حکومت کی بزنس لون اسکیم
- جمعرات 12 / دسمبر / 2013
- 4887
بے روز گار نوجوانوں کے لیے وزیر اعظم کی بزنس سکیم لون سکیم کا باقاعدہ اجراء ہو گیا ہے اور مقررہ بنکوں سے قرضہ فارموں کی دستیابی اور وصولی کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دینے کا اعلان کیا تھا اور نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران بار بار یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آنے کے باوجود باصلاحیت اور ہنر مند نوجوانوں کو جو ڈگریاں ہاتھوں میں لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ با عزت روز گار کے لیے معقول اور آسان قرضے فراہم کریں گے۔ تاکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے با عزت روزگار کما سکیں۔ اس کام میں مزید چند لوگوں کو نوکری بھی فراہم کر سکیں۔
یہ ایک اچھی اور پرکشش ترغیب تھی۔ جس کی یقینی طور پر نوجوانوں میں ستائش ہوئی اور نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ بھی دیئے اور اپنے مستقبل کی امیدیں بھی اس پارٹی سے وابستہ کر لیں۔ کیونکہ ذہین طلباء و طالبات میں حکومت پنجاب کی طرف سے لیپ ٹاپ کی تقسیم بہت سی تنقید اور اعتراضات کے باوجود نوجوانوں میں مقبول ہوئی تھی۔
اس سکیم کا انچارج وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مسز مریم نواز کو بنایا گیا ہے جن کا نام ابتداء میں وزارت خارجہ کے لیے آ رہا تھا۔ مریم نواز ایک خوش گفتار، خوش لباس اور مہذب خاتون ہیں۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ پارٹی میں کوئی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود وہ سرگرمی سے پارٹی کا کام کرتی رہیں ہیں۔ 11 مئی کے انتخابات میں لاہور کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے میاں نواز شریف امیدوار تھے۔ وہ اپنے والد کی انتخابی مہم چلا چکی ہیں اور اپنی بیمار والدہ کے ساتھ انہوں نے اس حلقے میں انتھک کام کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ لاہور کے شہریوں کے لیے جانی پہچانی ہیں۔
جب کہ مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل اور بعض دوسری کمیٹیوں کی رکن کی حیثیت سے بھی وہ ملک بھر کے پارٹی حلقوں میں مقبول ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ واقع 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں ان کا باقاعدہ دفتر اور سٹاف موجود تھا جہاں وہ باقاعدگی سے بیٹھتی اور پارٹی امور نمٹاتی تھیں۔ وہ زیادہ تر نوجوانوں، خواتین اور میڈیا کے معاملات کو دیکھتی تھیں۔ بدقسمتی سے اس مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق، سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین کی سربراہ کا تو کوئی دفتر نہیں تھا البتہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے پورے پورے دفاتر بمع سٹاف موجود تھے۔
وزیر اعظم کی نوجوانوں کے لیے اس بزنس قرضہ سکیم کی تعریف میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ بعض اخبارات نے پورے پورے رنگین صفحات اس کے لیے مختص کئے ہیں۔ کالم نگاروں نے اپنا سارا زور قلم اس سکیم کی ستائش پر لگا دیا ہے۔ جس کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے اور اس نے آگے چل کر یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ سکیم کس قدر مفید اور کتنی ناکام ہے۔ حکومت اس سکیم کی تعریف و توصیف میں پورے پورے صفحات کے اشتہارات شائع کر رہی ہے۔ جب کہ ٹیلی ویژن چینلز پر بھی لمبی چوڑی مہم جاری ہے۔ کاش کوئی وزیر اعظم کو یہ مشورہ دے کے جو زر کثیر اشتہاری مہم پر خرچ کیا جا رہا ہے اس رقم کو اگر اس سکیم کو مزید بہتر اور آسان بنانے پر صرف کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
