لاہور کی ادبی ڈائری
- جمعرات 12 / دسمبر / 2013
- 9831
اکادمی ادبیات پاکستان پنجاب شاخ کے زیر اہتمام پروفیسر درانجم عارف کے ساتھ خصوصی شام کا اہتمام کیا گیا۔ پروفیسر درانجم عارف تین شعری مجموعوں کی مصنفہ ہیں ۔ ان کے دو شعری مجموعے طباعت کے مرحلہ میں ہیں ۔ وہ ایک ممتاز شاعرہ اور انگریزی ادب کی استاد ہیں ۔ وہ تصوف سے بھی گہرا شغف رکھتی ہیں ۔ان کے اعزاز میں منعقدہ نشست کی صدارت سیاست دان، ناول نگار اور ڈرامہ نگار بشری رحمان نے کی ۔
جبکہ درانجم عارف کی شحصیت و فن پر اظہارخیال کرنے والوں میں پروفیسر حسن عسکری کاظمی ، یاسمین حمید ، نیلم احمد بشیر ، سلمٰی اعوان ، پروفیسر شفیق احمد خان ، سیما پیروز اور بشریٰ حزیں شامل تھے ۔ نشست کی نظامت پروفیسر طاہرہ جبیں نے کی۔ صدر مجلس بشریٰ رحمان نے درانجم عارف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادیب کردار تشکیل کرتا ہے اور شاعر ان کرداروں کو جذبوں سے بھر دیتا ہے درانجم عارف ایک انتہائی بالغ نظر شاعرہ ہیں۔ جن کی شاعری پڑھنے اور سننے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ درانجم عارف کی شاعری جمال اور تصوف کا خوبصورت امتزاج ہے وہ ایک اچھی شاعرہ ، ایک اچھی ماں اور اعلیٰ درجے کی استاد ہیں۔
پروفیسر حسن عسکری کاظمی نے کہا کہ درانجم عارف اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب ثروت ہونے کے ناتے شاعری سے گہرے شغف کے باوجود اعتدال کی روش پر قائم ہیں۔ انہیں شاعری اپنے والد سے ورثہ میں ملی ہے ۔ان کی پیدائش بھارت کے صوبہ یو پی کے مردم خیز شہر بدایوں میں ہوئی اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ شاعری ان کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ وہ زیادہ تر غزل لکھتی ہیں اور ان کی غزل میں رومانویت اور رمزیت کمال کی ہے ۔ اگرچہ درانجم عارف کلاسیکی انداز فکر اپنائے ہوئے ہیں اس کے باوجود ان کے ہاں جدت کا رحجان پایا جاتا ہے۔
کرامت بخاری نے درانجم عارف کے مجموعہ کا دیباچہ بھی لکھا ہے۔ انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی پر خلوص سادہ مزاج، مہمان نواز اور بہت اچھی دوست ہیں۔ یاسمین حمید نے درانجم عارف کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک پختہ اور اعلیٰ درجہ کی شاعرہ قرار دیا ۔ یاسمین حمید نے کہا کہ درانجم عارف ان کی بہت اچھی دوست ہیں اور تصوف کے موضوع پر وہ ان سے رہنمائی لیتی ہیں۔ سیما پیروز کا کہنا تھا کہ درانجم عارف دھیمے لہجہ کی انتہائی خوبصورت شاعرہ ہیں ۔ جن کے دم سے شاعری کا وقار قائم ہے۔ سلمٰی اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ درانجم عارف ایک باحوصلہ اورمضبوط کردار کی خاتون ہیں جنہوں نے تدریس اور شاعری کے شعبہ میں گرا نقدر خدمات انجام دہی ہیں۔ بشری حزیں نے بتایا کہ درانجم عارف ان کی استاد ہیں اور انہوں نے شاعری اور تقریر کا فن انہی سے سیکھا ہے ۔ درانجم عارف زندگی کا روشن ستارہ ہیں۔
شفیق احمد خان نے درانجم عارف کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری تصوف کے اسرارو رموز کا مجموعہ ہے اور یہ اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا سلیقہ رکھتی ہیں ۔ نشست کے اختتام پر درانجم عارف نے اپنے کلام سے حاضرین کو مخطوظ کیا ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے محمد جمیل نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ درانجم عارف کوبھر پور خراج تحسین پیش کیا ۔
