قاضی حسین احمد کی چند یادیں
- سوموار 13 / جنوری / 2014
- 8152
یہ غالباً 1987ء کی بات ہے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات صفدر چودھری نے لاہور کے صحافیوں کو منصورہ میں اکٹھا کیا۔ جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے اعلان کیا کہ وہ اگلی مدت کے لیے امارت کے امیدوار نہیں ہوں گے اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کو اس سے آگاہ کر دیا ہے۔
ان سوالوں کے جواب میں کہ شوریٰ نے اس پر کیا فیصلہ کیا ہے۔ میاں طفیل محمد نے بات کو ٹال دیا۔ چنددنوں بعد ہی امیر جماعت کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ شوریٰ نے جن تین افراد کو امارت کے لیے موزوں جانا ان میں ایک نام قاضی حسین احمد کا بھی تھا۔ یہ تینوں نام شوریٰ نے ارکان کی آسانی کے لیے پیش کر دیئے تھے۔ تاہم ارکان ان کے علاوہ بھی کسی رکن جماعت کو ووٹ دینے میں آزاد تھے۔
مجھے اس زمانے میں جماعت اسلامی کے امور کو سمجھنے اور جاننے کا بلاوجہ کا زعم تھا چنانچہ میں نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے سیاسی ایڈیشن میں ایک مضمون لکھ دیا کہ روایت کے مطابق ارکان جماعت امارت کی ذمہ داری کسی نائب امیر کو منتقل کرتے ہیں اس لیے چودھری رحمت الٰہی یا پروفیسر خورشید احمد میں سے کوئی امیر جماعت اسلامی منتخب ہو گا۔ چونکہ مولانا مودودی کے ساتھ طویل عرصہ تک سیکرٹری جنرل رہنے والے چودھری رحمت الٰہی بھی مولانا مودودی کے بعد امیر جماعت منتخب نہیں ہو سکے تھے۔ اس لیے قاضی حسین احمد کے امیر جماعت منتخب ہونے کا امکان نہیں ہے۔ جب کہ میرے ایڈیٹر کا خیال تھا کہ قاضی صاحب بآسانی امیر جماعت منتخب ہو جائیں گے۔
چنانچہ اس نقطہ نظر کے تحت انہوں نے اسی روز مجھے قاضی صاحب کا انٹرویو کرنے کے لیے منصورہ بھیج دیا، جس روز میرا مضمون شائع ہوا تھا۔ میں منصورہ پہنچا نماز عصر کے بعد جامع مسجد منصورہ میں قاضی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ گرمجوشی سے ملے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا تو یہ گرمجوشی یک لخت تھوڑی کم ہو گئی۔ قاضی صاحب نے مجھ سے پوچھا آپ نے آج جو کچھ لکھا ہے کیا اس کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے۔ میں نے جوانی اور صحافت کے زعم میں جواب دیا کہ پہلے میرا خیال تھا کہ ہمارے لکھے کا ارکان جماعت پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن اب میری رائے ہے کہ شاید کچھ اثر ہوتا ہے۔
میرے اس ترش جواب کو قاضی صاحب پی گئے۔ ہاتھ پکڑ کر اپنے دو کمرے کے فلیٹ پر لے گئے۔ مجھے تفصیل سے انٹرویو دیا چائے اور موسمی پھلوں کے ساتھ تواضع کی اور گلے لگا کر رخصت کیا۔ یہ قاضی حسین احمد سے میرا پہلا باضابطہ اور تفصیلی رابطہ تھا۔
امیر جماعت منتخب ہونے کے بعد انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ منصورہ میں امیر جماعت کے لیے مخصوص رہائش گاہ میاں طفیل محمد ہی کے زیر استعمال رہنے دی اور خود منصورہ ہی میں دو کمرے کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ میاں طفیل کچھ عرصہ بعد اپنا گھر تعمیر کر کے اس میں منتقل ہو گئے۔ تب بھی قاضی حسین احمد اسی فلیٹ میں قیام پذیر رہے اور امیر جماعت کی رہائش گاہ کو دارالضیافہ میں تبدیل کر دیا۔ دوسرے انہوں نے جماعت اسلامی کے سارے دروازے اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کے لیے کھول دیے اور تمام وسائل مجاہدین افغانستان و کشمیر کے لیے وقف کر دیئے۔