اس کا نوجوانوں اور خود مسلم لیگ (ن) کو فائدہ ہو گا کیونکہ نعروں اور اشتہاربازی کی کوئی مہم کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ ایوب خان دور کی ’’دس سالہ ترقی‘‘ کی ساری اشتہاری مہم ایوب خان کے اقتدار کو بچا تو نہ سکی البتہ ان کے زوال اور چارج شیٹ کا حصہ ضرور بن گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سرکاری اداروں اور بلدیات کی رقم سے بھٹو اور پیپلز پارٹی کی تشہیر کا جو کام بھی کیا وہ مکمل طور پر ناکام ہوا اور اس بڑی مہم کے باوجود بھٹو صاحب کو 77 کے انتخابات میں دھاندلی کرانا پڑی۔ جو ان کے اقتدار کے خاتمہ پر منتج ہوئی۔
یہی حال ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے سابقہ ادوار کی اشتہاری مہموں کا ہوا۔ پرویز مشرف کی حکومت اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی نے ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ کی اشتہاری مہم پر سرکاری خزانے سے جو کثیر رقم خرچ کی وہ اگر اصل منصوبے پر لگا دی جاتی تو نتائج بھی بہتر ہوتے اور لوگ بھی اس منصوبے کے خالقوں کو یاد رکھتے۔ لیکن اشتہاری مہم سے مسلم لیگ (ق) کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ انتخابی نتائج نے انہیں چاروں شانے چت کر کے ایک کونے میں بٹھا دیا ہے۔
وزیر اعظم کی حالیہ بزسن لون سکیم کے بارے میں مخالفین کے اپنے اعتراضات اور خدشات ہیں جن کا وہ اظہار کر رہے ہیں۔ معروف کالم نگار حسن نثار ۔۔۔ جن کی باتوں کو اگرچہ اب کوئی بھی سمجھدار شخص سنجیدگی سے نہیں لیتا۔۔۔ انہوں نے اپنے ٹی وی پروگرام ’’میرے مطابق‘‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ساری سکیم 6 سے 8 ماہ میں دھڑام سے زمین پر آ گرے گی۔ اس طرح کے خدشات کا بعض دوسرے دانشور اور کالم نگار بھی اظہار کر رہے ہیں۔
راقم نے اس سکیم کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اس خواہش اوردعا کے باوجود کے یہ سکیم کامیاب ہو جائے اور اس سے ملک کے نوجوانوں کو روز گار حاصل کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع مل پائے۔ لیکن ذاتی طور پر مجھے یہ سکیم کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
اس سکیم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ملک کی نئی نسل کو سودی نظام کے شکنجے میں کس دیا گیا ہے۔ پوری قوم پہلے ہی اس فاسد نظام معیشت کی تباہ کاریوں کو بھگت رہی ہے۔ اب مستقبل کے معماروں کو بھی اس شکنجے میں کسا جا رہا ہے۔ جسے اللہ اور اس کے رسول نے اللہ تعالیٰ سے کھلی جنگ قرار دیا ہے۔ اللہ سے جنگ میں کسی کی کامیابی کا رتی بھر امکان نہیں ہے۔ دنیا کے جدید معاشرے ظالمانہ سودی نظام کے ثمرات بد سمیٹ رہے ہیں۔ یہ خرابی ہمارے ہاں بھی موجود ہے اور اب اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور نئی نسل کو نقطہ آغاز سے ہی سودی نظام کا اسیر بنایا جا رہا ہے۔
یہ سکیم بنیادی طور پر بنکوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہوئی ہے۔ جن بنکوں کی حالت روز بروز پتلی ہو رہی تھی، وہ اب 100 ارب کے قرضے جاری کریں گے اور سروس چارجز کی مد میں کثیر رقم ہتھیانے کے علاوہ اصل زر بمعہ سود وصول کر لیں گے۔ چونکہ اس کام کے لیے بنکوں کو مزید عملے کی ضرورت ہو گی اس لیے حکمران اپنے بہت سے چہیتوں کو بنکوں کی نوکریاں دلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور بنکوں پر یہ احسان کرنے کے بعد خود اپنے لیے اور اپنے خاندانوں کے لیے آسانی سے بڑے بڑے قرضے حاصل کر سکیں گے۔
اگرچہ حکومت اس سکیم میں شفافیت کے بڑے دعوے کر رہی ہے لیکن شریف خاندان اور حکمران مسلم لیگ سے اس کی توقع کم ہی ہے۔ ایسی صورت میں یہ سکیم ابتداء ہی میں مشکلات سے دو چار ہو جائے گی۔
