اہل پاکستان کے نام ایک ترک دانشور کا خط

  • سوموار 30 / دسمبر / 2013
  • 5752

اپنے محترم اور عزیز پاکستانی بھائیوں کے نام السلام علیکم

 دو دن قبل میرے ایک عزیز پاکستانی دوست نے پاکستان کے معتبر اخباروں میں سے ’’روزنامہ ایکسپرس‘‘میں 26 دسمبر 2013ء میں شائع شدہ ایک کالم کا تراشہ ارسال کیا۔ میں نے اُسے پڑھا اور پڑھتے ہی جو صدمہ اور افسوس کی لہریں مجھ پر طاری ہوئی ہیں اُن کا بیان بالکل نا ممکن ہے۔

ایک پاکستانی بھائی کے قلم سے اِس قدرتذلیل اور الزام بھرے اور ذہنوں کو الجھانے والے الفاظ کیسے نکلے ہیں؟ اِس کا راز سمجھنا پاکستان اور پاکستانی بھائیوں سے از تہہ دل پیار کرنے والے مجھ جیسے لاکھوں ترکوں کے لیے بہت مشکل ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ خاموشی اختیار کروں اور اِس تلخ و ترش کالم کو کالم نگار کی نیک نیتی پر محمول کروں مگر اِس کالم کو چند دفعہ پڑھنے سے میرے دل کا دکھ اتنا بڑھ گیا کہ مجھ سے خاموش نہیں رہا گیا۔

در اصل آج کل ترکی سے باہر اور ترکی کے اندر ترکی کے خلاف جو زبردست مہم چل رہی ہے، اِس میں ترکی سے باہر بالخصوص مغربی دنیا کے صحافی اور قلمکار شریک ہورہے ہیں اور ترکی کے اندر کے اور ترکی سے باہر کچھ مسلمان ممالک کے صحافی بھی اِس مہم کے آلۂ کار بنتے ہیں۔ میں اِس افسوس ناک صورتحال کے اِس پہلو پر کچھ لکھے بغیر ارسال کردہ مذکورہ کالم نگار نے، ترکی اور پاکستانی دوستی کے خلاف جو بھی لکھا ہے اُس کی طرف آؤں گا۔

مجھے سوالات کی صورت میں جواب پیش کرنے کا شوق ہے۔ لہٰذا مذکورہ کالم کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ سب بھائیوں سے گزارش ہے کہ میرے سوالات پر سوچئے۔ اور آپ کو خود بخود جوابات مل جائیں گے۔

1) پاکستانی عوام کے دلوں میں ترکی ، ترکی حکومت اور ترک بھائیوں کے خلاف شک و شبہ اور دشمنی پیدا کرنے سے کس کو فائدہ ہوگا؟

 2) ترکی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں پاکستانیوں کو اپنے بھائی سمجھ کر اُن کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اِسی لیے  تارکین وطن پاکستانی بھائی یورپ اور امریکا سے  آ کر ترکی کے مختلف علاقوں سے گھر خریدتے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہاں ’’اذان ہے، مسلمان ہیں اور پاکستانیوں سے بے حد محبت ہے!‘‘ اگر اُن پاکستانیوں کو ترکی اور ترکی کے عوام میں یہ عناصر نہ ملتے تو وہ یورپ یا امریکا کے جدید تر ملکوں سے اور اب پاکستان سے بھی اُٹھ اُٹھ ترکی میں آکر گھر خریدتے؟

3) پاکستان میں زلزلہ آیا تو وہاں کون لوگ پہنچے اور سیلاب آیا تو کون سیلاب زدہ علاقوں میں تھے؟ ’’اپنے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بہ شانہ ترک بھائی‘‘ پاکستان میں زلزلہ آیا تو ترکی میں چھوٹی چھوٹی بچیوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں نے اپنے جیب خرچ نکال کر چندہ میں دے دیئے اور بعض خواتین نے اپنے زیورات تک کو چندہ میں جمع کرایا۔ انقرہ میں موجود اُس وقت کے پاکستانی سفیر صاحب نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے پاکستانیوں سے محبت کے اِن واقعات کا ذکر کیا تھا۔ یہ سب کرتے ہوئے ترکوں کے ذہنوں میں کیا بزنس کا چکر چل رہا تھا؟

