لاہور کی ادبی ڈائری

  • جمعرات 02 / جنوری / 2014
  • 8783

حلقہ اربابِ ذوق کا ہفتہ وارتنقیدی اجلاس ایوانِ اقبال میں منعقد ہؤا۔ اجلاس کی صدارت  افسانہ نگار عامر فراز نے کی۔ سب سے پہلے جائنٹ سیکرٹری عثمان ضیا ء نے گذشتہ اجلاس کی کاروائی توثیق کے لیے پیش کی۔ اس کے بعد محمد جواد نے اپنا افسانہ ’’گریگری ‘‘ کے عنوان سے تنقید کے لیے پیش کیا۔

افسانے پر اظہار رائے کرتے ہوئے حاضرین کی کثیر تعداد نے کہا کہ محمد جواد نے کردار کے گرد گھومنے والا ایک عمدہ افسانہ تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے کردار کو واضح کرنے کے لیے بیانیہ کی بجائے مکالمہ کو بطور تکنیک کامیابی سے اپنایا اور افسانہ کے آخر تک کردار کی پر اسراریت قائم رکھی۔ لیکن کلائمکس پر پہنچ کر افسانہ نگار نے کردار کی پراسراریت کو کھول دیا۔ اگر افسانہ نگار کردار کی پرا اسراریت کو قائم رکھتے ہوئے قاری کو یہ اختیار دیتے کہ وہ کردار کے بارے میں خود فیصلہ کرے تو بہتر ہوتا۔

علاوہ ازیں محمد جواد نے اس افسانے میں انسان کے سلیم الفطرت یا گنہگار ہونے کے بارے میں بہت ہی بنیادی سوالات خوبصورت انداز میں اٹھائے اور انہیں فلسفے کے بوجھ تلے نہیں دبنے دیا۔ محمد جواد کے افسانے پر گفتگو تمام ہونے کے بعد محمد عباس نے اپنا افسانہ ’’افسانے‘‘ کے عنوان سے تنقید کے لیے پیش کیا ۔ افسانے پر گفتگو کر تے ہوئے حاضرین نے کہا کہ افسانہ نگار نے فکشن در فکشن کی تکنیک کو استعمال کیاہے اور تخلیق کار کے اندر موجود نقاد کے المیے کو واضح کیا ہے ۔

افسانہ نگار نے ایک تخلیق کار کی ایسی تخلیقات کو موضوع بنایا ہے جنہیں تخلیق کار فنی وجوہات ، زبان و بیان کی وجوہات یا سوشل ٹیبوز کی وجہ سے شائع نہیں کر واتا اور بعد میں وہی تخلیقات تخلیق کار کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔ افسانہ نگار نے افسانے میں بنیادی کر دار کے طور پر موجود تخلیق کار کی ذہنی کشمکش کو علامتی طور پر دکھایا اور ایک کامیاب افسانہ تشکیل دیا ہے۔ لیکن محمد عباس نے بھی افسانے کے آخری پیراگراف میں افسانے کی پر اسراریت کو ختم کر کے قاری کے لیے معنوی جہات کو محدود کر دیا ہے۔

محمد عباس کے افسانے کے بعد ڈاکٹر ناصر بلوچ نے اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی۔ حاضرین نے غزل پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ غزل ایک طرح سے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں موجود خالی پن اور تنہائی کی آواز ہے ۔

اجلاس کے اختتام پر حاضرین نے مسیحی ادیب وشاعرآفتاب جاوید کے ساتھ مل کر کرسمس کا کیک کاٹا اور انہیں کرسمس کی مبارکباد پیش کی ۔ تخلیقات پر گفتگو کر نے والوں میں حسین مجروح، حسن جعفر زیدی، ناصر بلوچ، سلیم مظہر مجوکہ ، ناصر علی ، ابدال جعفری، محمد جواد ، محمد عباس ، ظہیر عباس، علی عثمان باجوہ ، سلمی افتخار، عاطف رضا اور آفتاب جاوید شامل تھے ۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس عابد حسین عابد کی زیر صدارت پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہؤا۔ اجلاس میں دو افسانے تنقید کے لیے پیش کیے گئے ۔ علی عثمان باجوہ نے ’’لِیک ‘‘ کے عنوان سے پنجابی افسانہ پیش کیا ۔ یہ افسانہ دیہی اور شہری زندگی کے تہذیبی تضادات کے پس منظر میں لکھاگیا تھا جس میں دونوں تہذیبوں کو اجاگر کیاگیا تھا ۔افسانے میں مکالماتی اندازاختیار کیاگیاتھا۔

افسانے پر رشید مصباح ، مقصود خالق، غلا م حسین ، آفتاب جاوید اور عبدالوحید نے گفتگو کی اور مجموعی طورپر اسے سراہاگیا ۔ رشید مصباح نے کہاکہ باجوہ کاافسانہ تہذیبی انقلاب کے حق میں لکھا گیا ہے اور یہاں ثقافی انقلاب ہی کی ضرورت ہے ۔ صاحب صدر کا کہنا تھا کہ آج جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی میدان میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں طرز زندگی میں جو تبدیلی رونما ہورہی ہے اسے احسن انداز میں بیان تو کیاگیا ہے۔ لیکن ہمارے ذہنوں اورسوچوں پر جو جمود ہے افسانہ نگار اس کو مخاطب نہیں کررہا اس طرح افسانے میں اس انسانی المیے کو نظر انداز کردیاگیا ہے ۔

حسنین جمیل کے افسانے کاعنوان تھا ’’مجھے کیوں مارا گیا‘‘ ۔ اس افسانے میں مذہبی منافرت کو علامتی پیرائے میں بیان کیاگیا تھا۔اس افسانے کے بارے میں شرکائے اجلاس کا کہنا تھاکہ اس میں ایک آدمی کو جنرلائز کرکے اس کے کینوس کو محدود کردیاگیاہے ۔ معاشرے میں اس وقت جو جبر ہورہاہے اس میں اسے اجتماعی حوالے سے افسانے میں سمونا چاہئے تھا۔ یعنی فردِ واحد کے بجائے پورے معاشرے کی کہانی بیان کرنی چاہئے تھی۔ اسی طرح افسانے میں ہندی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو کھپ نہیں سکے ہیں ۔

رشید مصباح کا کہنا تھا کہ افسانے کی زبان اچھی ہے لیکن افسانے کے بجائے رپورتاژ زیادہ محسوس ہوتا ہے دوسرے اس میں فوکل پوائنٹ بھی نہیں ہے۔