عمل کی گواہی
- سوموار 06 / جنوری / 2014
- 5946
یہ ربیع الاوال کا مہینہ ہے ۔ ایک بر گزیدہ اور مُقدس مہینہ ۔ قمری کیلنڈر کے اس تیسرے مہینے کو جس ذاتِ اقدس ﷺ نے اپنے ورودِ مسعود سے تقدس بخشا ، اُس پر لاکھوں سلام ۔ اس مہینے کی آمد اور ربیع الاول کا بارھواں دن مسلمانانِ عالم کے لیےتجدیدِ عہد کا دن ہے کہ سب مسلمان خلقِ عظیم کی پیروی کریں گے اور اپنی زندگیوں کو اُن تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے جو ادارہ ء رسالت ﷺ سےجاری ہو کر پندرہ صدیوں سے نافذ ہیں ۔
مگر المیہ یہ ہے کہ قانون شکن لوگ ان تعلیمات کا مونہہ زبانی اقرار تو کرتے ہیں مگر ان کی بالقلب تصدیق کا ثبوت اپنے اعمال سے نہیں لاتے ۔ سوشل میڈیا کے فعال کارکن جا بجا اس مہینے کے حوالے سے مبارکباد کے پیغامات تو لکھ رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر وہ ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم پر نہیں چلیں گے تو اُن کے یہ عقیدت نامے رائیگاں چلے جائیں گے ۔
آسمان دیکھ رہا ہے کہ اس مہینے کی بے حرمتی کی جارہی ہے اور یہ وہ لوگ کر رہے ہیں جو محمد ﷺ کا نام لے کر اپنی انگلیاں ہونٹوں سے مس کر کے آنکھوں سے لگاتے ہیں اور بآوازِ بلند ﷺ کہتے ہیں مگر ۔۔۔
اس مہینے کی تعظیم نہیں کرتے ۔
تعظیم کیسے ہو گی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے ۔ بابا فضل شاہ نور والے فرمایا کرتے تھے کہ " صاحبو ! جان لو ، کوئی بھی قول سچّا ہوتا ہے نہ جھوٹا ، بلکہ وہ تو عمل کی گواہی سے سچا یا جھوٹا قرار پاتا ہے " ۔ چنانچہ کسی شخص کا مسلمان ہونے کا دعویٰ اُس وقت تک سچا قرار نہیں پا سکتا ، جب تک وہ عملاً صادق اور امین نہ بن جائے مگر یہاں تو اوپر سے نیچے تک لوگ طبقہ در طبقہ تعلیمات رسول ﷺ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔
تو آخر تعلیماتِ رسول کی حرمت کیسے کی جائے ؟ اس کے لیے ان باتوں پر دھیان سے عمل کی ضرورت ہے :
1۔ دہشت گرد اپنی قتل و غارت گری کو لگام دیں۔
2 ۔ سیاست دان جھوٹ بولنا بند کریں
3 ۔ کرپٹ اور رشوت خور دوزخی رشوت کے دوزخ سے باہر آ کر سانس لیں ۔
4 ۔ ملاوٹ کار لا اُمّتی ، ملاوٹ کرنا چھوڑ دیں ۔
5 ۔ فرقہ باز خطیب اپنے مواعظِ خبیثہ سے باز رہیں ۔
6 ۔ حکمران اپنے عوام کی جان و مال کے عدم تحفظ کی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں ۔
7 ۔ عدالتیں انصاف میں تاخیر کا جرم بند کریں ۔
8 ۔ بیڈ گورننس کی ہر مثال کا قلع قمع کیا جائے ۔
9۔ جو بچے سکول سے محروم ہیں وہ سکول بھجوائے جائیں ۔
10 ۔ میڈیا غلط خیالات کی ترویج اور تشہیر بند کرے ۔
اور اگر یہ سب کرتے رہنا ہے تو رسولِ کریم ﷺ کے نامِ اقدس کو اپنے غلیظ ہونٹوں سے آلودہ نہ کیا جائے ۔ یہ اس مقدس اور برگزیدہ ہستی کی توہین ہے جنہیں رحمتِ عالم کہا جاتا ہے ۔ مولوی جلال الدین رومی فرماتے ہیں:
شُد وجودش رحمت اللعالمین
مسجِدِ او شد ہمہ روئے زمیں
یہ ساری زمین رسول ﷺ کی مسجد ہے کیونکہ آُن کا وجود رحمت اللعالمین ہے ۔ اور رحمت اللعالمین کی مسجد میں بیٹھ کر کذب و ریا ، غیبت ، چغلی ، کرپشن ، ملاوٹ ، قتل و غارتگری اور بد انتظامی کی غلاظت پھیلانا کہاں جائز ہے ۔ کب روا ہے ؟
اب آخر میں اکابرین کے چند نعتیہ اشعار :
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہرو ماہ تماشائی
دیکھنا ، ساکنانِ خطہ ء خاک
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
(اسد اللہ خان غالب)
اے بادِ صبا ! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمت بے چاری کے ، دیں بھی گیا ، دنیا بھی گئی
(شیخ محمد اقبال)
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں جا
(عزّت بخاری)
محمد کا جہاں پر آستاں ہے
زمیں کا اُتنا ٹُکڑا آسماں ہے
(استاد مام دین گجراتی)
نسیما ! جانبِ بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کُن
(عبد الرحمان جامی)
اور اب میرا عقیدت نامہ:
جب کبھی ، عرش سے حکمت کے خزانے اُترے
یا نبی ! تیری رسالت کے بہانے اُترے
دے بصارت کے وہ شیشے کہ چھلک کر جن سے
نورِ عرفان ، مری بگڑی بنانے اُترے
دل کی اُجڑی ہوئی بستی سے صدا آتی ہے
کوئی ویران مکانوں کو بسانے اُترے
اُس نے جب صبر کی دولت سے نوازا مجھ کو
مجھ پہ محبوب کی فرقت کے زمانے اُترے
تیری صورت ، تیری شفقت ، تیری رحمت ، ترا حلم
قدر کی رات کئی خواب سہانے اُترے
بے نوا ہوں میرا کوئی بھی نہیں تیرے سوا
تیری چادر ہی مرے عیب چھپانے اُترے
آسماں سے میری اتنی سی گزارش ہے فقط
چاند جب اُترے تو میرے ہی سرہانے اُترے
ذکر اور فکر کی مستی میں قلم سے مسعود
حمد اور نعت کے پر کیف ترانے اُترے