قاضی صاحب جمعیت العلمائے اسلام کے راستے جماعت اسلامی میں آئے ان کے والد جمعیت العلمائے ہند کے اکابرین میں شامل تھے۔ انہوں نے قاضی صاحب کا نام مولانا حسین احمد مدنی کی مناسبت سے ہی حسین احمد رکھا تھا۔ قاضی حسین احمد نے تین چار سال کی عمر تک بولنا شروع نہیں کیا تھا جو والدین کے لیے باعث تشویش تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی صوبہ سرحد کے دورے پر آئے تو قاضی صاحب کے والد نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا۔ جس پر مولانا حسین احمد مدنی نے اپنا لعاب دہن قاضی صاحب کی زبان پر رکھا جس کے بعد قاضی صاحب نے ایسا بولنا شروع کیا کہ بڑے بڑے لوگوں کی زبانیں ان کے سامنے گنگ ہو گئیں۔
شاید مولانا حسین احمد مدنی کے لعاب دہن ہی کا اثر تھا کہ قاضی حسین احمد آخری دم تک جمعیت العلمائے اسلام کا دفاع کرتے رہے۔ موت سے چند ماہ قبل وہ لاہور پریس کلب تشریف لائے تو پریس کانفرنس کے بعد چائے پر چند صحافیوں کے ساتھ انہوں نے بے تکلفانہ گفتگو کی۔ ایک صحافی نے مولانا فضل الرحمان پر بعض سنگین الزامات لگائے تو قاضی صاحب نے ان کا بھر پور دفاع کیا اور شاید یہ بھی مولانا مدنی کے لعاب دہن ہی کا اثر تھا کہ قاضی صاحب کا آخری دم تک علماء خصوصاً علمائے دیوبند کے ساتھ محبت و اپنائیت کا رشتہ قائم رہا۔
تمام مکاتب فکر کے علماء اور دینی حلقے بھی انہیں یکساں احترام دیتے تھے۔ ملی یک جہتی کونسل کے ذریعے انہوں نے مختلف فرقوں کے درمیان نفرتوں کے خاتمے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کا آغاز کیا اور متحدہ مجلس عمل کے ذریعے دینی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک موثر قوت بنا دیا۔ چنانچہ جماعت اسلامی کی امارت سے فراغت کے بعد بھی انہیں ایک بار پھر ملی یک جہتی کونسل کا سربراہ بنا لیا گیا۔
قاضی صاحب اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوتے ہوئے جماعت اسلامی میں آئے اور چھا گئے۔ انہیں پہلی بار ملک گیر شہرت اس وقت ملی جب وہ امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد ہوتے ہوئے پشاور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ وہ جغرافیہ میں ایم ایس سی کرنے کے بعد کچھ عرصہ لیکچرر رہے اور پھر اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ وہ آخری دم تک اپنا کاروبار کرتے رہے اور کبھی جماعت کے کل وقتی کارکن نہ ہوئے وہ بے حد متحرک اور عوامی آدمی تھے۔ ایک بار ایک ترقی پسند نے کہا تھا کہ قاضی صاحب کے داڑھی نہ ہوتی تو وہ بھٹو کی طرح کے عوامی لیڈر ہوتے۔ جس پر قاضی صاحب کے ایک قریبی ساتھی نے بڑا خوبصورت جواب دیا تھا کہ قاضی صاحب کی ساری عوامیت، جرأت و بے باکی اور کارکنوں اور غریب عوام سے بے لوث محبت صرف اور صرف اسلام اور داڑھی کی برکات ہیں۔
