کوفے سے کراچی تک

  • اتوار 24 / نومبر / 2013
  • 6316

شبّیر حسن خان جوش ملیح آبادی کو، قیامِ پاکستان کے کئی برس بعد فرمائشی ہجرت کے ذریعے ہندستان سے کراچی لایا گیا تو آپ نے بیان جاری فرمایا:

" میاں ! جس شخص کا نام شبّیرحسن خان ہو اُس کے لیے ہندوستان میں رہنا مُشکل ہے "۔
یہ اظہار اُس نامور شاعر کی طرف سے دو قومی نظریے کی ادبی تائید تھی ، جو جواہر لعل نہرو کے ذاتی دوست تھے ۔
 
کراچی میں جوش صاحب کا بڑا پُر جوش استقبال ہوا ۔ مشاعرے پر مشاعرہ ، مشاعرے پر مشاعرہ ، اور پھر مشاعرے پر مشاعرہ ۔ اس مشاعرہ آرائی کے مشاطگان میں ہمارے پیارے زیڈ اے بُخاری اور اُن کے بیوروکریٹ دوست اے ٹی نقوی مرحومین پیش پیش تھے ۔
 
اُدھر جوش صاحب کا یہ حال کہ رہنے کو مستقل گھر نہیں ، ملازمت نہیں ، سرکار سے وظیفہ نہیں ۔ جوش صاحب کو یہ صورتِ حال راس نہیں آئی ، چنانچہ ایک اور مشاعرہ درپیش ہؤا تو عرضِ نیازمندانہ کے طور پر ذیل کا قطعہ پڑھا:
اے ٹی نقوی ہے کوئی ، زیڈ اے بُخاری ہے کوئی
قوم کی قوم چِڑی مار ، چنا زور گرم
یوں کراچی میں ہوں میں جیسے ہوں کوفے میں حُسین
ہیں شہادت کے سے آثار ، چنا زور گرم
 
کراچی کو کوفے سے تشبیہہ دے کر حضرتِ جوش نے گویا اپنے سیاسی میزبانوں کی برہنہ پُشت پر لعابِ دہن اُگل دیا تھا ، جو کارگر ثابت ہوا اور جوش صاحب کی رہائش گاہ کی الاٹمنٹ بھی ہوگئی اور وظیفہ بھی مقرر ہو گیا ۔
 
اِسے کہتے ہیں ٹیڑھی اُنگلی اور وہ بھی جوش جیسے شاعر کی ، کہ اُنہوں نے اُس کے استعمال سے پاکستانی نوکر شاہی کےتھیلے سے آبادکاری کا گھی نکال لیا اور کوفہ پھر سے کراچی بن گیا ۔
 
ممکن ہے کراچی اپنے قدیمی کلاچی روپ میں کبھی پُر امن شہر رہا ہو لیکن تاریخ کی اُتھل پتھل میں اُس کی روح ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے مہمان نواز اوربیگانوں کے لیے بے مہر رہی ہے ۔
 
 یہ شمال مغربی درّوں سے نقل مکانی کر کے کراچی میں ٹھکانہ کرنے والے ہوں ، یا کراچی کو اغوا کرنے والے ، یا پھر کراچی چھوڑ کر بھاگ جانے والے ، کراچی سب کے لیے بختِ نُصر کا بابل رہا ہے ۔
اب آپ سوچیں گے کہ میں یہ کراچی کے اغوا کا شوشہ کس بنا پر چھوڑ رہا ہوں ۔ تو قصّہ کچھ یوں ہے کہ کراچی ، شہرِ قائد و شہرِ الطاف ، کبھی مشرقی و مغربی پاکستانوں کا مشترکہ دارالحکومت ہؤا کرتا تھا ۔ اکتوبر 1958 میں جب ایوب خان نے مارشل لاء لگائی تو ساتھ ہی کراچی کے بطور دارالحکومت اغوا کیے جانے کے منصوبے بھی تراشے جانے لگے ، اور انجامِ کار ساٹھ کی دہائی میں کراچی کا دارالحکومت اغوا کر کے راولپنڈی کے نواح میں شکر پڑیاں کی اوٹ میں چھپا دیا گیا ۔
 
اس اغوا شدہ کراچی کا نام بدل کراگرچہ اسلام آباد رکھا گیا لیکن اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ شہر مارشل لاء آباد ہی رہا اور آج بھی ہے۔  کیونکہ اس شہر نے پہلی مارشل لاء سمیت کل ملا کر چار مارشل لاؤں کا دودھ پیا ہے ۔ اب اس شہر کے گلی کوچوں میں نظریہ ء ضرورت اور آپریشن فیئر پلے کے بھوت ناچتے ہیں اور راتوں کو نظریہ ء پاکستان کی چیخیں سنائی دیتی ہیں ۔
 
