دیویانی کا ظلم یا اس کے ساتھ زیادتی

  • اتوار 22 / دسمبر / 2013
  • 4424

بھارت کی نیم سفارت کار دیویانی کھوبرا گادے کے ساتھ زیادتی کا معاملہ اس وقت امریکہ اور بھارت کے درمیان تنازعہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ معاملہ محض دو ملکوں کی حکومتوں کے درمیان اختلاف ہی نہیں ہے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام بھی اس معاملہ پر اپنے اپنے سماجی انصاف کے اصولوں کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔

کل ایک طرف نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کے باہر بھارتی شہریوں نے مظاہرہ کیا اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی امریکی سفارت کاروں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے جس کا مظاہرہ بھارتی سفارت کاروں کے ساتھ امریکہ میں کیا جاتا ہے۔ ان مظاہرین کا یہ کہنا بھی تھا کہ امریکی سفارت کاروں کو دی جانے والی تمام سہولتیں واپس لی جائیں۔ کل ہی نیویارک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی قونصل خانے کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بھارتی سفارت خانوں میں متعین عملہ اپنے ملازمین کے ساتھ امریکی قوانین کے مطابق سلوک روا رکھے۔ انہیں ظلم و زیادتی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اس قسم کے واقعات سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق سلوک کو تسلیم کیا جائے۔

یوں یہ لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام بھی ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بھارت کا متفقہ طور پر یہ مؤقف ہے کہ ان کی ایک سفارت کار کے ساتھ عام مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔ دیویانی کھوبرا گادے گرفتار ی کے وقت بھارتی قونصل خانے میں ڈپٹی قونصلر کے عہدے پر فائز تھی۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے مکمل سفارتی تحفظ حاصل تھا جبکہ امریکی حکومت اس نقطہء نظر کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ دیویانی کا درجہ نیم سفارت کار تھا۔ یعنی اسے اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سرزد ہونے والی کسی خلاف ورزی یا قانون شکنی پر تو سزا نہیں دی جا سکتی لیکن بصورت دیگر باقی سب معاملات میں انہیں کسی بھی امریکی قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

یوں لگتا ہے کہ اگر سرکاری طور پر نہیں تو پس پردہ بھارتی حکومت نے بھی امریکی مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے۔ اسی لئے فوری طور پر دیویانی کھوبرا گادے کو اقوام متحدہ میں بھارتی مشن میں ایک مکمل سفارتی پوزیشن پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دیویانی کے سفارت درجہ میں بلندی کے باوجود اس نے اپنی پہلی پوزیشن میں جو قانون شکنی  کی ہے، اس کے لئے اسے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جبکہ بھارتی حکمت عملی یہ تھی کہ دیویانی کے سفارتی اسٹیٹس کے بارے میں قانونی سقم پورا کر کے وہ اسے استثنیٰ دلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور وزیراعظم من موہن سنگھ کا یہ وعدہ پورا ہو جائے گا کہ حکومت ہر قیمت پر دیویانی کو وطن واپس لائے گی۔

گزشتہ ہفتے کے دوران دیویانی کھوبراگادے کو اس وقت روکا گیا تھا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر گھر واپس آ رہی تھیں۔ اس واقعہ کے بارے میں بھارتی اور امریکی مؤقف مختلف ہے۔ امریکی حکومت نے بتایا ہے کہ کھوبراگادے کو وزارت خارجہ کے سکیورٹی بیورو کے اہلکاروں نے روکا تھا۔ اس کے بعد اسے نیویارک پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ درست ہے کہ گرفتاری کے وقت قانون کے مطابق دیویانی کو ہتھکڑی لگائی گئی اور اسے برہنہ کر کے تلاشی لی گئی۔ لیکن امریکی ترجمان یہ بات مسترد کرتے ہیں کہ دیویانی کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا یا اسے عام مجرموں کے ساتھ جن میں منشیات کے عادی بھی شامل تھے، قید میں رکھا گیا تھا۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ گرفتاری کے بعد بھارتی سفارت کار کو ایک وین میں منتقل کیا گیا جہاں اسے کافی پیش کی گئی۔ نیویارک مارشلز کے دفتر میں انچارج نے خود دیویانی کی تلاشی لی۔ اس کے بعد اسے چند گھنٹوں کے اندر ہی عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں اسے اڑھائی لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

دیویانی کھوبراگادے نے رہائی کے بعد اپنے ساتھیوں کو ایک ای میل میں اپنی گرفتاری کو ملک کی سفارتی سروسز پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں انہوں نے یہ سوچ کر وقار اور ہمت کا مظاہرہ کیا کہ وہ اپنے ملک کی نمائندہ ہیں۔ اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے سفارتی عملہ کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ بھارتی حکومت کھوبراگادے کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور ناقابل قبول فعل قرار دیتی رہی ہے۔ انہی دنوں امریکی کانگریس کے ارکان کا ایک وفد بھی بھارت آیا ہؤا تھا مگر بھارت کی حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی نے بھی وفد سے ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اس طرح اس وفد کو اپنا دورہ مختصر کر کے واپس جانا پڑا تھا۔