قاضی صاحب نے امارت کا منصب سنبھالنے کے بعد جماعت اسلامی میں بعض ایسی پالیسیاں اختیار کیں جو جماعت کے حلقوں میں شدید تنقید کا باعث بنیں۔ انہوں نے مولانا مودودی کے اس تصور جہاد کے برعکس کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے۔ ریاست کے اعلان کے بغیر افغانستان اور کشمیر میں جہاد کو منظم کیا اور دنیا بھر میں جہادی تحریکوں کے پشتیبان بنے۔ اپنے سے پہلے امرائے جماعت کے برعکس انہوں نے جماعت اسلامی میں رکنیت کی شرائط کو کافی نرم کر دیا۔ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں رکن بنایا اور جماعت میں جہاں کہیں نامزدگی ہو سکتی تھی وہاں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ یا نوجوان افراد کو لگایا۔ چنانچہ ان کے قریب ترین لوگوں میں زیادہ تر اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے والے نوجوان اور متحرک لوگ شامل تھے۔
ان کے دورِ امارت میں جماعت کے بزرگ ارکان کسی حد تک کارنر رہے ۔ جب کہ جماعتی سیٹ اپ کے اندر قاضی صاحب کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ چودھری غلام جیلانی کو امیر جماعت کے عہدے سے ہٹانے تک تو خاموشی رہی لیکن جب قاضی صاحب نے ترجمان القرآن کے ایڈیٹر نعیم صدیقی کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کیا تو اس پر نہ صرف نعیم صدیقی نے مزاحمت کی بلکہ جماعت کے اندر بھی اس اقدام کے خلاف آواز اٹھی۔اس میں سب سے توانا آواز میاں طفیل محمد کی تھی جب کہ مدیر تکبیر جناب صلاح الدین اس مسئلے کو اپنے جریدے کے ذریعے پبلک میں لے آئے تھے۔
اس معاملے پر ایک بار راقم نے میاں طفیل محمد سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے سخت جھنجھلاہٹ کے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے لہجے سے ان کا اختلاف صاف ظاہر تھا۔ جماعت کے دوسرے بہت سے افراد کو بھی قاضی صاحب کی پالیسیوں اور طرز امارت پر تحفظات تھے۔ لیکن وہ جماعتی نظم یا اپنی دیرینہ وابستگی کی وجہ سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک بزرگ نے راقم سے کہا تھا کہ اختلافات اور تحفظات کے باوجود وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کا جنازے اور لوگ (جماعت اسلامی سے باہر کے لوگ) اٹھائیں۔
جماعت کے بعض بزرگوں کو یہ بھی شکایت تھی کہ قاضی صاحب نے دین پر سیاست کو حاوی کر دیا ہے۔ ان کی زیادہ توجہ سیاست پر ہے جس کی وجہ سے جماعت کا تنظیمی اور فکری کام متاثر ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس طرح کے اختلافات کے باعث نعیم صدیقی اور بعض دوسرے ارکان نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کی اور تحریک اسلامی کے نام سے ایک الگ جماعت قائم کر لی۔ لیکن یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ اختلاف کرنے والوں میں سے بیشتر کے جنازے خود قاضی صاحب نے پڑھائے۔ چودھری غلام جیلانی، نعیم صدیقی اور شاید میاں طفیل محمد کا جنازہ بھی انہوں نے ہی پڑھایا۔ میاں طفیل محمد کے جنازے کے موقع پر تو قاضی صاحب خاصے جذباتی بھی دکھائی دیئے۔
