بلدیاتی انتخابات پر شب خون
- منگل 19 / نومبر / 2013
- 4558
پنجاب میں دہشت گردی کی دھمکیوں اور خوف کے ساتھ بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ جن کے لیے حکومتی اعلانات کے مطابق تیاریاں مکمل ہیں۔ پنجاب حکومت بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ لیکن اس کے تمام اقدامات اس کے درپردہ خوف کا اظہار ہیں۔ جبکہ ان اقدامات سے خوف کے ساتھ ساتھ اس کی بدنیتی کا بھی واضح تاثر مل رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سیاسی و جماعتی بنیادوں پر کرانے کا حکم دیا ہے۔ لیکن حکومت پنجاب کی بددیانتی ملاحظہ ہو کہ اس نے بلدیاتی بل میں سے غیر سیاسی اور غیر جماعتی کے الفاظ تو نکال دیے ہیں لیکن ان کی جگہ سیاسی اور جماعتی انتخابات کے الفاظ شامل نہیں کیے ہیں۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تمام جماعتیں اور آزاد امیدواران انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔
سوال یہ ہے کہ انتخابات کے طریقہ کار میں جماعتی اور سیاسی کے الفاط شامل کرنے میں کیا قباحت ہے اور اگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا اور یہ عدالت کی منشاکے مطابق ہیں تو پھر انہیں شامل کرنے سے گریز کیوں کیا جارہا ہے۔ لوگوں کے مطالبہ کے باوجود حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہورہی۔ یہ کام بلاوجہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کے سیاسی و انتظامی مشیروں نے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوئی منصوبہ بندی ضرور کررکھی ہے جو بہرحال پولنگ تک کھل کر سامنے آجائے گی۔
پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے جو تازہ حربہ استعمال کیا ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کاغذات نامزدگی اور بلدیاتی انتخاب کا سارا عمل عدالتی کے بجائے انتظامی عملہ کرے گا۔ گویا آئندہ بلدیاتی انتخابات پنجاب میں بیورو کریسی کی نگرانی میں ہوں گے۔ اور اس سلسلے میں پنجاب کے 36 اضلاع میں ڈی سی اوز کو ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران بنا کر نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے۔ یہ وہی بیورو کریسی ہے جو وزیراعلیٰ کے ماتحت کام کرتی ہے اور جو اس سے قبل بلدیاتی بل میں وزیراعلیٰ کو بلدیاتی سربراہوں کو برخواست کرنے کا اختیار دلاچکی ہے۔
ان افسران کی ترقی کی کنجی شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے بیوروکریسی ان انتخابات میں بھی وہی کچھ کرے گی جو شہباز شریف کی خواہش اور پسند ہوگی۔ گویا ان انتخابات پر ابھی سے انگلیاں اٹھنا شروع ہوجائیں گی۔ اور ہوسکتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اسے عدالت میں لے جائے۔ ایسے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہوسکتی ہے اور یہی پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن چاہتا ہے۔
سپریم کورٹ کے زبردست دباؤ پر صوبے7 دسمبر کو انتخابات کرانے پر راضی ہوئے تھے۔ جبکہ ابھی تک حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن نہیں ہوسکا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن بھی ان انتخابات کی تاریخوں میں توسیع چاہتا تھاکہ اس وقت تک بیلٹ پیپر چھاپے نہیں جاسکتے تھے ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کا پنجاب حکومت فائدہ اٹھانا چاہتی ہے کہ ایسی صورت میں بیلٹ پیپر نجی چھاپہ خانوں سے چھپوانا پڑیں گے۔ اورپنجاب حکومت ‘ مسلم لیگ (ن) اور بیورو کریسی مل کر ایسے چھاپہ خانوں سے بیلٹ پیپر چھپوائے گی جہاں سے اسے زائد بیلٹ پیپر چھپوانے کی سہولت مل سکے۔
یہ زائد بیلٹ پیپر مسلم لیگی امیدواروں میں تقسیم کرکے بیلٹ بکس میں انتظامیہ کی مدد سے داخل کردیے جائیں گے۔ اس طرح مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کا اعلان ہوجائے گا اور باقی امیدوار اورجماعتیں کچھ دیر شور مچا کر خاموش ہوجائیں گی۔ یہ تو اس بیورو کریسی کی سوچ ہے مگر شاید اب ایسا نہ ہوسکے کہ اب سیاسی جماعتیں چوکس اور میڈیا متحرک ہے ۔ چھوٹے حلقے ہونے کی وجہ سے ہر امیدوار اپنی حد تک طاقت ور ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی اب تک کی کارکردگی صفر ہے اور اس کے امیدوار تاحال عوام کو کچھ نہیں دے سکے۔ دوسری طرف تحریک انصاف متبادل قوت بن کر ابھر رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ اس کا انتخابی اتحاد بھی ہوسکتا ہے۔ اگر تحریک انصاف ڈرون حملوں کے سلسلے میں اعلانیہ خیبرپختونخوا حکومت قربان کرسکتی ہے تو اسے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف کھڑے ہونے سے کون روکے گا۔ جبکہ وہ پہلے ہی 11 مئی کے انتخابات کو جعلی قرار دے رہی ہے اور اس کے خلاف سراپا احتجاج بھی ہے۔ اور عدالتوں میں برسرپیکار بھی۔
دوسری جماعتیں بھی 11مئی کے انتخابات کو جعلی مینڈیٹ کہہ رہی ہیں اب جب سول انتظامیہ کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور ان کے نتائج ان جماعتوں کو قبول نہیں ہوں گے تو ذرا تصور کریں کہ پنجاب میں کیا صورتحال ہوگی اور یہ طوفان وفاق میں کیا تباہی لائے گا۔
لیکن شایدپنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں جھرلو پھیرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے لیکن شاید یہ کارروائی اسے مزید اقتدار دینے کے بجائے پہلے سے موجود اقتدار کو ہی کو خطرے میں نہ ڈال دے۔ اگر یہ انتخابات شفاف ہوتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کو زبردست دھچکا لگنے کا امکان ہے جسے سہنے کا مسلم لیگ (ن) میں حوصلہ نہیں ہے اور دھاندلی کا دھچکا سہنے کے لیے قوم تیار نہیں ہے۔