بھارت کے دومتوقع لیڈروں کا رویہ

  • بدھ 13 / نومبر / 2013
  • 6335

کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تہذیب و ثقافت پر نظر ڈالی جائے ۔ کیونکہ ہر معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کا عکاس ہوتا ہے۔کچھ یہی حال ہندوستان اور "ہندوستانی معاشرہ"کی ہے ۔اگرچہ ہندوستانی معاشرہ مختلف نوع ثقافتوں کا ایک ملا جلا مرکب ہے۔ اور یہ اکثریت و اقلیت میں تقسیم ہے۔اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ایک خاص فکر و عمل کے علمبر دار ہیں اور ہند میں رہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو "ہندو" کہتے ہیں۔ اور اقلیت میں وہ لوگ ہیں جو اپنا تشخص برقرار رکھناچاہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔

لیکن ان دومتضاد معاشروں کو باہم ملانے اور یکسانیت پیدا کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً جاری رہی ہیں۔ مقصد کے حصول کے لیے کبھی "گنگا جمنی تہذیب"کا لفظ استعمال کیا گیا تو کبھیکوشش کی کہ" کومن پرسنل لاء" متعارف کیا جائے ۔اس کے باوجود ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی جدوجہد میں مصروف لوگوں کوکامیابی نہیں مل سکی۔شاید اس لیے کہ اقلیتی طبقہ اپنی پہچان برقرار رکھنا چاہتا ہے یا پھرشعور ی و لاشعوری طور پر افکار و نظریات کی سرد جنگ مانع رہی ہے۔ ہند کے رہنے والے اگرچہ اب تک سب "ہندو" نہیں بن سکے لیکن معاشرتی بنیادیں وتصورات،رسم و رواج اور سماجی نظام نے اپنی سطح تک ہر دو معاشروں پر اپنے اثرات ضرورمرتب کر لیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عمل کی حد تک مسلمان معاشرہ جو درحقیقت اسلامی معاشرہ کا عکاس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے۔اوراس کی خطرناک تصویر یہ ہے کہ فکر ونظر میں بھی مسلمان اسلامی معاشرہ کے قیام میں سرگرم نہیں ہیں۔پس یہ لمحۂ فکریہ ہے ۔ آج ضرورت ہے کہ اِسی پس منظر میں ملک کی سیاست کو سمجھا جائے۔

سردار پٹیل اور مودی
سردار پٹیل کو لے کر بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امید وار نریندر مودی اور کانگریس کے درمیان جاری رسہ کشی کے پس منظر میں پٹیل کی مشہور سوانح عمری لکھنے والے راج موہن گاندھی نے کہا ہے کہ پٹیل کبھی بھی مودی کو اپنا نظریاتی جانشین نہ مانتے اور انہیں مودی کے مسلمانوں کے تئیں روپے سے بہت دکھ ہوتا۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کی سوانح عمری لکھنے والے اور مہاتماگاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کہا کہ پٹیل ایسا بالکل نہیں مانتے کہ 2002میں گجرات کے فسادات کے وقت مودی نے اپنا راج دھرم پوری طرح ادا کیا تھا۔ اس جملہ کا استعمال اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے مودی کی مذمت کرنے کے لیے کیا تھا۔

راج موہن گاندھی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پٹیل صرف ایک سیاستداں کے طور پر ہی نہیں بلکہ گجرات کے باشندہ ہونے کی وجہ سے بھی اس بات سے بہت مایوس،دکھی اور پریشان ہوتے کہ ایسے واقعات گجرات میں نہیں ہونے چاہیے تھے اور اس وقت کی حکومت اسے روکنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے راج موہن گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے حامیوں کی طرف سے یا خود ہی اپنے آپ کوکو پٹیل کا جانشین سمجھنے والے مودی ،پٹیل کو نہ تو صحیح طریقے سے سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کا حق نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر مودی اس تصویر پر ابھرے ہوتے تو بہت اچھا ہوتا ۔ لیکن دو وجوہات سے وہ شکست کھا جاتے ہیں۔ پٹیل نے گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کی سرپرستی میں ایک شاگرد کی طرح ترقی کی۔ مودی نے یہ شروعات آر ایس ایس کی سرپرستی میں کی۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک شخص کے طور پر پٹیل ہمیشہ سے ایک گروپ کی تعمیر کرنے والے تھے ۔ دوسرے لوگ ان کے روز مرہ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ جبکہ مودی ایسے ہیں کہ میں چاہوں گا کہ وہ ایسے ہی رہیں۔راج موہن گاندھی نے کہا کہ پٹیل کو کانگریس کا رکن ہونے پر فخر تھا اور انھوں نے یہ قبول کیا تھا کہ نہرو کو وزیر اعظم بنانے کا مہاتما گاندھی کا فیصلہ درست تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نہرو کو بین الاقوامی سطح پر مزید شناخت حاصل تھی۔ مرد آہن کے نام سے جانے جانے والے پٹیل نے 1947کے فسادات کے دوران آر ایس ایس کے کاموں کی تعریف کی تھی، لیکن گاندھی کے قتل کے بعد پٹیل کا رخ بدل گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اس ہندوستانی نظریاتی تنظیم کے دشمن نہیں تو سخت مخالف ضرور تھے۔