4) کالم نگار کے کالم سے یوں لگتا ہے کہ ترکی کے ترقی کرنے سے اُن کو گزند پہنچی ہے۔ اور وہ بیس پچیس سال پہلے کے ترکی کو یاد کراکے یہ کہتے ہیں کہ ترکی کے حالات پاکستان سے بھی زیادہ خراب تھے، وغیرہ اور اب وہ بہت ترقی کرگیا ہے۔ کیا ایک مسلمان کو کم از کم ایک مسلمان ملک کی ترقی کرکے خوش حال ہوتے ہوئے دیکھ کر خوش نہیں ہونا چاہئے؟ خیر کچھ لوگوں کا دل غیر اسلامی ممالک کی ترقیات کو دیکھ کر باغ باغ ہورہا ہے اور مسلمان ممالک کی ترقی کو حقیر دکھانے میں اُنھیں مزا آتا ہے وہ الگ بات ہے۔

 5) اور تجارت و بازرگانی یا بزنس کہہ لیجیے کب سے جرم ہؤا ہے ؟ دنیا کے تمام  ملک ایک دوسرے سے کاروبار کرتے ہیں اور ترکی کی خواہش یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ تجارتی تعلقات اور بھی بڑھ جائیں۔ کیونکہ کاروباری تعلقات کی بہتری سے مختلف ملکوں کے لوگوں میں تعلقات، برادری اور دوستی بڑھتی ہے۔ تجارتی تعلقات کے بڑھنے سے اتحاد اسلام کو بھی فائدہ ہے۔ جب چین، جاپان، جرمنی یا انگلینڈ سے کاروباری تعلقات پیدا کرے گا تو یہ پاکستان کی بہتری ہے اور اگر ترکی سے تجارت کرے گا تو اِس کو پاکستان کو لٹوانے کا نام دیاجائے؟ اور اِس منفی منطق کے پس پردہ کیا ہے اور اِس سے کس کو فائدہ پہنچے گا؟

6) کالم نگار نے سلطان احمد کے علاقے کی اسلامی روایات اور تقسیم سکوائر میں یورپ اور امریکا کی معاشرت ملنے کا ذکر کیا ہے۔ لگتا ہے کہ کالم نگار صاحب، اگر استنبول گئے ہیں تو صرف استنبول کے ٹورسٹ علاقوں میں سیر و تفریح کے لیے گئے ہیں۔ مگر اُنھوں نے استنبول نہیں دیکھا ہے۔ استنبول ڈیڑھ کروڑ آبادی کا ایک بڑا شہر ہے اور سلطان احمد کے علاقے میں ہوٹل، ہوسٹل، ریسٹورنٹ وغیرہ ہیں عام آبادی بہت کم ہے۔ میں اُن سے یہ عرض کروں گا کہ اگر آپ جانا پسند فرمائیں گے تو استنبول کے دیگر علاقوں میں آپ تشریف لے جائیں۔ سلطان احمد سے کہیں زیادہ اسلامی روایات آپ کو ملیں گی۔ اگر آپ لاہور میں بادشاہی مسجد جائیں گے تو آپ کو نمازی نظر آئیں گے اور اِس سے ذرا آگے بازار حسن میں جائیں گے تو وہاں کیا دیکھیں گے وہ سب کو معلوم ہے۔ اِس لیے آپ کو اگر اِس طرح کا معاشرہ پسند نہیں ہے تو تقسیم سکوائر میں نہ جائیے۔ آپ کے ساتھ کون زبردستی کرتا ہے؟

7) ترکی اور استنبول لاتعداد مساجد کی وجہ سے معروف ہیں اور استنبول مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے۔ مسجدوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کے باوجود اگر جمعہ کی اذان ہوتے ہی کسی بھی مسجد میں جائیں تو بے پناہ ہجوم کی وجہ سے آپ کو مسجد کے اندر جگہ نہیں ملے گی۔ کیا یہ ترکی کے لوگوں کے غیر اسلامی ہونے کی علامت ہے؟

8) ترکی میں سرکار کی طرف سے ہزار ہا اسلامی ہائی اسکول اور مڈل اسکول ہیں جن میں اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی سکھائے جاتے ہیں۔ مزید بر آں اُن اسکولوں کی تعلیم اِس قدر عمدہ ہے کہ مذہبی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیکولر خیالات کے لوگ بھی اُن اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں۔ کیا ترکی حکومت کی طرف سے اتنے سارے مذہبی اسکول کا ہونا ترکی کے الحاد اور مذہب دشمنی کی علامت ہے؟

