مضبوط دفاع اور عوامی ضروریات

  • جمعرات 19 / دسمبر / 2013
  • 4728

پاکستان نے بلاشبہ جدید عسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنے دفاع کو مضبوط بنایا ہے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا حامل ہونے کے علاوہ عسکری میدان کی ایک اہم قوت ہونے کے باوجود ہم آج تک اپنے بیشتر مسائل کے حل میں ناکام ہیں۔

 معاشی میدان ہو یا تعلیم کا شعبہ، صحت کا معاملہ ہو یا بجلی کی فراہمی۔ کسی بھی میدان میں ہماری ترقی کو قابل رشک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان میں کوئی حکومت کتنا ہی بھاری مینڈیٹ حاصل کر لے، عوامی ضروریات کی تکمیل نہ کرنے پر آسمان سے زمین تک آنے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگتا اور اس معاملے میں ہمارا ٹریک ریکارڈ دنیا سے ڈھکا چھپا ہؤا بھی نہیں ہے۔

عسکری میدان میں ہمارا تازہ ترین کارنامہ 50 ویں جے ایف 17 تھنڈر طیارے کی رول آؤٹ ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فضائیہ کی اہمیت کے پیش نظر دفاعی حکمت عملی جدید خطوط پر ترتیب دی گئی ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر کی تیاری قابل فخر کارنامہ ہے۔ جس کی اندرون ملک تیاری اور پاک فضائیہ میں شمولیت سے پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہو گا اور پاکستان ان طیاروں کو برآمد کرکے اربوں روپے کا زر مبادلہ کمائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جنگی ایجادات اور حکمت عملی میں ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی دفاعی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے۔ افواج پاکستان کی ہر ضرورت پورا کریں گے۔

اس موقع پر ائر چیف نے چین کی ایوی ایشن انڈسٹریز اور پی اے سی کامرہ کے درمیان گہرے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جے ایف 17 تھنڈر کی شکل میں پاکستان چین مشترکہ کاوش سے ایک کم قیمت، بہت طاقتور، ہمہ جہت جنگی جہاز بنایا گیا  ہے جو حال اور مستقبل کی فضائی طاقت کے چیلنجز کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت ملکی دفاعی ضروریات کا ادراک تو رکھتی ہیں تاہم ہمیں اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی حالات بہتر کرنے کے لئے بھی فکر و تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ بے شک دفاعی ضروریات کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تاہم جدید دنیا کے لوازمات اس کے سوا دیگر بھی ہیں جن پر توجہ دئیے بغیر چارہ نہیں۔

جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے رول آؤٹ ہونے کی تقریب کے اگلے روز ہی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس دوبارہ منعقد کیا گیا۔ ایک ہی ہفتے میں قومی سلامتی کونسل کا دوسرا اجلاس غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کریڈٹ بہر طور وزیراعظم نواز شریف کو جاتا ہے کہ ان کے دوسرے دور حکومت 1999ء میں جے ایف 17 تھنڈر منصوبے کا آغاز ہؤا تھا۔ تاہم اس جہاز کا ڈیزائن 2001ء میں تیا ر ہوا۔ 2007ء میں 8 جہازوں کا ایک چھوٹا بیچ تیار ہوا۔ 2009ء سے پی اے سی کامرہ میں اس جہاز پر شبانہ روز کام شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ تو طے ہے کہ فی زمانہ اسی ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے کہ جو فضائی بالا دستی کے حصول کے لئے سرگرم ہو۔ اسی تناظر میں خطے میں امن اور رواداری کے لئے پاکستان کو اپنی فضائی بالادستی کو برقرار و استوار اور مزید مستحکم بنانا ہو گا تا کہ آئندہ سلالہ چیک پوسٹ اور سانحہ ایبٹ آباد جیسے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

یہ امر یقیناًاطمینان بخش ہے پاکستان میں پہلی مرتبہ پچاس جے ایف 17 جہازوں کی کھیپ تیار ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھی مزید پچاس طیارے تیار ہوں گے۔ ان طیاروں کو بہترین ایویانکس سسٹم سے مزین کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے جدید ہتھیاروں، فضا کے اندر ایندھن بھروانے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔ جس سے اس کی جنگی استعداد میں اضافہ ہو گا۔

یہاں یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ آج اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ قرارد اد میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ شہری نشانہ بنتے ہیں اوراس سے دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ عالمی برادری ڈرون حملوں سے پہلے عالمی قوانین کو مدنظر رکھے۔ فاٹا سیکرٹریٹ کی ایک تازہ دستاویز کے مطابق 2004ء سے اب تک ڈرون حملوں میں 2293 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ ان میں سے 1730 افراد کی شناخت مقامی کے طور پر ظاہر کی گئی ہے۔

یہ قرارداد پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی نظر آ رہی ہے۔ تاہم اس ضمن میں ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ ڈرون حملے یقیناً ہماری سالمیت کے لئے خطرہ ہیں تاہم اس کی افادیت بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو مل کر کوئی ایسا میکنزم ترتیب دینا پڑے گا کہ جس سے دہشت گردی کیخلاف جنگ متاثر نہ ہو اور شدت پسندوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔

پاکستان کی فضاؤں کو محفوظ بنانے کی کاوشوں کے باوجود امریکی جاسوس طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی حکومت بڑی حد تک شریک و معاون ہے مگر عوامی موڈ دیکھتے ہوئے وہ اس امر کو تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہے۔ عوامی اور سرکاری سطح پر متضاد مؤقف کی پالیسی اب زیادہ دیر تک چلنے والی نہیں ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ حکومت سچائی عوام کے سامنے لائے اور بتایا جائے کہ ڈرون حملے حکومتی تائید و مرضی سے ہو رہے ہیں اور اس تائید میں کون سے عوامل شامل ہیں۔ اس حوالے سے بھی اب کھل کر بحث ہونی چاہئے تا کہ مستقبل کے لئے ایک واضح حکمت عملی ترتیب پا سکے۔