اب کیا ہو گا؟

  • جمعہ 03 / جنوری / 2014
  • 4998

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے فارم ہاؤس سے روانہ بھی ہو گئے لیکن قافلہ خصوصی عدالت کے بجائے راولپنڈی کے امراض قلب اسپتال جا پہنچا جہاں کسی سویلین شخص یا پولیس کو رسائی حاصل نہیں ہے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانیوں کے اندر یہ تاثر جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو مقدمہ چلائے بغیر پاکستان سے فرار ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہؤا تو یہ تاثر اور گہرا ہو جائے گا کہ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل کا پاکستان میں کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

ادھر عدالت نے پرویز مشرف کو بیماری کی وجہ سے حاضری سے مستثنیٰ کرتے ہوئے غداری کے مقدمہ کی سماعت بھی ملتوی کر دی ہے۔ یاد رہے بدھ کو عدالت نے سابق آرمی چیف کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر وہ جمعرات کو بھی پیش نہ ہوئے تو ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔ اب تک ملنے والی خبروں کے مطابق مقدمہ سے پیدا ہونے والی تشویش کے باعث انہیں اپنے دل پر ہلکا سا دباؤ محسوس ہؤا۔ لیکن یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب وہ اسٹریچر تک پہنچے تو ان کے چہرے پر تازگی جھلک رہی تھی۔ معالجین کے مطابق انہیں بلڈ پریشر اور ذیابیطس بھی لاحق نہیں جو اکثر مریضوں میں دورہ قلب کا باعث بنتے ہیں اور نہ ہی اس سے قبل کبھی آج تک ان کے بارے میں اس مرض میں مبتلا ہونے کی کوئی خبر منظر عام پر آئی ہے۔

یہ صورتحال بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے اور سیاستدانوں سمیت بہت سے حلقے ان کی اس بیماری کو ’’ مبینہ ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ شکوک کسی حد تک جائز بھی ہیں تاہم انہیں کلی طور پر ڈرامہ قرار دینا بھی سابق صدر سے زیادتی ہے۔ کہیں بھی اور کسی بھی وقت کوئی بھی بیمار ہو سکتا ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ یہاں پر ڈاکٹرز کی رپورٹس عدالت میں پیش ہونے اور وہاں سے ردعمل آنے تک کسی بھی انتہا تک پہنچنا ہمارے سیاستدانوں کو بھی زیب نہیں دیتا۔ بقول متحدہ کے ایک اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی پیشیوں سے بچنے کیلئے عدالتوں میں پاگل پن کے سرٹیفکیٹ پیش کرتے رہے ہیں۔

تاحال پرویز مشرف کا اسپتال میں علاج جاری ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کی حالت معمول پر آ رہی ہے۔ مختلف میڈیکل رپورٹس سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انہیں کوئی خطرناک مرض لاحق نہیں۔ بعض طبی ماہرین کا خیال ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے ان کی دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تو انہیں بے چینی کا احساس ہؤا۔

وجہ کچھ بھی ہو مرض ایسا نہیں جسے تشویشناک کہا جا سکے۔ ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جلد شفا بخشے۔ وہ راولپنڈی کے جس اسپتال میں زیر علاج ہیں، اسے پاکستان میں امراض قلب کا بہترین اسپتال سمجھا جاتا ہے۔ پرویزمشرف سابق آرمی چیف کی حیثیت سے زیر علاج ہیں اور انہیں وہاں وہ تمام طبی سہولتیں حاصل ہیں جو دنیا کے کسی بھی مراعات یافتہ شخص کو دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں طبی نقطہ نظر سے انہیں ملک سے باہر بھیجنا پاکستان کے نامور اور قابل فخر معالجین کی توہین کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

