رخصتی

  • ہفتہ 21 / دسمبر / 2013
  • 4473

لیجئے جناب۔ صدر۔ آرمی چیف اور چیف آف جنرل سٹاف کے بعد اب چیف جسٹس آف پاکستان بھی رخصت ہو گئے۔ ایوان صدر میں اب دہی بڑوں اور دہی بھلوں کی شہرت رکھنے والے نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سندھ کے سابق گورنر ممنون حسین براجمان ہیں۔

آرمی چیف کے عہدے پر وزیر اعظم نے سب سے سینئر جرنیل کے بجائے کشمیری پس منظر کے حامل جنرل راحیل شریف کو نامزد کر دیا ہے۔ چیف آف جنرل سٹاف کے لیے بھی وزیر اعظم نے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا ہے۔ چیف جسٹس کے معاملے میں اگرچہ وہ اپنا کوئی اختیار تو استعمال نہیں کر سکے۔ اور سینئر ترین جج ہی چیف جسٹس کے باوقار عہدہ پر متمکن ہوئے ہیں لیکن نواز شریف، ان کی حکومت اور جماعت نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی رخصتی سے سکھ کا سانس ضرور لیا ہے۔

سیاسی اور مسلم لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ ایوانِ صدر، آرمی ہاؤس اور سپریم کورٹ سے صدر زرداری، جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی رخصتی کے بعد ملک میں نواز شریف کی قیادت میں اب صحیح معنوں میں ’’راج کرے گی خلقِ خدا‘‘ اور انہیں یقین ہے کہ اب وہ کھل کر راج کرے گی۔

اس جانب کھلے اشارے تو جناب شیخ رشید ایک عرصہ سے دے رہے تھے کہ اس حکومت کے مستقبل کا تعین دسمبر 2013 ء کے بعد ہو گا جب تینوں بڑے رخصت ہو جائیں گے اور ان کی جگہ نئے لوگ آ جائیں گے۔ لیکن ملک کے سیاسی حلقے جو وزیر اطلاعات و نشریات اور اب وزیر قانون پرویز رشید کے اعلان کردہ خلق خدا کے راج کو دراصل شریف فیملی کا راج قرار دیتے ہیں وہ بار بار یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ کیا ان نئے آنے والوں کی موجودگی میں جناب پرویز رشید کی خواہش پر مبنی خلق خدا کا راج قائم ہو بھی سکے گا۔ کیونکہ سب کے موڈ مختلف نظر آ رہے ہیں۔

ان حلقوں کے مطابق جنرل راحیل شریف نے اس بڑے عہدے کے لیے نہ کسی خواہش کا اظہار کیا تھا نہ اس سلسلے میں کسی سے رابطہ کیا۔ یہاں تک کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جنرل (ر) عبدالقادر جو ان کے اچھے دوستوں اور پرانے ساتھیوں میں سے ہیں اُن سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ ان کی شہرت بھی ایک پروفیشنل کی ہے۔ سیاسی لوگوں سے روابط کے وہ شوقین نہیں اور اپنے ادارے کے وقار اور برتری کے لیے کوشاں رہنے والے شخص لگتے ہیں۔ اس لیے شاید نواز حکومت کو ان سے وہ تعاون نہ مل سکے گا جس کی وہ خواہشمند ہے جب کہ بھارت سے دوستی اور تعلقات میں مسلم لیگی حکومت اور نواز شریف کی ٹیم کی بے تابی پر فوج کے حلقوں میں ہمیشہ سے تحفظات ہیں اور ان کا اظہار کسی بھی مرحلے پر ہو سکتا ہے۔

نئے چیف جسٹس نے اپنی ترجیحات کا پہلے دن ہی اعلان کر دیا ہے۔ موسم سرما کی تعطیلات منسوخ کر کے انہوں نے زیر التوا مقدمات نمٹانے کا اعلان کیا ہے۔ جو حکومت کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد حکومت سے متعلق ہوتی ہے اور ان میں خود حکومت التواء چاہتی ہے۔

نئے چیف جسٹس نے از خود نوٹسز پر نظر ثانی کی بات کی ہے جس سے حکومت کو کچھ ریلیف ضرور ملا ہے۔ لیکن اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ عدالت عظمیٰ کم معاملات پر نوٹس لے گی تو انہیں انجام تک بھی پہنچائے گی۔

چیف آف جنرل سٹاف کا رویہ پیشہ وارانہ اور آرمی چیف کے ساتھ ہم آہنگی پر مبنی ہو گا۔ ایسے میں نئی حکومت کو ریلیف صرف ایوان صدر سے ملے گا۔ جہاں صدر ممنون حسین وزیر اعظم اور حکومت کے تحفظ کے لیے موجود ہوں گے۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف مسائل اور مشکلات کا ایک انبار ہے جو حکومت کے سامنے ہے۔ اس کی ترجیحات بھی واضح نہیں ہیں۔ چیئرمین نادرا کے معاملے میں خفت اٹھانے کے باوجود حکومت نے چیف جسٹس کے جاتے ہی چیئرمین پیمرا کو بھی برطرف کر دیا ہے۔ مگر چیئرمین نادرا کی طرح انہیں بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحال کر دیا ہے۔ جو عدلیہ کے آئندہ کے مزاج کی عکاسی ہے۔

