حقیقی اپوزیشن

  • جمعرات 02 / جنوری / 2014
  • 4753

پاکستان کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور و شور سے جاری ہے کہ اس وقت ملک میں حقیقی اپوزیشن کون سی ہے اور حقیقی اپوزیشن لیڈر کون ہے؟ اس بحث کا آغاز تو شاید پارلیمنٹ کی راہداریوں سے ہؤا ہو گا لیکن اب یہ کالموں اور خبروں کے بعد ملک کے دانشور حلقوں تک پھیل گئی ہے۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے باوجود یہ نعرہ لگایا کہ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ نعرہ کسی چھوٹی سطح سے نہیں بلکہ جناب آصف زرداری کی جانب سے لگایا گیا تھا۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب اپوزیشن ہی کی ایک جماعت تحریک انصاف نے ملک میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے کا اعلان کیا تو حکومت سے بڑھ کر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس کی مخالفت کی۔

انہوں نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ تحریک انصاف مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہے کیونکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں جہاں ان کی حکومت ہے وہاں شاید پیاز 5 روپے کلو، ٹماٹر دو روپے کلو اور آٹا مفت مل رہا ہے۔ خورشید شاہ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔ لیکن اس رد عمل سے سیاسی حلقوں میں یہ پیغام پہنچ گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہیں اور حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک کو اپوزیشن (پیپلز پارٹی) پسند نہیں کرتی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خورشید تحریک انصاف کی کال کی حمایت کرتے اور حکومت پر مہنگائی ختم کرنے یا کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے۔ لیکن انہوں نے جس انداز میں اپنا رد عمل ظاہر کیا اس سے اندازہ ہو گیا کہ وہ یہ رد عمل محض سیاسی ضرورت کے لیے نہیں دے رہے بلکہ حکومت کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مہنگائی کے خلاف احتجاج اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا حق نہیں فرض ہے۔ لیکن اس معاملے میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نہ صرف خود خاموش رہی بلکہ دوسروں کو بھی یہ فرض ادا کرنے سے روکتی رہی۔

قومی اسمبلی کی موجودہ اپوزیشن پر پہلے ہی سے فرینڈلی اپوزیشن کا الزام ہے۔ یہ الزام پیپلز پارٹی کے پچھلے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) پر بھی تھا۔ اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ جس طرح مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو آسانی سے پانچ سال حکومت کروائی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک سوفٹ اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ جس کا پہلا اظہار چیئرمین نیب کی تقرری پر ہؤا۔ جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے قمر زمان کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی پر اتفاق کر لیا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد قمر زمان خود کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گئے۔

اس کا دوسرا اظہار اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو پبلک اکاؤنٹًس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر کے کیا گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح پچھلی حکومت نے چودھری نثار علی خان کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مقرر کیا تھا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ بھی چار ساڑھے چار سال تک بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کام کریں گے۔ اور انتخابات سے چند ماہ قبل چودھری نثار علی خان کی طرح یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

شاید اسی وجہ سے بابر اعوان جیسے جیالے اپنے کالموں میں لکھ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کی موجودہ اپوزیشن حکومتی ارکان سے زیادہ حکومت کی وفادار ہے۔ اور عرفان صدیقی جیسے متوالے تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ عددی اکثریت کی وجہ سے خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر ضرور ہیں لیکن حقیقی اپوزیشن لیڈر عمران خان ہی ہیں۔

پاکستان میں قائد حزب اختلاف (قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلیوں کے اندر لیڈر آف دی اپوزیشن) کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بیشتر پر شک و شبے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ صدر ایوب خان برسراقتدار تھے تو ان کے حقیقی بھائی سردار بہادر خان اپوزیشن لیڈر تھے۔ 70 کی اسمبلی میں جو چند نامور اپوزیشن لیڈرز تھے ان میں سے ممتاز دولتانہ ابتداء ہی میں برطانیہ کی سفارت پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ سردار شوکت حیات بعد میں کونسل مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر بنے۔ وہ 1977ء میں پیپلز پارٹی کے امیدوار بن گئے۔