9) کالم نگار صاحب نے لکھا ہے کہ اگر کاروباری مفاد نہ ہوں تو ترک جو پاکستان میں ہیں پاکستان کو چھوڑ کے چلے جائیں گے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ اگر کالم نگار صاحب کو اپنے کام سے نکال دیا جائے اور اُس شہر میں جس میں وہ رہتے ہیں، اُنھیں روزگار نہ ملے  تو وہ کیا اُس شہر میں بھوکے مرنے تک رہیں گے؟

ظاہر ہے اگر ترکوں کو لاہور یا اسلام آباد میں روزگار نہیں ملے گا تو وہ سڑکوں پر بیٹھ کر بھیگ ماننا پسند نہیں کریں گے اور اپنے ملک میں واپس آئیں گے۔ کسی ملک کا بھی باشندہ ہو خواہ ترکی اور خواہ پاکستان کون ایک ایسی نامعقول حرکت کرے گا؟ ظاہر ہے کوئی بھی نہیں۔

10) کالم نگار نے ترکوں سے بھائی کا حصہ مانگنے کی بات کی ہے۔ جتنے بھی ترک پاکستان میں کاروباری سلسلے میں موجود ہیں وہ پاکستان کے قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ جو کام کرتے ہیں اُس میں چوری چکاری نہیں کرتے ہیں اور جو ٹیکس دینا ہوتا ہے وہ بھی پاکستان کو باقاعدہ دیتے ہیں۔ اگر آپ ٹیکس دے کر سنجیدگی سے اور ناموس اور عزت کے ساتھ کاروبار کرنے والے سے، خواہ یہ عام دکاندار کیوں نہ ہو، اپنے ’’بھائی کا حصہ‘‘ مانگیں گے تو اِس کا نام رشوت یا بھتہ ہوگا۔ بھائی کا حصہ نہیں۔  کیا کالم نگار یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ترکوں سے اِس طرح کا ’’بھائی کا حصہ‘‘ وصول کیا جائے؟

11) مصر میں جب مارشل لاء لگا اور جنرل سی سی برسر اقتدار آئے اور صدر مرسی کو جیل میں بھیجا گیا تو ترکی نے اپنے تمام تر مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کم کردئیے ۔ حالانکہ مصر میں ترکی کی بڑی بڑی فیکٹریاں اور مصر کے ساتھ عمدہ کاروباری تعلقات موجود تھے۔ اِس کو دیکھ کر کالم نگار کے پیش کردہ خیالات کو سوچنا چاہئے کہ اگر ترک محض بزنس فرینڈلی لوگ ہوتے تو کیا وہ یہ کام کرسکتے تھے جس کو نہ یورپ کے بزعم خود ’’انسانی حقوق کے محافظ‘‘ ممالک نہ ہی امریکا کرسکا؟

 12)ترکی کی جدیدیت کو الحاد اور مذہب فروشی کی علامت بتاتے ہوئے پاکستانی عام مسلمانوں کے ذہنوں میں شک و شبہ پیدا کرنے والے کالم نگار سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا اپنے آپ کو اسلام کے خادم اور شریعت کے مدافع کہنے والے بہت سے ملکوں میں فحاشی، عیاشی، منشیات فروشی اور خواتین اور اجنبیوں سے غیر اسلامی اور غیر انسانی سلوک ’’در پردہ‘‘ موجود نہیں؟ اگر نہیں کہیں گے توعالم اسلام پر ذرا آنکھ اور دل کھول کر نظر دوڑائیں، ایسی باتیں ’’سیکولر‘‘ ترکی سے کہیں زیادہ ملیں گی۔

13) ترکی میں پچانوے فی صد لوگ مسلمان ہیں۔ خواہ یہ ماڈرنائزڈ اور یورپین خیالات کے مالک لوگ ہوں۔ خواہ مذہبی اور اسلامی خیالات کے لوگ۔ آپ ترکی میں آکر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بہت ہی ماڈرن کپڑے پہنی ہوئی لڑکی، حجاب پہنی ہوئی لڑکی کے ساتھ بازو میں بازو ڈالے کہیں جارہی ہیں یا نماز نہ پڑھنے والا کوئی لڑکا مسجد کے دروازے کے سامنے اپنے نمازی دوست کا انتظار کررہا ہے کہ وہ نماز پڑھ کر باہر آئے تو اسکول یا کہیں اور جگہ چلے جائیں۔ کیا ایک دوسرے کے خیالات کی وجہ سے ایک دوسرے پردشنام نہ دینا یا گلے نہ دبانا کوئی گناہ ہے یاالحاد؟