اس سکیم کے لیے رقم کسی دوسرے ملک یا بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے حاصل کی گئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ رقم کم سود پر حاصل کی گئی ہو جب کہ حکومت زیادہ سود پر نوجوانوں کو فراہم کرنا چا رہی ہو۔
اس سکیم کے بارے میں بہت سے لوگوں کا یہ اعتراض ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں 5 سے 20 لاکھ روپے کا قرضہ ناکافی ہے۔ 5 لاکھ روپے کا قرضہ تو یقیناً ناکافی ہے کہ اس سے کوئی دکان بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔ البتہ 20 لاکھ روپے کا قرضہ مناسب ہے۔ تاہم انجینئرنگ اور بعض دوسرے شعبوں میں کام کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے 20 لاکھ روپے کا قرضہ ناکافی ہے۔ اور اس پر حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اگر سیاستدنوں کو اربوں کے قرضے حاصل کرنے ہیں تو نوجوانوں کے لیے یہ رقم اس قدر کم کیوں رکھی گئی ہے۔
اس سکیم پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہ رقم سود سمیت 8 سالوں میں واپس کرنا ہے۔ یہ مدت بہت کم ہے۔ اس عرصے میں نوجوانوں کے کاروبار پوری طرح جم نہیں پائیں گے۔ ان کی مدت ختم ہو جائے گی۔ یہ اعتراض کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ سیاستدان اور صنعتکار جو بڑے بڑے بنکوں سے قرض حاصل کرتے ہیں، ان کی واپسی کی مدت کم از کم 20 سال ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ قرض لینے والوں کے کاروبار جمے جمائے ہوتے ہیں۔ اس لیے بزنس لون سکیم کے قرضوں کی واپسی کی مدت بھی 20 سال کی جانی چاہئے۔
سکیم پر سب سے بڑا اعتراض بہت زیادہ شرح سود ہے اور یہی اس منصوبے کے ناکام ہونے کی وجہ بنے گا۔ اگرچہ حکومت اس سود کو سروس چارجز کا نام دے رہی ہے لیکن ہر طرح سے سود ہے جس کی شرح ناقابل برداشت ہے۔ سکیم کے تحت یہ قرضے 8 فیصد شرح سود پر دیا جا رہا ہے۔ اس طرح 20 لاکھ روپے کا قرض حاصل کرنے والا نوجوان پہلے ہی سال بعد 4 لاکھ 45 ہزار روپے بنک کو لوٹائے گا۔ یعنی تقریباً 40 ہزار روپے ماہانہ۔۔۔۔ جس نوخیز نوجوان نے 40 ہزار روپے ماہانہ صرف بنک کو دینا ہے اسے جگہ کا کرایہ، بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کے بل، ملازموں کی تنخواہیں بھی نکالنا ہیں اور خود اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنا ہے اس طرح وہ کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ منافع کمائے تو کاروبار جاری رکھ سکے گا۔ 20 لاکھ روپے کے سرمایہ سے کوئی کاروبار ڈیڑھ لاکھ روپے کا منافع نہیں دے سکتا۔ جب کہ اس قرضے کی نصف کی زیادہ رقم تو انفراسٹرکچر وغیرہ پر ہی صرف ہو جائے گی۔
اس طرح بمشکل چار پانچ لاکھ کے رننگ کیپیٹل کے ساتھ کسی نوجوان کے لیے اپنا کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صنعتکار اربوں روپے کے قرضے 3 سے 5 فیصد شرح سود پر حاصل کرتے ہیں۔ جب کہ نوجوانوں کو یہ 8 فیصد سود پر دیا جا رہا ہے۔ اس لیے شرح سود کو اگر کم نہ کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ نوجوانوں کے کاروبار نہیں چل سکیں گے بلکہ یہ ساری رقم ہی ڈوب جائے گی۔
قرضوں کی واپسی کے مشکل اور بے لچک نظام کی وجہ سے بہت جلد بدمزگیاں پیدا ہونے لگیں گی۔ کچھ نوجونوں تو شاید مزاجاً ہی قرضے واپس کرنا نہ چاہیں لیکن جو واپس کرنا چاہتے ہوں گے، وہ بھی مشکلات کا شکار ہوں گے۔ وہ نفسیاتی اور قانونی دباؤ کی وجہ سے اپنے کاروبار بھی متاثر کر لیں گے۔ اور معاشرے میں بھی نئے انتشار کا سبب بنیں گے۔
ان خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر حکومت ابھی سے منصوبہ بندی کر لے تو بہتر ہے۔ اعتراضات کا جائزہ لے کر خدشات کو دور کر لے۔ سکیم کے منفی عناصر کو فوری نکال دے اور اسے قابل عمل بنانے کے لیے اچھی تجاویز شامل کر لے ورنہ بظاہر اس اچھی سکیم کی ناکامی ایک سال بعد ہی دیوار پر لکھی ہو گی۔