جنرل اونٹ انتقام کے پہاڑ کے نیچے
- منگل 31 / دسمبر / 2013
- 5546
پاکستان کی پینسٹھ سال کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فوج کے افسران سول قانون سے ہمیشہ بالا تر رہے ہیں ۔ وہ پاکستان کا انتہائی مراعات یافتہ ہیں ۔ پاکستان کی عدالتیں بھی اُن کی مطیع اورفرمانبردار رہی ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا رہا ہے کہ پاکستان میں فوجی اور سول ایک ہی فضا میں سانس نہیں لیتے ۔
مارشل لاؤں کو قانونی جواز فراہم کرنے کا کام ججوں اور وکیلوں نے ہمیشہ بڑی دیانت داری سے کیا ہے اور پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں ججوں اور جرنیلوں کا گٹھ جوڑ سول حکومتوں کے چوہے کے سر پر قاتل ہتھوڑے کی ضرب ثابت ہوتا رہا ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ بھٹو کو تختہ ء دار تک پہنچانے میں عدلیہ نے فوج کی اس حد تک پذیرائی کی کہ لگتا تھا جسٹس انوار الحق ،جج نہیں بلکہ جنرل ضیا الحق کے اردلی ہیں ۔
اور اب وہ دن آن پہنچا ہے جب ایک سابق جرنیل سول حکومت کا تختہ اُلٹنے کی پاداش میں عدالت میں بطور ملزم پیش ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف ایک ہٹ دھرم اور بر خود غلط آدمی ہیں ۔ انہوں نے جو غلطی سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو بر طرف اور نظر بند کر کے کی تھی ، وہ اُن کے لیے سانپ کے گلے کی چھچھوندر بن گئی ۔ اُس کے بعد انہوں نے دوسری غلطی سیاست کے میدان میں اُتر کر کی ۔
جانے کس دشمن نے اُنہیں اس کام پر آمادہ کیا اور انہوں نے سیاست کے اندھے کنوئیں میں یہ سمجھ کر چھلانگ لگا دی کہ سیاست کا اکھاڑہ بھی کور کمانڈرز کا کلب ہے۔ مگر یہاں تو اُلٹی آنتیں گلے کو آن پڑی ہیں اور جنرل صاحب "کڑکی" میں پھنسے لگ رہے ہیں ۔ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور مدد کے لیے جی ایچ کیو کے دروازے کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جنرل راحیل شریف ان کو مشرف بہ رہائی کرائیں گے ۔
کہنے والے بہت کچھ کہ رہے ہیں اور ملزم جرنیل کے آنسو چک شہزاد کے بیڈ روم میں مسلسل بہ رہے ہیں ۔ تاہم خوشی ہے کہ ایک قانون شکن کو پاکستانی قانون نے احتساب کے لیے طلب کرلیا ہے ، لیکن ۔ ۔ ۔
میں حلفیہ کہتا ہوں کہ مجھے جنرل پرویز مشرف سے کوئی ہمدردی نہیں کیونکہ میں اُنہیں آئین کا قاتل اور سول رول کا دشمن سمجھتا ہوں۔ لیکن جمہور دشمنی کی اس کہانی کے پہلا کردار تو فیلڈ مارشل ایوب خان ہیں جنہوں نے اکتوبر 1958 میں پہلا مارشل لگایا تھا ۔ ایبڈو کا پھندا ایجاد کر کے سابقہ سول حکمرانوں کو نا اہل قرار دے کر کنوینشن لیگ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنا کر اس میں سویلین بھرتی کیے تھے ۔
پھر یہ سویلین جنرل یحیٰ کی تحویل میں چلے گئے ۔ایک مارشل لا سے دوسرے مارشل لا تک ۔ پھر پاکستان ٹوٹ گیا ۔ نوے ہزار جنگی قیدی جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ ہانک کر اپنے ہاں لے گیا۔ اس کے بعد ضیا الحق نے دس برس اسلام کے نام پر حکومت کی ۔ اس کے بعد سانس لینے کے لیے جی ایچ کیو نے قدرے توقف کیا اور پھر جنرل پرویز مشرف آ گئے ۔ ان فوجی حکومتوں کا عرصہ ء اقتدار کل ملا کر چالیس برس بنتا ہے ۔ ان چالیس برس کا حاصل کیا ہے ؟
جی ایچ کیو کو اس کا حساب دینا چاہیئے اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جنرل حمید گل سمیت ان سب جرنیلوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرنا چاہیئے جو کسی نہ کسی طرح ان فوجی حکومتوں کے چٹّے بٹّے رہے ہیں ۔ جی ایچ کیو کو باقاعدہ اس سلسلے میں فریق بنانا چاہیے کہ آخر پینسٹھ میں سے چالیس سال کیوں آمریت کے نام پر عوام سے چھین لیے گئے مگر کیا حکومت یا عدالتِ عالیہ اس پوزیشن میں ہیں ؟ اگر نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں ؟ اور کیا چار میں سےصرف ایک فرد کو عدالت کے کٹہرے میں طلب کرنا مناسب ہو گا ؟ یا یہ اقدام نواز شریف ایند کمپنی کا ذاتی انتقام سمجھا جائے گا ۔
پاکستان کا حکمران طبقہ خواہ حکومت میں ہو یا حزبِ مُخالف میں ،عدالتوں میں ہو یا مذہبی اشرافیہ میں ، میڈیا میں ہو یا کلچر ولچر میں ، تجارت میں ہو یا این جی اوز میں ، اس ملک کے سیاسی امور میں رونما ہونے والی بد تمیزیوں ، نالائقیوں اور نادانیوں کا مشترکہ طور پر ذمہ دار ہے اور قابلِ مواخذہ ہے ۔
کیا صرف ایک شخص ، یعنی پرویز مشرف کا مواخذہ ، عوام کے خلاف ہونے والے چالیس سالہ آمرانہ مظالم کا ازالہ کر سکے گا ؟ شاید نہیں ۔ میرا گمان ہے ( حالانکہ میں کیا اور میرا گمان کیا) ، یہ فقط شخصی انتقام ہو گا جو ملک میں مزید سیاسی اور تنظیمی پیچیدگیوں، رنجشوں اور کدورتوں کو جنم دے سکتا ہے ۔ لیکن میرے جیسے لوگ وطن سے دور بیٹھے اپنی مٹی سے رشتے کی بنا پر پاکستان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ، اپنی تشویش کے اظہار کے علاوہ اور کربھی کیا سکتے ہیں ؟
اور کچھ نہیں تو پرویز مشرف کے ساتھ کم از کم ، کشکول شکن بے بی شوکت عزیز کو کھڑا کرنا کتنا موزوں ہوتا مگر یہاں تو معاملہ ذاتی انتقام کا لگتا ہے ۔ ذاتی انتقام ، ذاتی انتقام ، ذاتی انتقام ۔ کیا وزیر اعظم نواز شریف اس سے انکار کر سکتے ہیں ؟ اگر یہ ذاتی انتقام نہیں تو نواز شریف کو ، اپنے مُربّی ، شہید امیر المومنین جنرل ضیا سمیت پورے جی ایچ کیو کا مواخذہ کرنا چاہیے اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہوگا بشرطیکہ عدالت اپنے دستِ انصاف کو اس حد تک دراز کرنے پر تیار ہو۔ ورنہ اس ٹرائل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا ۔ سانپ نکل جائے گا اور نواز لیگ لکیر پیٹتی رہ جائے گی ۔