مصر میں جمہوری حقوق کا قتل
- جمعرات 05 / دسمبر / 2013
- 5626
مصر میں فوج کی پشت پناہی سے برسر اقتدار آنے والی حکومت نے آزادی اظہار رائے پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں۔ صحافیوں کے لئے آزادی سے کام کرنا اور معلومات فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت آزادئ صحافت کی صورتحال سابق صدر حسنی مبارک کے دور سے بھی ابتر ہو چکی ہے۔
جولائی میں صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور فوٹو گرافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس انہیں جائے واقعہ سے ہٹانے کے لئے اکثر تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو اس دوران زد و کوب کیا گیا اور معلومات فراہم کرنے سے زبردستی روکا گیا۔ اس دوران حکومت کی طرف سے رپورٹنگ اور تبصروں کے حوالے سے قوانین کو بھی سخت کیا گیا اور حکمرانوں نے سختی سے ان پر عملدرآمد کروانے کی کوشش بھی کی ہے۔
مصر میں میڈیا کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے ساتھ آزادئ اظہار کو بھی سخت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ حکومت معلومات کی فراہمی کو ناممکن بنا رہی ہے اور پروپیگنڈا کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں سچائی گم ہو چکی ہے اور جو لوگ سچ بات اور حقائق لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں ظلم و جبر کے علاوہ قید و بند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کئی صحافیوں کو گرفتار کر چکی ہے یا انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے آزادئ صحافت پر سب سے بڑا حملہ گزشتہ ماہ ہوا تھا۔ حکومت نے فوجی رہنماﺅں کے بارے میں مزاح کرنے پر ملک کے مقبول مزاحیہ شو کرنے والے باسم یوسف کا پروگرام بند کر دیا تھا۔ یوسف مصر کا سب سے مقبول پروگرام ہوسٹ کرتا تھا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کا پروگرام البرنا میگ ملک کی نصف کے قریب آبادی دیکھتی تھی۔ باسم یوسف کو مصر کا مقبول ترین شخص بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ٹائم میگزین نے اس سال دنیا کی سو اہم ترین شخصیات میں بھی شامل کیا تھا۔ باسم یوسف کو امریکی دی ڈیلی شو کے میزبان جان سٹیوارٹ کا مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ مصر کی حد تک اس کا پروگرام شاید سٹیوارٹ سے بھی زیادہ مقبول تھا۔ تاہم نومبر کے وسط میں ٹیلی ویژن حکام کی طرف سے شو سے محض چند منٹ پہلے اسے مطلع کیا گیا کہ اسے پروگرام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ پابندی ابھی تک قائم ہے۔
مصر کی فوجی حکومت نے سرکاری میڈیا کو مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا کے لئے استعمال کیا ہے۔ حکومت کی نگرانی میں چلنے والے اخبارات اور ٹیلی ویژن اسٹیشن اخوان المسلمین کے خلاف معلومات فراہم کرتے ہیں اور اخوان رہنماﺅں اور سابق صدر محمد مرسی کی کردار کشی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میڈیا کا جو حصہ براہ راست سرکاری کنٹرول میں نہیں ہے اس میں کام کرنے والے صحافیوں کی اکثریت بھی کسی نہ کسی گروہ کی حامی ہے۔ معزول صدر مرسی کے ایک سالہ دور میں لبرل عناصر کی مہم کے دوران بہت سے صحافیوں نے بھی جدوجہد کی تھی۔ اس پس منظر میں متوازن رائے سامنے لانے والے میڈیا کا فقدان اس وقت مصر کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔
تاہم صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت حقائق پر مبنی خبروں کی فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بعض صحافی مجبوراً ، بعض حرص کی وجہ سے اور بعض نظریاتی طور پر موجودہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس طرح عام لوگوں کو صحیح صورتحال کے بارے میں معلومات کی فراہمی محال ہو چکی ہے۔ مصری جرنلسٹ فیڈریشن کی نائب صدر عبیر سعدی کا کہنا ہے کہ اس وقت مصر میں صحافت پر انتہائی کڑا وقت ہے۔ اگرچہ مرسی کے مخالفین اور حامی اس بات پر متفق ہیں کہ میڈیا آزاد ہونا چاہئے لیکن اس سلسلہ میں کوئی ادارہ بھی ٹھوس اقدامات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ صورتحال روز بروز دگرگوں ہو رہی ہے۔
اگرچہ اس وقت ملک میں نئے آئین کی تیاری کا کام زور و شور سے جاری ہے اور جلد ہی نئے آئین پر ریفرنڈم اور اس کے ساتھ صدارتی انتخاب کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے لیکن صحافی تنظیموں کو نئے آئین کے نفاذ کے بعد بھی آزادئ اظہار رائے کے حوالے سے کسی انقلابی تبدیلی کی امید نہیں ہے۔
ملک میں نیا ائین بنانے کے لئے جو کمیٹی قائم کی گئی تھی اس میں جرنلسٹ فیڈریشن کا نمائندہ بھی شامل تھا۔ اس طرح جرنلسٹوں کی نمائندہ تنظیم نے آئین میں آزادئ اظہار کے حوالے سے ضمانتیں فراہم کرنے کے لئے تجاویز دی تھیں۔ اس تنظیم کا مؤقف تھا کہ آئین کو اس بات کی ضمانت فراہم کرنی چاہئے کہ خبروں کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور کسی شخص کو کوئی رائے رکھنے کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکے گی۔ تاہم آئین کے مسودے میں ان میں سے کوئی تجویز شامل نہیں کی گئی۔ آئین میں غیر مبہم الفاظ میں آزادئ صحافت کا ذکر کیا گیا ہے۔ باقی معاملات نئی پارلیمنٹ اور حکومت کی صوابدید پر چھوڑے گئے ہیں۔
مصر میں جولائی میں منتخب صدر کو معزول کرتے ہوئے فوج نے ان کے حامیوں کو بری طرح کچل دیا تھا۔ مظاہرین کے خلاف سکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائی میں سینکڑوں اور بعض اطلاعات کے مطابق ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ صدر مرسی کو ایک برس دور اقتدار کے دوران یکطرفہ آئین مسلط کرنے اور لبرل عناصر کی تجاویز کو مسترد کرنے پر اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اس کے باوجود وہ مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر تھے جنہیں ایک برس سے زائد حکومت کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتیں مصری فوج کے اس ظلم پر خاموش رہی ہیں اور فوج کی اعانت سے قائم ہونے والی حکومت کو قبول کر لیا گیا ہے۔
سعودی عرب ، کویت اور امارات نے تو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کر کے اخوان مخالف حکومت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس عالمی صورتحال میں مصر میں جمہوریت ، انسانی حقوق اور آزادئ صحافت بیک قلم جنبش مطعون ہوئے ہیں۔ عرب بہار کے نام سے جمہوری حقوق کے لئے جو تحریک قاہرہ کے التحریر چوک سے شروع ہوئی تھی .... اب مصر کی حد تک وہ ملک کو دو واضح گروہوں میں تقسیم کر چکی ہے۔ ایک طرف اخوان المسلمین اور ان کے حامی ہیں اور دوسری طرف لبرل عناصر اور فوج ہے۔
اس لڑائی میں ابھی تک کسی کی واضح فتح کے آثار نہیں ہیں۔ اس تقسین کے ختم ہونے تک جمہوریت اور اس سے متعلق حقوق مصر میں حرف ممنوعہ ہی رہیں گے۔