پٹیل کی مورتی کا تنازعہ
جالندھر،ریاست پنجاب میں جاری سیاست کے دوران ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈر وریندر شرما مطالبہ کر رہے ہیں کہ میونسپل کارپوریشن کے اسٹور میں رکھی پٹیل کی کانسی کی مورتی کو شہر کے پٹیل چوک پر نصب کیا جائے۔لیکن جہاں ایک جانب بی جے پی کی قیادت والی جالندھر نگر نگم فی الحال6سال پرانی پٹیل کی کانسی کی مورتی کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔وہیں دوسری جانب دونوں پارٹیوں کے لیڈران ایک دوسرے پرالزام تراشی کرتے نظر آرہے ہیں۔کانگریسی کہتے ہیں کہ بی جے پی کے لیڈران نے ہی مورتی کو گم کرکے اسے نیست و نابود کر دیا ہے اور شہر کے میئر کو بتانا چاہیے کہ آخر پٹیل کی مورتی کہاں ہے؟

بی جے پی کہتی ہے کہ گجرات میں پٹیل کی مورتی کا سنگ بنیاد رکھتے ہی کانگریسیوں کوپٹیل کی یاد آگئی۔معاملہ یہ ہے کہ پٹیل کے انتقال کے بعد1950میں پٹیل کی ایک مورتی کو ریلوے اسٹیشن پر لگایا گیا تھا۔ریلوے کی مخالفت کے بعد کی وجہ سے تین سال بعد اسے پرانے ڈی سی آفس واقع میونسپل دفتر میں لگوادیا گیا۔ بعد میں دقت ہونے کی وجہ سے 1973میں مورتی وہاں سے ہٹا دی گئی اور تب سے یہ کارپوریشن کے اسٹور میں رکھی ہوئی تھی۔اور اب جب اس کو پٹیل چوک پر لگانے کی بات آئی تو وہ مل نہیں رہی۔اس پورے واقعہ کے پس منظر میں بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اس ملک مین پٹیل اور اس کی مورتی کی حیثیت کیا ہے۔اس کے باوجود آج کل مورتیوں کے ملک میں پٹیل کی مورتی پر سیاست جاری ہے۔

سقوط حیدرآباد کا پس منظر
"مرد آہن "کو اگر سقوط حیدر آباد وغیرہ کے پس منظر میں سمجھا جائے تو شاید ممکن ہے کہ نریندر مودی ،ان کی فکر،ان کے ماضی و مستقبل کے عزائم کو سمجھنے میں بھی آسانی ہو۔17؍جنوری 1948ء کو ، ممبئی میں 50 ہزار سے زائد اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر داخلہ ہند سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کہا تھا "گاندھی جی عدم تشدد اور کچھ نہ کرو کی تلقین کرتے ہیں مگر ہم نے حکومت سنبھالی ہے اور ہمارے ملک میں گڑبڑ ہوتی ہو یا ملک کے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہو تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے اور ہم خاموش نہیں رہ سکتے "۔ ساتھ ہی 15؍اگست1948ء کو یوم آزادی ہند کے موقع پر نائب وزیراعظم ہند سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نشری تقریر میں کہا تھا "کشمیر میں ابھی جنگ جاری ہے اور جہاں تک حیدرآباد کا تعلق ہے وہ ایک ناسور بن گیا ہے جس کا زہر بقیہ ہندوستان میں بدستور سرایت کرتا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کو اس بات کا اعتمادہے کہ وہ کشمیر اور حیدرآباد کے مسائل کو آنے والے دنوں میں حل کرلے گی"۔

