ایران ، سعودی عرب تعلقات اور پاکستان
- جمعہ 06 / دسمبر / 2013
- 5519
احمدی نژاد کی رخصتی کے بعد ایران کی نئی حکومت نے علاقائی اور عالمی کشیدگی کے خاتمے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں اور جو عزم دکھایا ہے وہ ان کی ریاست کے مفاد میں ہے۔ ایران نے یقیناًیہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ اس نے عزت مندانہ طریقے سے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ کر کے اپنے آپ کو طاقتور اقوام کے حملے اور مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے چنگل سے نکال لیا ہے۔ ورنہ امریکہ اور اسرائیل اس کی تنصیبات پر بمباری کرنے کو تیار ہی بیٹھے تھے۔ تاہم اس حملے کے بعد اسرائیل کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جاتی اور یہ جنگ اس خطے تک محدود رہنا مشکل تھا۔
اسرائیل جنیوا میں جاری مذاکرات کو سبو تاژ کرنے پر تلا بیٹھا تھا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا جب اس نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے ذریعے معاہدے پر دستخط رکوا دئیے۔ چنانچہ دیگر ممالک کو بھی بادلِ ناخواستہ اس کا ساتھ دینا پڑا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے اعتراض کیا تھا کہ ایران آرک میں بھاری پانی کا ری ایکٹر نصب کر رہا ہے۔ جس کے ذریعے ایٹم بم بنا سکتا ہے اس لئے اس تنصیب کو منجمد کر دیا جانا چاہئے لیکن ایران نے اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایااور آرک سمیت اپنی تمام جدید سنٹری فیوج مشینوں کو غیر فعال کر دیا۔
اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی ایران سے معاہدے کا مخالف تھا تاہم یہ ایران کی زیرک حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ اس نے امریکہ کو مطمئن کر دیا۔ مگر اس معاہدے میں ایران کے ساتھ روس کا کردار شام کے معاملے کے بعد ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا اور اس نے معاہدے کے حق میں بڑی طاقتوں کو قائل کیا۔
اس وقت سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس عارضی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اسرائیل نے اسے تاریخی غلطی قرار دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کویت، سعودی عرب اور اومان میں خیر سگالی کا دورہ کر کے خلیجی عرب ریاستوں کی بد گمانیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ان سے رابطہ استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس متنازع جوہری منصوبے سے قطع نظر ایران کے لئے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کو معمول پر لانا ضروری تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ایران عرب ممالک میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کے لئے وہاں مداخلت کر کے اپنی ہمنوا حکومتوں کو بر سر اقتدار لانے کی کوشش کرے گا ۔ تاہم یہ معاملہ بڑاحساس ہے جبکہ خود سعودی عرب کو بھی ایران سے یہ گلہ ہے کہ ماضی میں اس کی ایجنسیوں نے اس کے سفیر کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔
ادھر ایک روز قبل ہی حزب اللہ نے بیروت میں واقع ایرانی سفارتخانے پر بم دھماکے کا الزام سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی پر عائد کیا ہے۔ اب جبکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سلسلہ جنبانی کی شروعات ہو گئی ہے تو دونوں ایسی سازشوں یا افواہوں کا سدباب کر سکیں گے۔ ظاہر ہے اسرائیل کو ان دونوں اہم مسلمان ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کسی طور قابل قبول نہیں ہو گی۔ اب جبکہ بظاہر سعودی عرب ایران کے متنازع جوہری منصوبے پر کئے گئے معاہدے سے کسی حد تک مطمئن ہو گیا ہے، تو طرفین میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ جس سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔
ایران اور خلیجی ریاستوں میں آبنائے ہرمز کے جزائر کی ملکیت پر بھی تنازعات ہیں۔ یہ تنازعات 1971ء میں کھڑے ہوئے تھے جب برطانیہ نے خلیج سے اپنی افواج کا انخلا کرتے وقت جزائر کو شہنشاہ ایران کے حوالے کر دیا تھا۔ تا کہ وہ تیل کی گزر گاہ کی حفاظت کر سکے۔ لیکن اسی وقت راس الخیمہ اور شارجہ نے ان جزائر پر اپنا دعویٰ کیا تھا۔ جسے ایران نے مسترد کر دیا تھا۔ اس تنازع کا فائدہ اٹھا کر امریکہ نے خلیج میں اپنا پانچواں بحری بیڑا لنگر انداز کر دیا۔ اگر کسی طرح ایران اور متحدہ عرب امارات کا ان جزائر کے بارے میں کوئی تصفیہ ہو جائے تو خلیج میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں رہ جائے گا۔
اب یہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے سیاسی تدبر کا امتحان ہے کہ وہ کیسے اس علاقائی تنازع کو حل کرتے ہیں کہ جس سے دونوں مطمئن ہو جائیں۔ خلیجی عرب ریاستوں پر بھی لازم ہے کہ یہ تنازع ایران سے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کر لیں اور اس میں امریکہ کو ملوث نہ کریں۔ کیونکہ اسی میں عرب خطے کی بھلائی پنہاں ہے۔
ان حالات میں ایران اور عرب ممالک کے روابط اور تعلقات بہتر بنانے میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بڑی حد تک انہی ممالک کی پراکسی وار کارفرما ہے۔ اگر پاکستان ایران اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کی بحالی میں کوئی کردار ادا کرے تو یقیناًاس کے وطن عزیز پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