نوجوان دانش ور اورکالم نگار فرخ سہیل گوئندی فہمیدہ او ر سنجیدہ فکر اہل ذوق کی محفل سجانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس کیلیے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔اگلے روز انہوں نے بیرون ملک مقیم ادیب وصحافی انیس احمد کے ناول ’’جنگل میں منگل ‘‘ کی اشاعت پر ایک تقریب ملاقات کااہتمام کیا۔ جس میں سینئر صحافی سید انور قدوائی، سید تاثیر مصطفیٰ ، شاہد ملک (بی بی سی ) ، فاروق طارق، ڈاکٹر امجد ایوب مرزا، ساجد خان، محمد عادل نے شرکت کی ۔
فرخ سہیل گوئندی نے انیس احمد کا تعارف کرایا۔ انیس احمد نے ناول کی ’’شانِ نزول ‘‘ کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ اپنی تحریر کوکسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت الفاظ کا جامہ نہیں پہناتے بلکہ قلم برداشتہ صفحہ قرطاس پر منتقل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوبارہ یا سہ بارہ پڑھنے پر بعض اوقات وہ اپنی تحریر کو عدم اطمینان کی بنا پر سرے سے رد بھی کردیتے ہیں۔
اس موقع پر محفل میں موجود دوستوں نے ناول کے حوالے سے گفتگو کی اور مصنف کی اس کاوش کو سراہا۔ ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے انیس احمد سے بعض سوالات بھی کیے جن کے مصنف کی طرف سے ’’شافی‘‘ جوابات دیئے گئے ۔ شاہد ملک اور راقم الحروف نے ناول پر بات کی اور اس خوبصورت تحریر پر صاحبِ کتاب انیس احمد اور اسکی اعلیٰ معیار پر اشاعت پر فرخ سہیل گوئندی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ۔ فرخ سہیل گوئندی نے اس موقع پر بتایاکہ وہ اپنے ادارے جمہوری پبلی کیشنز کے زیرا ہتمام ناول کے حوالے سے باقاعدہ تقریب رونمائی بھی منعقد کریں گے ۔
لاہور پریس کلب کے زیراہتمام سینئرکونسل ممبر، ممتاز صحافی وشاعر اور کالم نویس اخترحیات مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ جس میں ممبران کے علاوہ ادیبوں اورشاعروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں پریس کلب کے سیکرٹری محمد شہباز میاں نے مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی۔ مرحوم اخترحیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کلب کے صدر ارشدانصاری نے جرنلسٹس ہاؤسنگ کالونی کے اے بلاک کو’’ اخترحیات بلاک‘‘ کا نام دینے کی تجویز پیش کی جس کا تقریب میں شریک تمام شرکائے نے زبردست خیرمقدم کیا ۔معروف دانش ور، شاعراور اہل قلم حسین مجروح کی تجویز پر صدرلاہور پریس کلب نے اعلان کیا کہ ’’لاہور‘‘ سمیت اختر حیات مرحوم کے تمام تحقیقی مضامین اور شاعری کو اکھٹا کرکے پریس کلب خود شائع کرواکے تقسیم کرے گا۔ جبکہ لاہور پریس کلب کی لٹریری کمیٹی اختر حیات کے حوالے سے مزید تقریبات کا بھی اہتمام کرے گی۔
ناصربشیر اورآفتاب کاو ش نے مرحوم کو منظوم نذرانہ پیش کیا۔ مقررین میں حسین مجروح ،سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی، راجہ جلیل حسن اختر ، نوید چودھری، سلمان غنی، نجم ولی، نبیلہ غضنفر، ڈاکٹرصغریٰ صدف، عفت علوی ، نعمان یاور، شوکت علی اوردیگر شامل تھے۔ اس موقع پر مقررین نے مرحوم اختر حیات کو شعبہ صحافت اور ادب میں گرا ں قدر خدمات انجام دینے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک کھرے صحافی اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ملنسار شخصیت کے حامل تھے۔
اختر حیات کی صحافت اور ادب کے میدانوں میں خدمت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ حاضرین میں پریس کلب کی گورننگ باڈی کے تمام ارکان اورمرحوم کے صاحبزادے عمیر بھی شریک تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سینئر صحافی راجہ اورنگزیب نے اداکئے۔