لاہور کی ادبی ڈائری

  • جمعہ 10 / جنوری / 2014
  • 9635

گزشتہ ہفتے کی اہم ادبی تقریب ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف ‘‘ کی  مدیرہ صدیقہ بیگم کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے تھی۔ جس کا انعقاد مالک حسین مجروح نے کیاتھا ۔اس تقریب کی خوبی یہ تھی کہ سخت سردی کے باوجود اس میں حسین مجروح اور محترمہ صدیقہ بیگم کے چاہنے والے بہت بڑی تعداد میں موجود تھے اوراس تقریب کا حسن یہ تھاکہ تقریب کے شرکاء آغازسے لے کر اختتامِ تقریب تک موجود رہے ۔

اس موقع پر تقریب کے پہلے مرحلے پر میزبان حسین مجروح کے علاوہ صغرا صدف، ثروت محی الدین، شہناز ہمایوں ، سعید شیخ ، آئی اے رحمان، الطاف قریشی، محمد جمیل ، امجد اسلام امجد، ثمینہ رحمان، قاضی پیروز بخت،سیما پیروز، شفیق احمد خان ، شاہدہ دلاور شاہ، ڈاکٹر ضیاء الحسن ،پروفیسر حمیدہ جبیں اور دیگر نے صدیقہ بیگم کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر درنجف زیبی اور حسنین نے تحفے دیے جبکہ دوسرے مرحلہ پر قاضی جاوید، اسلام آبادسے بطورخاص آنے والی پروین قادر آغا، ثروت محی الدین ، الطاف قریشی، صغراصدف، بشریٰ وحید، ڈاکٹر کنول فیروز، محمد سعید شیخ، غافر شہزاد اور دیگر نے صدیقہ آپا کی شخصیت کے حوالے سے اظہارخیال کیا ۔

نیلم احمد بشیر نے ہال میں غبارے چھوڑ کر خوشگوار سماں بنادیا۔ قاضی جاوید نے صدیقہ بیگم کی زندگی کے ماہ وسال کے تناظر میں اس دور کا نقشہ کھینچا اور کہا کہ ان حالات میں جب پوری دنیا میں آزادی کی تحریکیں جنم لے رہی تھیں اورایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی صدیقہ بیگم نے ولولہ انگیز زندگی گزاری اور سماج کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردارادا کیا۔ صغراصدف نے پنجابی میں کہا کہ صدیقہ بیگم اندر اور باہر سے خوبصورت شخصیت کی مالک اور شگفتہ مزاج خاتون ہیں ۔ بشریٰ وحید کا کہنا تھاکہ میں نے پھول اس لیے پیش نہیں کیے کہ صدیقہ بیگم خود ایک خوشبو ہیں ہر ہر طرف پھیلی ہوئی ہے ۔

پروین قادر آغا نے بزبان انگریزی اپنے جذبات کااظہارکیا اور کہاکہ مجھے مدعو نہیں کیاگیا تھا لیکن میں صرف سن کر تقریب میں شرکت کے لیے اسلام آبادسے آگئی ہوں ۔ ثروت محی الدین نے پنجابی میں بات کی اور کہا کہ میں پچیس سال سے انہیں جانتی ہوں اور ان کے ساتھ خوشگوار یادیں وابستہ ہیں ۔الطاف قریشی نے صدیقہ بیگم کے ساتھ خوبصورت لہجے کے نستعلیق ادیب صلاح الدین احمد کو بھی یاد کیا اور صدیقہ بیگم کو کامیاب مدیرہ قراردیا کہ جو تسلسل کے ساتھ ادب لطیف شائع کرتی چلی آرہی ہیں ۔

ڈاکٹر کنول فیروز نے ’’ تخلیق ‘‘کی شریک مدیرہ کے طورپر صدیقہ بیگم کے ساتھ مرحوم دوست اظہرجاوید کا بھی زکر کیااور بڑے خوشگوار انداز میں کہاکہ خدا کرے صدیقہ بیگم کی سوویں سالگرہ منائی جائے اور مجھے بھی بات کرنے کاموقع ملے ۔افسانہ نگار محمد سعید شیخ نے کہاکہ اپنی پچھترویں سالگرہ پر صدیقہ بیگم فْل پینشن کی حقدار ہوگئی ہیں ۔ادب لطیف ان کے زندہ رہنے کا سہاراہے اسے جاری رہنا چاہئے ۔اور بھی دوستوں نے صدیقہ بیگم کے ساتھ اپنی محبت اورعقیدت کااظہارکیا ۔ بعد میں محفل موسیقی برپا کی گئی جس میں معروف فنکاروں کی طرف سے سازو آواز کے ساتھ فن کا مظاہرہ کیاگیا۔