جماعت اسلامی کے مخلص دیرینہ کارکنوں اور جماعت کے ہمدردوں کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے دوران چونکہ قاضی صاحب ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے یہ رابطے بعد میں تنظیمی اور سیاسی معاملات میں بھی جماعت پر اثر انداز ہوئے۔ معترضین پاسبان اور پاکستان اسلامک فرنٹ کو ان ہی رابطوں کا شاخسانہ قرار دیتے تھے۔ چنانچہ کونسل آف نیشنل افیئرز کی ایک نشست میں جہاں قاضی صاحب خصوصی دعوت پر تشریف لائے تھے اور خاصی کھل کر گفتگو کی تھی۔ وہاں راقم کے اس سوال پر کہ اس الزام میں کس قدر صداقت ہے کہ خفیہ ایجنسیاں دینی جماعتوں اور دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ قاضی صاحب نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ انہوں نے بطور امیر جماعت کبھی ایجنسیوں سے ڈکٹیشن نہیں لی۔
ایوان اقبال میں ہونے والی اس نشست میں قاضی صاحب نے علامہ اقبال کے اردو اور فارسی اشعار پڑھنا شروع کئے تو شرکاء کو پہلی بار معلوم ہؤا کہ وہ اقبالیات کے کتنے بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران اقبال کے فارسی اور اردو اشعار کا اتنا خوبصورت اور برجستہ استعمال کیا کہ بیشتر حاضرین حیرت زدہ رہ گئے۔ چنانچہ نوابزادہ نصر اللہ کے بعد قاضی حسین احمد کے انتقال سے جہاں ملکی سیاست فارسی جاننے اور فارسی اشعار کا برجستہ استعمال کرنے والے سیاستدانوں سے کلی طور پر محروم ہوئی وہیں سیاست کی گرد آلودہ راہوں سے اقبالیات کا ایک عالم بھی راہی ملک عدم ہو گیا۔
مجھے نہیں معلوم کے جماعت اسلامی کو ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش جماعت کی اساسی روح کے منافی تھی یا عصری حالات کا تقاضا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قاضی صاحب کی امارت کے دور میں جماعت نہ صرف عوامی سطح پر زیادہ مقبول ہوئی بلکہ ملکی سیاست اور قومی پریس میں اس کی اہمیت میں بھی اضافہ ہؤا۔ اسی ریاضت کے دوران قاضی حسین احمد ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کو اقتدار کے ایوانوں تک لے آئے۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی جماعتی روایت کو بھی توڑا۔ وہ پہلے سینٹ میں پہنچے اور پھر ایک آدھی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی کے ایوانوں میں ان کی توانا آواز گونجنے لگی۔ حالانکہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد اور سید منور حسن نے امیر جماعت اسلامی ہوتے ہوئے خود کبھی عام انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہیں لیا۔
قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کی دعوت پھیلانے کے لیے تمام جدید حربوں کو استعمال کرنے کے حامی تھے چنانچہ پاسبان اور پاکستان اسلامک فرنٹ کے دور میں انہوں نے جدید ترین آڈیو ویڈیو مشینری بلند آہنگ ترانوں اور مہنگی اشتہاری مہم تک سب کچھ آزمایا اور اس کے لیے جماعت کے اندر اور باہر سے بہت سی تنقید بھی برداشت کی۔
مولانا مودودی کی علمی وجاہت اور شخصی وقار کے باعث لوگ ان کے ساتھ بے تکلف ہونے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ میاں طفیل محمد کسی کو بے تکلف ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن قاضی صاحب آگے بڑھ کر لوگوں سے بے تکلفی پیدا کرنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ وہ اپنے واقف کاروں کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر مصافحہ کرتے۔ نیم واقفوں سے آگے بڑھ کر گلے ملتے اور ناواقفوں کو مسکراتے اور ہاتھ لہراتے ہوئے اس طرح خوش آمدید کہتے کہ لیڈر اور کارکن کے درمیان کے سارے فاصلے مٹ جاتے۔
