ریاست کہاں ہے؟

  • ہفتہ 23 / نومبر / 2013
  • 4574

پاکستان کی ریاست اور معاشرے کو مسائل کے اتنے طوفانوں نے گھیر رکھا ہے کہ آج یہ کہنا بھی آسان نہیں کہ سب سے مہیب خطرہ کون سا ہے۔ کس خطرے نے ہماری سلامتی کو چیلینج کیا ہؤا ہے اور وہ کون سے عفریت ہیں جو مملکت خداداد کی رگ جان کو کاٹنے کے درپے ہیں؟ ۔ ان سوالوں کے کئی جواب ہیں مگر یہ تو طے ہے کہ معاشرے میں ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات ہیں۔

قومی سطح پر ان خطرات کے بارے میں بہت بحث ہو رہی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ انہیں عدم برداشت، انتہا پسندی، دہشت گردی ، نسلی اور لسانی تعصبات ، فرقہ وارنہ کشیدگی کے رجحانات سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ جب یہ بات عوام جانتے تو یقیناًخواص ان سے بہتر اور زیادہ ہی سمجھتے اور جانتے ہیں۔ دوسرے معنوں میں معاملہ بے خبری کا نہیں ہے بلکہ ہمارے ارباب اختیار جانتے بوجھتے بھی ان مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہیں کر رہے ۔

ہمیں ان خطرات کی جڑ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے ساتھ عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ تمام مسائل کی بنیاد کیا ہے۔ اگر ہم اس کا ادراک نہیں کریں گے تو زمانے کی رفتار کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔ جس ملک میں حکیم اللہ محسود جیسے قاتل کو ہیرو بنا دیا جائے وہاں مسائل کا ادراک کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں رہ جاتا۔

ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے تازہ ترین واقعہ راولپنڈی کا سانحہ ہے جو فرقہ واریت ، دہشت گردی، عدم برداشت جیسے رویوں کا شاخسانہ ہے۔ اس سانحہ کے حوالے سے عدالتی کمیشن بھی بنا دیا گیا اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی مگر واقفان حال جانتے ہیں کہ پاکستان میں جس واقعے پر مٹی ڈالنی ہوتی ہے اس پر کمیشن اور کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں اور پھر ایسے سانحات تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اس واقعہ کی ابتدا جس جانب سے بھی ہوئی ہے اس سے قطع نظر یہ رویے کسی بھی طرح مہذب معاشرے سے میلان نہیں رکھتے۔ کسی بھی اور ملک میں اگر اس طرح کا واقعہ پیش آتا تو حکومت ہل کر رہ جاتی مگر پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے جہاں حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمارے حکمران بیرونی دوروں پر عیاشیوں میں مگن رہتے ہیں۔

سانحہ راولپنڈی کے بعد شہر میں کرفیو کے باوجود جس طرح اس کی دھجیاں اڑائی گئیں اور انتظامیہ خاموش رہی وہ بھی ہمارے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے مگر کیا کہئے کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

اس کے بعد عجب صورتحال تو یہ رہی کہ دو گروہوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اسے لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ہمارے بیشتر مذہبی رہنما جو شدت پسند عناصر کے سرپرست ہیں یہ شور بپا کئے رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ غیر ملکی طاقتوں کا کیا دھرا ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صرف اپنی سیاست چمکانا ہوتا ہے۔

اسی گمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے کرفیو کے دوران ہی راولپنڈی میں 6 امام بارگاہیں جلائی گئیں۔ اس کے بعد ملتان اور چشتیاں میں فسادات کروائے گئے اور پھر کوہاٹ کا بھی نمبر آیا۔ان تمام تر سانحات کے باوجود ملک بھر میں اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری رہا اور اس سانحہ کی آڑ میں ملک بھر میں اشتعال انگیز تقاریر بھی کی گئیں۔ مگر کسی حکومتی حلقے کی طرف سے اسے روکنے کے لئے کوئی اقدام نہ کیا گیا۔

اگر پاکستان کو مسائل پر قابو پانا ہے تو اس کے لئے حکومت کو قومی سطح پر یکسو ہو کر ایسا لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا جس سے عدم برداشت، انتہا پسندی، دہشت گردی ، نسلی اور لسانی تعصبات ، فرقہ وارنہ کشیدگی سے نفرت کی فضا پیدا نہ ہو سکے۔ اور اشتعال انگیز بیانات دے کر ان رویوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔

جب تک ملک کے طول و عرض میں ریاست اپنی رٹ مکمل طور سے قائم نہیں کرتی۔ اس وقت تک انتہا پسندوں اور نیم ملاؤں کی دکانداری بند نہیں ہو گی اور جب تک مذہب کے نام پر سیاست کی یہ دکان بند نہیں ہوں گی، دہشتگردی کے ناسور کے خاتمہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا نا ممکنات میں سے ہے۔