 14) ترکی اور اسرائیل کی دوستی کا ذکر کرکے ترکی کی حکومت کے خلاف احساسات بڑھکانے کی کوشش سے کیا مراد ہے؟ کالم نگار کو یاد ہونا چاہئے کہ جب ترکی اور اسرائیل کے تعلقات جاری تھے تو اُس وقت ترکی، اسرائیل ، فلسطین اور دمشق کے مابین ثالثی حیثیت سے کام کررہا تھا تو اگر کچھ باہر طاقتیں اجازت دیتیں تو اِس سے بھی مثبت نتائج حاصل ہونے تھے۔ مگر بڑی طاقتوں کی سیاست اور ہوتی ہے اور اِس اقدام کو کامیاب ہونے نہیں دیا گیا۔ جب ’’ماوی مرمرہ‘‘ کا واقعہ ہؤا او کچھ ترک شہری شہید ہوئے تو ترکی نے اسرائیل سے تمامتر تعلقات کو محدود کردیا۔  آخرکار اسرائیل ترکی سے معافی مانگنے پر مجبور ہؤا۔

عالمی سیاست میں مذاکرات کے نام کی کوئی چیز بھی ہوتی ہے۔ مختلف ملک اور اُن کے لیڈر کبھی بر سر عام اور کبھی پس پردہ، مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔ کیا مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کرنا بھی غیری اسلامی ہے؟ لگتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اب اسلام کی تاریخ پڑھنا بھی چھوڑدیا ہے۔ سرور کائنات محمد مصطفی ﷺ کی اجازت سے حدیبیہ میں مشرکین مکہ سے جو مذاکرات ہوئے اور جس معاہدے پر مہر مبارک لگ گئی وہ شاید کسی کو بھی یاد نہیں رہا۔

15) رہی ترکی کے ڈراموں کی بات۔ میرا سلطان اور عشق ممنوع میں ایسا کچھ نہیں جوبد اخلاقی یا عریانی کہلایا جائے۔ اُن میں نہ فحاشی ہے نہ ہی عریانی۔ اگر ہے تو خواتین حجاب میں نہیں ہیں صرف یہی۔ ویسے بھی اب ترکی میں بات یہ ہے کہ ڈراموں میں یا فلموں میں ایسی کوئی بات ہو تو اُس کو بند کراتے ہیں اور ترکی میں آزاد خیال لوگوں کا اعتراض یہی ہے کہ اسلامی خیالات کی حکومت کی وجہ سے ہم اپنے خیالات آزادی سے پیش نہیں کرپاتے ہیں۔

پھراِن ڈراموں سے کہیں زیادہ عریانی اور غیر شرعی اور غیر اسلامی انڈین فلمیں ٹی وی پر لگیں تو کچھ لوگوں کو شرعی یا غیر شرعی کی تمیز یاد نہیں آتی ہے اور ترکی ڈرامے جب ٹی وی پر لگتے ہیں تو پھر اُن کو شریعت یاد آتی ہے ؟ اِس بات کو بھی ذرا سوچنا چاہئے۔  در حقیقت میں  سیاست اور صحافتی زندگی اور بحث و مباحث سے کوسوں دُور ہوں اور عزلت پسند آدمی ہوں۔ مگر ترکی اور پاکستان کی دوستی اور برادری کے خلاف کچھ دیکھتا ہوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا ہے۔

اِس لیے میں میڈیا اور صحافت سے منسلک اپنے تمام پاکستانی بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ کسی بھی ملک اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے ذرا محدود رہئے اور مسائل کی تہہ تک پہنچے بغیر کچھ نہ لکھئے۔ کیونکہ اِس طرح کی تحریروں سے جو نقصان ہوگا وہ سامنے والے ملک سے زیادہ پاکستان کو ہوگا اور پھر پاکستان کے چند دوست ممالک میں سے ترکی، جوکہ میرے خیال میں پاکستان سے محبت کے روابط سے منسلک واحد ملک ہے، کو پاکستان سے دُور کرنے سے کس کو فائدہ ملے گا؟

والسلام

پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار۔ استنبول۔ ترکی (ڈاکٹر طوقار استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ، اردو کے عالمی شہرت یافتہ محقق اور ادیب و مصنف ہیں۔)