لیکن یہاں اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ بیشتر پاکستانیوں کے خیال میں انہیں باہر جانے کا موقع دیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ عملاً اس تصور کو زندہ رکھا جا رہا ہے کہ فوجی افسر پاکستان کے آئین سے بالا ہیں۔ وہ ملک کی آئینی عدالتوں کے سامنے جوابدہ نہیں۔ آج بھی بنیادی حقوق کی پامالی اور سول اداروں میں کرپشن کے الزامات میں چند جرنیل نامزد ہیں اور ان میں سے دو پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد ہیں۔ سول عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے بجائے انہیں دوبارہ فوجی وردی پہنا کر کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو صورتحال کے کئی رخ دکھا رہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ بیماری اور بیرون ملک علاج کے بہانے قانونی کارروائیوں سے بچنے والوں میں سیاستدان بھی شامل ہیں، وہ اس سے مبرا نہیں۔ جزوی طور پر یہ بات درست ہو گی لیکن سیاستدانوں کی حد تک خصوصی حقوق کا تصور رائج نہیں رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھے، نواز شریف نے وزیراعظم اور معزول وزیراعظم دونوں حیثیتوں سے اپنا مقدمہ لڑا۔ انہیں ہتھکڑیاں ڈالی گئیں اور قید تنہائی میں بھی رکھا گیا۔ لیکن ان دونوں وزرائے اعظم کے ساتھ مشرف جیسا وی آئی پی سلوک نہیں کیا گیا اور انہیں وہ حیثیت نہیں دی گئی تھی جس کے وہ مستحق تھے۔ یہاں پر ہی جمہوریت کا حسن آشکار ہوتا ہے کہ اس نے ایک آمر کو بھی اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا ہے اور ان سے کسی قسم کا برا سلوک بھی روا نہیں رکھا گیا۔ ہو سکتا ہے اس کے پیچھے فوجی بوٹ بھی کار فرما ہوں مگر کریڈٹ یقیناًجمہوری حکومت کو بھی جاتا ہے۔

لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ پرویز مشرف کے ایک وکیل کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ سابق آرمی چیف کے خلاف مقدمہ کی وجہ سے فوج میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یہاں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ عدلیہ اور فوج کے درمیان منافرت کے بیج بو رہے ہیں۔ وہ یہ تاثر قائم کر رہے ہیں کہ فوجی قیادت ملک کی آئینی عدالتوں کے سامنے جواب دہ نہیں۔ اس دوران پرویز مشرف کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے کا اعلان خوش آئند تھا لیکن بدقسمتی سے اپنی بیماری کی وجہ سے وہ اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔

یہاں یہ کہنا از حد ضروری ہے کہ پرویز مشرف کے جرائم کی سزا انہیں ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں فیئر ٹرائل کا حق ملنا بھی اتنا ہی ناگزیر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اس موقع پر اگر کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ اور مداخلت کی بنیاد پر پرویز مشرف کو مقدمہ چلائے بغیر پاکستان سے جانے دیا گیا تو اس سے قانون کی حکمرانی کا تصور مسخ ہو کر رہ جائے گا۔

پاکستان میں محلاتی سازشوں کی کہانیاں ہر دور میں گردش کرتی رہی ہیں۔ یہ کہانیاں حقیقت پر مبنی ہوں یا تصورات پر تاہم ان کہانیوں کے سبب قومی اور سیاسی تاریخ کے اوراق پر سیاہ دھبے ضرور لگتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اگر پرویز مشرف خصوصی عدالت میں پیش ہوئے بغیر اور مقدمہ کا فیصلہ سنے بغیر پاکستان سے چلے گئے تو عوام اور فوج کے درمیان موجود ہم آہنگی اور اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو جمہوریت کے لئے بھی خوش آئند نہیں ہو گا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے ہر شخص یہی سوچ رہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے اس اہم ترین کیس کا اب کیا ہو گا؟ اس میں اور کتنے موڑ آئیں گے؟ سیاستدان کیا کردار ادا کریں گے اور کیا فوج اپنے سابق سربراہ کا ساتھ دیگی ؟ ان تمام مشکل سوالات کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا مگر ایک بات طے ہے کہ اگر تمام کارروائی آئین و قانون کے مطابق انجام پائی تو نتیجہ اچھا ہی ہو گا۔