85 کی اسمبلی کی صورتحال سب سے دلچسپ تھی۔ اس اسمبلی میں سپیکر شپ کے حکومتی امیدوار خواجہ صفدر مرحوم اپوزیشن کے امیدوار سید فخر امام سے شکست کھا کر اپوزیشن لیڈر بن گئے اس طرح وہ پوری پارلیمانی تاریخ کے واحد اپوزیشن لیڈر تھے جو حکومتی نمائندے تھے۔ اور وہ اپوزیشن کی نمائندگی کرنے کے بجائے حکومت کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اپوزیشن بھی ایسی ہی تھی۔ گویا وہ اسمبلی میں موجود حقیقی اپوزیشن کے مخالف تھے۔۔۔ لیکن یہ صورتحال زیادہ عرصہ نہ چلی۔ حکومت جلد ہی فخر امام کو سپیکر شپ سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔ ان کی جگہ حامد ناصر چٹھہ سپیکر منتخب ہو گئے اور اپوزیشن نے خان پور سے معروف پارلیمنٹیرین حاجی سیف اللہ کو اپنا لیڈر منتخب کرلیا۔

وہ کچھ عرصہ تو یہ دھندا چلاتے رہے لیکن ان کی نظریں حکومتی عہدوں پر رہیں۔ چنانچہ اس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان مرحوم کے بقول چونکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو خود بھی اپنے محسن صدر ضیاء الحق کی اپوزیشن کرنے کا درپردہ ارادہ کئے بیٹھے تھے اس لیے انہوں نے حکومتی بنچوں سے پوری حمایت حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن کے دل جیتنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اقبال احمد خان کی ڈیوٹی لگائی کے وہ اپوزیشن لیڈر اور ارکان سے بات کر کے انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اپنے کسی رکن کو نامزد کر دیں جسے وہ (جونیجو) وزیر بنا دیں گے۔

اس طرح کابینہ میں اپوزیشن کی نمائندگی ہو جائے گی اور یہ وزیر عملاً اپوزیشن ارکان کے مفادات کا خیال رکھیں گے اور ان کے کام کریں گے۔  یہ تجویز جب لیڈر آف دی اپوزیشن حاجی سیف اللہ تک پہنچی تو انہوں نے خود اپنا نام ہی پیش کر دیا اور اس کے لیے لابنگ بھی کر ڈالی۔ چنانچہ چند دنوں بعد وہ وفاقی وزیر مذہبی امور بن گئے اور اپوزیشن کو مکمل طور پر بھلا بیٹھے۔ حالانکہ وہ وزیر اسی وجہ سے ہوئے تھے۔۔۔ یہی حال اس اسمبلی میں اپوزیشن کے دو سیکرٹری جنرلوں کا ہؤا۔ پہلے سیکرٹری جنرل شیخ رشید تھے جو راولپنڈی کی میئر شپ پر ڈول گئے اور حکومتی جماعت میں شامل ہو گئے۔ میئر شپ تو انہیں نہ ملی البتہ پھر وہ مستقبل کی حکومتوں کا حصہ ضرور بن گئے۔

دوسرے سیکرٹری جنرل جاوید ہاشمی تھے وہ بھی اپوزیشن چھوڑ کر اسی حکمران مسلم لیگ (جونیجو لیگ) میں شامل ہو گئے جس کے وہ شدید مخالف اور ناقد تھے۔ 1988ء سے 1999ء تک اپوزیشن لیڈر شپ روایتی حریفوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس رہی۔ البتہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پیپلز پارٹی کے ایک بانی رکن غلام مصطفی جتوئی پی پی حکومت کے خلاف لیڈر آف دی اپوزیشن تھے۔ 2002ء میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا عہدہ کافی عرصہ خالی پڑا رہا۔ مقابلہ مخدوم امین فہیم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تھا۔ لیکن آخر کار یہ عہدہ مولانا کے حصے میں آیا اور الزام یہ دیا گیا کہ وہ حکومتی اشیرباد کے باعث اپوزیشن لیڈر بنے تھے۔

جب کہ 2007ء کی اسمبلی میں اپوزیشن اور اس کے لیڈر چودھری نثار علی خان پر آخری دن تک فرینڈلی اپوزیشن کا الزام رہا۔ جو اب خورشید شاہ پر بھی ہے۔ خورشید شاہ ایک فعال پارلیمنٹیرین ہیں لیکن پارٹی پالیسیوں کے تابع ہیں۔ جس کے تحت وہ حکومت پر تنقید تو کریں گے۔ لیکن حکومت کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ کام قومی اسمبلی میں عمران خان کریں گے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر وہ محتاط لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں لیکن اسمبلی سے باہر وہ خاصے جذباتی ہوتے ہیں۔ ان کا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد بھی ہے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں یہ اتحاد خاصا مؤثر دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ بھی سیاسی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔ اگر تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک مل کر حکومت کے خلاف کوئی موثر تحریک شروع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مذہبی جماعتوں کے علاوہ چھوٹی علاقائی جماعتوں کی حمایت انہیں مل سکتی ہے۔ ایسی کسی صورتحال میں حقیقی اپوزیشن لیڈر عمران خان ہی ہوں گے۔