حکومت تاحال بہت سی کارپوریشنوں کے سربراہ اور متعدد ممالک میں سفیر مقرر نہیں کر سکی ہے۔ ایک طرف حکومت فیصلے کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ دوسری جانب ان تقرریوں کو عدالتیں قانونی و آئینی طور پر درست تسلیم نہیں کر رہیں۔ ادھر سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرنے کی نادرا کو ہدایت کر دی ہے اور اس کے لیے 15 دن کا وقت دیا ہے۔

یہ دونوں حلقے بہت اہم ہیں۔ ایک حلقہ لاہور کا ہے جہاں سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جیتے ہیں اور یہاں نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شکست ہوئی ہے۔ ایاز صادق نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تحریک انصاف سے ہی کیا تھا۔ وہ 1997ء کے انتخابات میں لاہور کے ایک صوبائی حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار تھے اور ان کے اوپر قومی اسمبلی کے امیدوار عمران خان تھے۔ انتخابات میں دونوں کو شکست ہو گئی تھی بلکہ وہ پورا انتخاب تحریک انصاف بری طرح ہار گئی تھی۔ جس کے بعد ایاز صادق مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے اور 2002ء میں انہوں نے سمن آباد لاہور کے حلقے سے عمران خان کو شکست دے دی۔

اس بار بھی نتائج کے مطابق وہ کامیاب ہوئے ہیں لیکن تحریک انصاف ان نتائج کو تسلیم نہیں کر رہی اور اگر سپریم کورٹ میں اس حلقے میں کوئی بے ضابطگی یا دھاندلی ثابت ہو گئی اور ایاز صادق کالعدم قرار پا گئے تو یہ اقدام مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک دھچکہ ثابت ہونے کے علاوہ مئی 2013ء کے سارے انتخابات ہی کو مشکوک بنا دے گا۔ جب کہ سپیکر کے کالعدم ہونے سے قومی اسمبلی کا موجودہ ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہو گا۔

سپریم کورٹ نے جس دوسرے حلقے میں نشانات انگوٹھا کی تصدیق پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ رحیم یار خان کا حلقہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کے موجودہ جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کو شکست ہوئی ہے۔ یہاں ابتدائی نتائج میں جہانگیر ترین بہت آگے تھے لیکن آخری لمحوں میں ان کی شکست کا اعلان ہو گیا۔ سپریم کورٹ میں ان دو حلقوں کے بارے میں نادرا سے رپورٹ کی طلبی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث اور عدلیہ کے آئندہ مزاج کی جانب ایک ہلکا سا اشارہ ہے۔

11 مئی کے انتخابات پر آج وفاق اور صوبوں میں حکمران تمام جماعتوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ ان انتخابات میں شفافیت ثابت کرنے کے لیے عمران خان نے ملک کے صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پہلے 40 اور پھر تمام 272 حلقوں میں ایسا کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن یہ پیش کش زبانئ جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکی۔

اب اگر ان دو حلقوں میں تحریک انصاف کے صدر اور جنرل سیکرٹری کامیاب قرار پا جاتے ہیں تو اس سے مسلم لیگ (ن) کی اخلاقی حیثیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت آسمان پر چلی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان 15 دنوں میں حکومت کیا کرتی ہے۔ نادرا کیا رویہ اپناتا ہے اور پھر سپریم کورٹ اس ساری صورتحال کو کس طرح لیتی ہے۔

ایسی صورت میں جب طاقت و اختیار کی ٹرائیکا کی حکومت کے ساتھ بہت اچھی ہم آہنگی نہ ہو یا اچھی ہم آہنگی پیدا ہونے کا امکان کم ہو۔ ایوان صدر کا جھکاؤ بھی ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔ محض شخصی وفاداری سب کچھ نہیں ہوتی اور اس کی بہترین مثال مرحوم صدر فاروق لغاری ہیں۔ ذاتی طور پر اور ماضی کے حالات کی روشنی میں وہ پیپلز پارٹی کے وفادار اور بے نظیر کے انتہائی قریب تھے لیکن حالات تبدیل ہوئے تو انہوں نے اپنے دستخطوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے پریشان کن ضرور ہے لیکن ایسی نہیں کہ وہ اس کا حل تلاش نہ کر سکے یا اس صورتحال سے باہر نہ آ سکے۔ اگر اس نے اختیار کے بجائے تدبیر کا راستہ اختیار کیا۔ پسند و ناپسند کے بجائے اصولوں کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ اپنے اور اس ملک کے ماضی سے سبق حاصل کیا اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی سابقہ پالیسی نہ اپنائی تو وہ مشکلات کے باوجود بچ بچا کر اپنا وقت پورا کر سکتی ہے۔

ورنہ یہ صورتحال ملک میں موجود سیاسی ابتری، معاشی بحران، مسلم لیگ ن، کے اندر کا دباؤ اور افسر شاہی پر حد سے بڑھا ہؤا حکومتی انحصار اور اس کے نتیجے میں افسر شاہی کی انتظامی کے نام پر سیاسی چالیں ملک کو مڈٹرم انتخاب کی جانب لے جا سکتی ہیں۔