہے؟
 برائی اور بے حیائی سے پاک ہونا ۔ اور اس ضمن میں پاکستان کی کروڑوں مساجد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا ہؤا ہے ۔
 
اور ان ناکام علما کی چالاکی دیکھیے کہ وہ حکومت سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت کا نفاذ مساجد کا کام ہے اور اس کام کی بنیاد صلوۃ ہے :
" ان الصلوۃ تنہا عن الفحشا والمنکر" ۔
 مگر صلوۃ قائم ہو ہی نہیں رہی ۔ لوگ برائی اوربےحیائی کا دامن اتنی سختی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ چھوڑ ہی نپہیں پا رہے ۔ لاکھوں اماموں کی فوجِ ظفر موج سے بھی  یہ تطہیر نہیں ہو پا رہی اور وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے حکومت کو دوش دیتے ہیں کہ وہ شریعت نافذ نہیں کرتی ۔ چہ عجب :
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا ، لا الہ الاللہ