بہتر قومی نظریہ
- بدھ 18 / دسمبر / 2013
- 5122
دسمبر بڑا ظالم مہینہ ہے ۔ آج سے بیالیس سال پہلے اس مہینے کی سترہویں رات کو سقوطِ ڈھاکہ کا اندوہناک سانحہ رونما ہوا تھا ۔ اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں سقوطِ ڈھاکہ کی بیالسیوں برسی سے ایک ہفتہ پہلے مرحوم مشرقی پاکستان کی جماعتِ اسلامی کے سربراہ عبدالقادر مُلا کو تختہ ء دار پر کھینچ دیا گیا ۔ اپنے اِس اقدام سےبنگلہ دیش کے سیاسی حکمرانوں نے سابق مغربی پاکستان کو غالباً یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ ابھی تک مغربی پاکستان کی اُن بد اعمالیوں کو نہیں بھولے ، جو اُن کی صوابدید کے مطابق جنگی جرائم کا درجہ رکھتی ہیں ۔
جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سید مُنّور حسین نے مُلا قادر کی پھانسی پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے بنگالی رہنما نظریہ ء پاکستان سے وفاداری کے جُرم میں شیہد ہوئے ہیں ۔ جی ہاں ، ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کے اپنے اپنے شہید ہیں جو مخالف جماعتوں کی نظر میں شہید کے بجائے یزید ہیں ۔ ( اس اظہار پر معذرت طلب ہوں ، مگر میں نے کہیں ایسا ہی پڑھا ہے ) ۔
میں سیاسی دانشور یا نظریہ باز تو نہیں ہوں مگر ایک ایسا پاکستانی ضرور ہوں جس نے پاکستان کو بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، مشرقی پاکستان کی سیاست کو قریب سے دیکھا اور شیخ مجیب الرحمان ، تاج الدین احمد اور بائیں بازو کے رہنما محمد طہٰ سے ڈھاکہ میں براہِ راست ملاقاتیں بھی کیں ۔ میرے لیے نظریہء پاکستان سے نظریہء ضرورت تک پاکستان کی فکری تاریخ کا مطالعہ بڑا ہی کٹھن اور پُر آزمائش رہا ہے ۔
میرے نزدیک اچنبھے کی پہلی بات یہ تھی کہ نظریہء پاکستان کبھی بھی پاکستان کا حکمران نظریہ نہیں رہا ہے، کیونکہ اِس مُلک پرہیمشہ سیاسی جماعتوں کے بجائے سیکیورٹی ایجنسیوں کی حکومت رہی ہے ۔ اور سیکیوریٹی ایجنسیوں کے عملے کے بارے میں کوئی بھی شخص وثوق اور یقین سے نہیں کہ سکتا اُن اِداروں میں کون کس کا ایجنٹ ہے ، کون ڈبل ایجنٹ ہے اور کون ایجنٹ در ایجنٹ ۔
سیکیورٹی ادارے بشمول آئی ایس آئی اِس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ اُن کے افسروں اور ماتحتوں میں ایک ایک کے پاس حب الوطنی کا لائسنس ہے ۔اِس لیے کہ یہ لوگ بھی اِسی معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں ہر شعبے میں ، ہر سطح پر کرپشن اور بد عنوانی کا دور دورہ ہے ۔ اس لیے یہ گواہی حاصل کرنا کہ اُن میں کون ابلیس ہے اور کون فرشتہ ، مُشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے ۔ کیا کوئی ایسا فارمولا یا کُلیہ دستیاب ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ کوئی شخص سیکیورٹی ایجنسی میں بھرتی ہوکر نیک نامی ،حُب الوطنی ، صداقت اور امانت داری کا جیتا جاگتا شاہکار بن جاتا ہے ؟
ارضی حقیقتیں ان ایجنسیوں کے خلاف گواہ ہیں کہ وہ اپنی من مانی کرتی ہیں ، قانون کو اپنے ہاتھ میں لیے رہتی ہیں ، مقدمے چلائے بغیرلوگوں کو زیرِ حراست رکھتی ہیں ، جسے چاہیں موت کے گھاٹ اُتارتی ہیں اور جسے چاہیں ہراساں کرتی رہتی ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مذہب ، خُلقِ عظیم اور پرہیزگاری کی راہ پر چلنے والے معاشرے ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں نہ امن ہے ، نہ زندگی کی ضمانت ہے اور نہ ہی املاک اور مال منال کا تحفظ ؟ کیا اِس قسم کے معاشرے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی آماجگاہ کہلا سکتے ہیں؟
سیاسی دانشور کہتے ہیں کہ نظریہء پاکستان دوقومی نظریہ ہے جو اِس بنیاد پر وضع ہؤا کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان نام کی دو قومیں آباد تھیں ۔ دونوں قوموں کے مذہبی اور تہذیبی خدو خال الگ ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں ۔
مگر سترہ دسمبر اُنیس سو اکہتر کو یہ بات غلط ثابت ہوگئی کہ مُشترک مذہبی رشتے قوم کی اساس ہیں ، کیونکہ جو پاکستان سترہ اگست انیس سو اکہتر کو وجود میں آیا تھا وہ بھی دو قوموں کا ملک تھا ۔ اُس میں بھی دو الگ الگ قومیں بنگلہ دیشی اور پاکستانی اُبھر کر سامنے آ گئی تھیں ۔ جی ایچ کیو کا وحدتِ مشرقی پاکستان اور وحدتِ مغربی پاکستان کا طلسم ٹوٹ چکا تھا ۔ ایوب خان اگر تلا سازش کیس کی دلدل میں ڈ وبتے چلے جا رہے تھے تا آں کہ اس سازش کیس کے ملزموں کا مقدمہ سُننے والے مغربی پاکستانی ججوں کو اپنے جوتے ڈھاکہ میں چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا ۔
دسمبر اُنیس سو اکہتر میں ڈھاکہ سے تو گلو خلاصی ہو گئی لیکن دو قومی نظریے کے بجائے بہتر قومی نظریہ ہم پر مسلط ہو گیا ۔ یہ بہتّر قومیں جو بہتّر مذہبی فرقوں کی بنیاد پر منظم ہیں ، ایک دوسرے سے مسلسل بر سرِ جنگ ہیں ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ اڑھائی دہائیوں سے سُنّی قوم ، شیعہ قوم ، وہابی قوم ، طالبانی قوم اور القاعدہ کی متعدد ناجائز شاخیں اِس مُلکِ خُداداد میں ، جسے پاکستان کہتے ہیں ، دن رات خون کی ہولی کھیل رہی ہیں ۔ مگر اِس مُلک کے حکمران ادارے بشمول فوج ، سرکاری پولیس ، مذہبی پولیس ، نوکر شاہی اور میڈیا شاہی اِس خون کی ہولی کو روکنے میں ناکام ہیں ۔
اور اصل سچ یہی ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور یہ نظریہ ان دنوں خوب پنپ رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اتحاد ، تنظیم اور یقینِ محکم کا قاتل یہ نظریہ ایک بہتّر سروں والا اژدہا ہے جو چوبیس گھنٹے آگ اُگلتا اور خون چھڑکتا ہے اور کوئی حکومتی ادارہ ، کوئی سیاسی جماعت یا کوئی مذہبی کمپلیکس ایسا نہیں جو زبانی جمع خرچ کی سرحد عبور کر کے اِس اژدہے کو ہلاک کر سکے ۔