اکادمی ادبیات پاکستان (لاہور) نے شاعرہ فرحت زاہد کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا ۔ جس کی صدارت شاعر، ڈرامہ نویس اور کالم نویس امجد اسلام امجد نے کی ۔ اس تقریب میں نجیب احمد ، ڈاکٹر ضیاء الحسن ، پروفیسر شفیق احمد خان، پروفیسر مسرت کلانچوی ، پروفیسر حمیدہ شاہین ، پروفیسر عباس تابش،ن نیلم احمد بشیر ، انجم قریشی ، ممتاز شفیع ، سرفراز سید ، ممتاز مصور اسلم کمال ، زاہد شمسی ، زاہد مسعود، پروفیسر حسن عسکری کاظمی سمیت دانشوروں ، شاعروں ، افسانہ نگاروں اور تنقید نگاروں نے شرکت کی ۔

نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ ندیم نے اد ا کیے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے امجد اسلام امجد نے کہا کہ فرحت زاہد کی شاعری میں موجود نسائیت ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔ وہ مجموعی طور پر عورت ذات کی بات کرتی ہیں اور ان کی شاعری کا بیشتر حصہ انہی نسائی مسائل کا احاطہ کرتی نظر آتی ہے۔ فرحت اپنی غزل میں اپنی ردیفوں کے ذریعے ایک خاص نظم کی فضا بناتی ہیں ۔ انہوں نے امریکہ میں برسوں گزارے اور وہاں کی معاشرت میں رچ بس جانے  کے باوجود اپنی دھرتی کی خوشبو سے خود کو جوڑے رکھا اور اسی بات نے ان کی شاعری کو زیادہ کومل بنایا ہے۔اکادمی کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر الطاف احمد قریشی نے کہا کہ فرحت کی شاعری خود کلامی نہیں بلکہ ایک مکالمہ کی صورت ہے جو وہ احساس کی سطح پر اپنے وجود اور دوسروں سے گفتگو کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کے استعارے عام فہم ہونے کے باوجود نئے معانی کو سامنے لاتے ہیں اور یہی فرحت کی شاعری کی خوبصورتی ہے ۔

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحسن نے کہا کہ فرحت زاہد نے اپنے تمام استعارے زندگی کے تجربات و مشاہدات سے وضع کئے ہیں جن میں ایک تجربہ ا ن کی تانیثی اور دوسرا ان کا انسانی و معاشرتی تجربہ ہے ۔ عباس تابش نے کہا کہ فرحت زاہدکی شاعری میں تازگی کا جو عنصر ملتا ہے ۔ اس نے ان کی شاعری میں نئی جہتوں کو آشکار کیا ہے ۔ شفیق احمد خان نے کہا کہ کسی بھی شاعر کو جاننے کے لیے اس کی معروضی صورت حال اہمیت رکھتی ہے ۔ فرحت زاہد نے جس خطے میں زندگی بسر کی ہے ، اس کا جغرافیہ ہمارے ہاں کے جغرافیے سے مختلف ہے ،اس لیے ان کی شاعری کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔

افسانہ نگار نیلم احمد بشیر نے کہا کہ فرحت زاہد کی شاعری میں نئے تخلیقی رجحانات ملتے ہیں۔ جو اس کی شاعری کی بنیاد وں کو مضبوط بناتے ہیں ۔ پروفیسر حمیدہ شاہین نے اپنے مضمون میں کہا کہ ادب میں اپنی زندگی جینے کے لیے اپنی بات میں اپنا رنگ ملانا بہت ضروری ہے ۔ اگر شاعر کا فطری رنگ کسی روایت کے ساتھ جڑا ہے تو اسے اپنی شناخت بنانے کے لیے اس روایت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ فرحت زاہد نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔

پروفیسر مسرت کلانچوی نے اپنے مضمون میں کہا کہ فرحت لفظوں اور جذبوں کی ہواؤں کے ساتھ محبتوں کی روشنیوں کے ہمراہ گھر گھر ، آنگن آنگن بکھر گئی ہے ۔ وہ کتاب نہیں ہمارے دلوں میں لکھی گئی ہے ہمارے گھر آنگن میں ہی بس رہی ہے۔ اس نے ہمارا ہر دکھ ، ہر درد ، ہر جذبہ چرا کر اپنی تحریروں میں چھپا لیا ہے ۔ وہ ہماری درد آشنا محسوس ہوتی ہے ۔ فرحت کی شاعری اس کے تجربات و احساسات ،امنگوں ، آرزوں ااور مسرتوں کا منظر نامہ ہے جس کے ہر رنگ میں خلوص اور سچائی کی مہکار محسوس ہوتی ہے ۔ اس نے اپنی ذات پر بیتے کرب کے کانٹوں کو اپنے ہی دل میں چبھویا ہے اور اپنے اردگرد کی فضا کو گلابوں کی طرح معطر رکھا ہے ۔ فرحت نے جذبہ و احساس کی پوری توانائی سے ان حقیقتوں کی عکاسی کی ہے جو معاشرے کے بدلتے رویوں اور زندگی کے زاویوں کو اشعار میں سمو دیتا ہے ۔

تقریب کے آخر میں فرحت زاہد نے اپنی شاعری سے انتخاب پیش کیااور داد سمیٹی ۔