جوابی کارروائی کے طو پر بھارتی حکومت نے امریکی سفارتخانے کے حفاظتی حصار کو ختم کرنے، امریکی سفارتکاروں سے ائرپورٹ سہولتوں کے لئے خصوصی پاس واپس لینے اور امریکی مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے اقدامات کئے۔ اگرچہ واقعہ کے دو روز بعد ہی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ایک بیان میں واضح کیا کہ بھارت، امریکہ کے ساتھ تعلقات کو گزند پہنچانا نہیں چاہتا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اور اسے ایک تنہا واقعہ قرار دیا جسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ لیکن وزارت خارجہ نے بھارت کا یہ مطالبہ ماننے سے معذرت کر لی ہے کہ دیویانی کے خلاف مقدمہ واپس لیا جائے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور وہی اس بارے میں فیصلہ کر سکتی ہے۔

دیویانی کھوبراگادے پر الزام ہے کہ اس نے اپنی گھریلو ملازمہ کو اس مقررہ معاوضہ سے کم پر کام کرنے پر مجبور کیا جو امریکی قانون کے مطابق ضروری ہے۔ امریکہ میں سفارتی عملہ بھی اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ امریکی قوانین کے مطابق سلوک کرنے کا پابند ہے۔ دیویانی پر الزام ہے کہ وہ اپنی ملازمہ کو 30 ہزار بھارتی روپے تنخواہ دیتی تھی جو سوا تین ڈالر فی گھنٹہ بنتے ہیں جبکہ امریکی قانون کے مطابق یہ تنخواہ 8 ڈالر فی گھنٹہ ہونی چاہئے تھی۔ اس کے علاوہ دیویانی کھوبراگادے نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں یہ ظاہر کیا کہ وہ اپنی ملازمہ کو ساڑھے نو ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ دیتی ہے۔ یہ غلط بیانی ویزا قواعد کے اعتبار سے ایک سنگین جرم سمجھی جا رہی ہے۔ بھارتی حکام نے معاملہ کے اس پہلو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وہ مسلسل دیویانی کے سفارتی استثنیٰ کی بات کرتے ہیں۔

تاہم اب بھارت میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بعض لوگوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی ہے۔ ان لوگوں کے مطابق بھارت میں گھریلو ملازمین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اگر بھارتی سفارت کار بھی بیرون ملک اسی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ ملک کی شہرت اور انسانی حقوق کے حوالے سے درست طریقہ نہیں ہے۔ امریکی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ اس معاملہ کی اصل متاثرہ وہ خاتون ہے جو انتہائی قلیل تنخواہ پر دیویانی کھوبراگادے کے گھر پر کام کرنے پر مجبور تھی۔

دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ دیویانی کو خود بھارتی حکومت سے چار ہزار ڈالر کے لگ بھگ معاوضہ ملتا ہے۔ اگر وہ امریکی قوانین کے مطابق گھریلو ملازمہ کو تنخواہ اور سہولتیں فراہم کرتی ہے تو اس کی تنخواہ اس مقصد کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس نظریہ کے مطابق یہ خرابی بھارت کے نظام میں ہے جو درجہ بندی کے اصول پر استوار ہے۔ جو زیادتی اور تعصب بھارت میں روا رکھا جاتاہے، دوسرے ملکوں میں اسے جاری رکھنے پر اصرار کرنا درست نہیں ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر، محقق اور ادیب حسین حقانی نے اس معاملہ پر ایک امریکی اخبار میں ایک مضمون میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنے ملک میں کام کرنے والے دوسرے ملکوں کے سفارتی عملہ کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دے سکتی تو وہ خود دوسرے ملکوں میں اس سلوک سے کیوں استفادہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کےبیشتر ملکوں میں امریکی سفارتی عملہ کو خصوصی پروٹوکول ملتا ہے۔ حفاظت کے نام پر رہائش گاہوں اور سفارت خانوں کو جانے والے راستے بند کر دیئے جاتے ہیں جو مقامی میونسپل لاز کی خلاف ورزی ہوتے ہیں۔

حسین حقانی نے خاص طور سے پاکستان میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملہ کا ذکر کیا ہے۔ ڈیوس نے جنوری 2011 میں لاہور میں دو شہریوں کو شارع عام پر قتل کر دیا تھا۔ گرفتاری پر اس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اپنی حفاظت کرتے ہوئے گولی چلائی تھی۔ حسین حقانی اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے لکھا ہے کہ امریکہ نے قتل کرنے والے ایک شخص کی رہائی کے لئے سفارتی استثنیٰ کا سہارا لیا تھا اور حکومت پاکستان پر زبردست دبائو ڈالا تھا۔ بعد میں قانون دیت کے مطابق مقتولین کے ورثاء کو تقریباً تین ملین ڈالر ادا کر کے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروایا گیا تھا۔ حسین حقانی کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اپنے دوہرے معیار بدلنے ہوں گے۔

اس دوران دیویانی کھوبراگادے کو اگرچہ بھارتی حکومت نے نئی تعیناتی کے ذریعے مکمل سفارتی استثنیٰ دلوا دیا ہے تاہم اپنے خلاف عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک اسے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ بھارتی حکومت اپنے تمام تر احتجاج کے باوجود دیویانی کو عدالتی کارروائی سے نہیں بچا سکے گی۔ قیاس ہے کہ اگر متعلقہ ملازمہ نے عدالت میں دیویانی کے خلاف بیان دیا تو اسے سزا سے بھی نہیں بچایا جا سکے گا۔ البتہ اگر یہ سزا جرمانے کے علاوہ قید کی صورت میں دی گئی تو امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہو گا۔