وفاقی دارالحکومت کے ٹھکانے لگ جانے کے بعد کراچی کا جو حال ہؤا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ لیاری کے لشکر خانے سے انچولی تک ہونے والی تازہ ترین وارداتیں اس شہر کی تاریخ لمحہ بہ لمحہ رقم کرتی رہتی ہیں اور ہم ، آپ ، سب پڑھتے رہتے ہیں۔
 
ایک بار قبلہ رئیس امروہوی نے اس شہر کی  حالتِ زار اس طرح بیان کی تھی :
بھاگ اِس شہرِ کراچی سے کہ اس کم بخت کا
رزق امریکہ میں اُترا ہے تو پانی سندھ میں
 
اور میں سچ مُچ کراچی سے بھاگ کر لاہور چلا آیا ۔ سنا ہے یہ سنتِ نقل مکانی میری طرح اور لوگوں نے بھی پوری کی ۔ اور تو اور الطاف بھائی بھی رختِ سفر باندھ کر امریکہ روانہ ہو گئے۔ حالانکہ میں نے اُنہیں اس پر مجبور نہیں کیا تھا ۔
 ( یہ بات از راہِ تفنن کہی گئی ہے ورنہ میں کیا اور میری اوقات کیا) ۔
 
ہمارے بعد اب جس قسم کا دوقومی نظریہ کراچی میں رائج ہے ، اُس کے مطابق دو قومیں مسلمان اور غیر مسلمان نہیں بلکہ مہاجر اور مقامی یعنی مہاجر اور غیر مہاجر ہیں ، جو کراچی میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں ۔ اسی لیے کبھی کراچی سے جناح پور کے نقشے برآمد ہوتے ہیں ، کبھی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی خبریں گرم ہوتی ہیں اور کبھی کراچی کو جنوبی ایشیا کا بیروت بنانے کے شوشے چھٹنے لگتے ہیں ۔
 
کراچی ، آج بھی پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت ہے ۔ اس دارالحکومت کے تجارتی ایوانوں کے درودیوار کو بد نظمی ، کرپشن ، گینگ بازی اور بد سیاستی کی دیمک کھائے چلی جا رہی ہے ۔اور جب اقتصادی دارالحکومت بحران کا شکار ہو تو سیاسی دارالحکومت کی بنیادیں بھی مسلسل متزلزل رہتی ہیں اور استحکام قائم نہیں ہو پاتا ۔
 
پھر جس قوم کا سیاسی دارالحکومت اپنے ملکی وسائل کی جگہ امریکی ڈالر سے چلتا ہو ، اُس قوم کی خودمُختاری گروی پڑی ہوتی ہے۔ جسے سیاسی بیانات ،شعلہ بار تقریروں ،احتجاجی جلسوں اور دھرنوں سے رہائی نہیں دلائی جا سکتی ۔
 
احتجاج کی تعریف کیا ہے؟
 جب سیاست کی بلی جذبات کا کھمبا نوچتی ہے تو اسے احتجاج کہا جاتا ہے جس کے ذریعے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے ، جیسا کہ پچھلے پینسٹھ سال سے بنایا جا رہا ہے ۔
 
اوراب تازہ ترین جعلسازی ڈرون حملوں کے حوالے سے ہو رہی ہے ۔ ڈرون حملوں کی روک تھام کے ضمن میں بھی دو قومی نقطہ ء نظر کارفرما ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ہر قدم دو قومی نظریہ کی رو سے اُٹھایا جاتا ہے۔ ایک پاکستانی قوم ڈرون گرانے کا نعرہ لگاتی ہے اور قوم کے اندر چھپی دوسری قوم ڈرون کی ڈال کو ڈالر کی ڈال سمجھ کر چُپ میں ہی اپنی عافیت جانتی ہے ۔ مگر دونوں فریقوں کے پاس ڈرون سمیت کسی بھی مسئلے کا شافی حل نہیں ہے ۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
 
اور اب آخر میں حضرتِ جوش کے چند اشعار بطورِ تبرک:

سوزِ غم دے کے مجھے ، اُس نے یہ ارشاد کی

جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا

 دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

 جب چلی سرد ہوا ، میں نے تجھے یاد کیا

مجھ کو تو علم نہیں تجھ کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تو نے مجھے برباد کیا