8؍اگست 1948ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نائب وزیراعظم ہند نے بتایا کہ "حکومت کو جواطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ اب تک 8؍لاکھ ہندوستانی مسلمان حیدرآباد میں پناہ گزینوں کی صورت میں منتقل ہو چکے ہیں اور حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی پناہ گزینوں کی صورت میں منتقلی کے انسداد کیلے ممکنہ تدابیر پر غور کر رہی ہے "۔

سطور بالا کی تفصیلات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر داخہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سقوط حیدرآباد میں کس حدتک اپنا نظری اور عملی کردار ادا کیا تھا۔ سقوط حیدرآباد، تاریخ کا ایک قابل لحاظ سفر طے کر چکا ہے جس کی تفصیلات میں بہت کچھ کہنا سننا باقی ہے۔ اب ہمارے لئے یہ سوال ہی اہم رہ گیا ہے کہ حیدرآباد کے مسلمان سقوط حیدرآباد کے تاریخی المیہ سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ جبکہ مورخین کا پہلا اصرار یہی ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں گزرے ہوئے واقعات سے سیکھا جائے کیونکہ وہ ایسے تجربات ہوتے ہیں جن کے استعمال سے تاریخی بصیرت اور شعور پیدا ہوتا ہے اور انسانی مستقبل کو ایک بامعنی سمت دی جاسکتی ہے۔ اس پس منظر میں مستقبل کوبامعنی بنانے کیلئے ، بہادر یار جنگ کے الفاظ بھی ہمیں یاد رکھنا پڑیں گے کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ اگر آپ نے فوراً حالات حاضرہ سے واقف ہو کر اپنے امراض اور کمزوریوں کا علاج نہ کیا تو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دئیے جائیں گے " (اقتباس:سقوط حیدرآباد میں سردار پٹیل کا رول،بشکریہ تعمیر نیوز)۔

مستقبل کے دومتوقع دو لیڈر
یہ وہ مکمل پس منظر، پیش منظر اور حالات ہیں جن کی روشنی میں سردار پٹیل،ان کی فکر،ان کے منصوبہ اورذمہ دارنہ کردار بحیثیت وزیر داخلہ ہند ا بھر کر سامنے آتا ہے۔شاید اُسی پس منظر میں بی جے پی کے موجودہ "مرد آہن " اپنی ذمہ داری کو جو ان کو پارٹی کی جانب سے 2014الیکشن کے تعلق سے دی گئی ہے ، کا احساس رکھتے ہوں گے۔جس طرح ملک کی سا لمیت اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے سردار پٹیل نے بہت کم وقت میں اپنا کرداربخوبی ادا کیا۔ ٹھیک اسی طرح مودوی اور ان کی پارٹی کے افراد اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک طرف اپنی تقریروں میں انھوں نے ایک نہیں مختلف مواقعہ پر اپنی کم علمی کا اظہار کرتے ہوئے تاریخ اور تاریخی واقعات و شخصیات کو مجروح کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گودھرا اورگجرات میں انسانی جانوں کی ہلاکت اور بحیثیت وزیر اعلیٰ پورے معاملے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی بھی لازماًہمارے سامنے رہنا چاہیے۔صرف ان دو واقعات کا اگر بغور مطالعہکیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ ملک اور اہل ملک کے حق میں سود مند ثابت نہیں ہو سکتے ۔

دوسری طرف خاندانی سیاست کے وارث راہل گاندھی جو ایک طویل عرصہ سے سیاست کر رہے ہیں ابھی تک اپنی پہچان بنانے میں ناکام رہے ہیں۔اس کی ایک مثال سابقہ اتر پردیش کی ریاستی ذمہ داری اور اس میں ناکامی ہے۔ اسی طرح حال ہی میں مظلوم مظفر نگرکے مسلمانوں کا تخریب کاری طاقتوں سے رابطہ میں رہنے کا الزام کمگا کر بھی انہوں نے اپنی سیاسی عدم پختگی کا مظاہرہ کیاہے۔اس واقعہ نے جہاں مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مزید نمک مرچ چھڑکنے کا کام کیا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کانگریس اور بی جے پی کے ان دو لیڈران میں سے کون مستقبل قریب میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالتا ہے ۔لیکن ان دونوں ہی لیڈران پر اہل ملک کو اطمینان نہیں ہے۔اور اگر یہ واقعہ ہے تو پھر کیا ہونا چاہیے ؟یہ فیصلہ ابھی سے ہوجائے تو بہتر ہے۔