وہ ہر دم کارکنوں کے درمیان رہتے۔ مخالف سیاستدانوں کے لیے ان کے دروازے کھلے ہوتے اور صحافیوں کو 24 گھنٹے میسر تھے۔ وہ لوگوں کی خوشی غمی میں آگے بڑھ کر خود شریک ہوتے۔ میرے والد اور والدہ کے انتقال پر ان کے تعزیتی خطوط ہمارے غمزدہ خاندان کے لیے ڈھارس کا باعث بنے۔ میری چھوٹی بہن کا انتقال ہؤا تو قاضی حسین احمد طویل سفر کے بعد کچھ دیر پہلے ہی منصورہ پہنچے تھے۔ انہوں نے سفر کی تھکان کے باوجود خود نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم تینوں بھائیوں اور مرحومہ کے بیٹے کو گلے لگا کر دیر تک ودلاسا دیتے رہے۔ نماز جنازہ سے قبل مختصر خطاب کیا۔ اور نماز جنازہ کے بعد خود میت کو کندھا دے کر روانہ کیا۔ 2002ء میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا صدر منتخب ہؤا تو قاضی صاحب نے پی یو جے کے نو منتخب عہدیداروں کو منصورہ میں کھانے پر مدعو کیا اور بے تکلفی کے ساتھ کھل کر باتیں کیں۔
1993ء میں قاضی حسین احمد نے بعض جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ مل کر پاکستان اسلامک فرنٹ بنایا اور وہ نعرہ دیا جسے آج عمران خان لیے پھر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں عوام کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں۔ انہوں نے اقتدار کی باریاں لگا رکھی ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے قاضی صاحب نے ملک بھر کے طوفانی دورے کئے اور اپنا پیغام لے کر ملک کے کونے کونے میں پہنچے۔ ان ہی دنوں ’’ظالمو قاضی آ رہا ہے‘‘ کا نعرہ بہت مقبول ہؤا۔
قاضی صاحب مختلف علاقوں میں ہونے والے مظالم کے خلاف خود میدان میں اترے۔ لاہور میں کرباٹھ کا واقعہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مشہور ہؤا۔ لاہور کے نواحی گاؤں بسین میں ایک طاقت ور زمیندار اور سیاسی شخص نے گاؤں کے ایک غریب خاندان کو اپنے جبر سے گاؤں برد کر دیا تھا۔ قاضی صاحب اس خاندان کے افراد کو ان کے گھروں میں آباد کرنے کے لیے خود وہاں پہنچے۔ میڈیا بھی ساتھ تھا۔ قاضی صاحب نے پہلے باٹا پور میں جلسہ کیا اور پھر گاؤں جانے کا اعلان کر دیا۔ انتظامیہ اور پولس نے روکا تو وہاں پولیس کے ساتھ جماعت کے کارکنوں کی جھڑپ ہو گئی۔
پولیس نے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی لیکن قاضی صاحب ڈٹ گئے کہ وہ مظلوم خاندان کو اس کے گھر چھوڑ کر آئیں گے۔ اس وقت کے لاہو کے ڈپٹی کمشنر کامران لاشاری اور ایس ایس پی تنویر احمد نے صرف نجی گاڑیوں کو گاؤں جانے کی اجازت دی۔ چنانچہ ایک گاڑی میں قاضی حسین احمد دوسری میں مظلوم خاندان اور تیسری میں مجھ سمیت میڈیا کے لوگ سوار تھے۔
رات کے اندھیرے میں یہ قافلہ گاؤں پہنچا تو فضا انتہائی کشیدہ تھی۔ بھارتی سرحد سے ملحقہ اس گاؤں میں خوف و ہراس کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ پاسبان کے جذباتی نوجوان اور جماعت اسلامی کے کارکن ظالم زمیندار کے گھر کے سامنے سے گزر کر جانا چاہتے تھے جس کی انتظامیہ نے اجازت نہ دی۔ چنانچہ اس پورے قافلے کو انتظامیہ نے گاؤں کے چوک میں گھیرا ڈال کر روک لیا اس قافلے نے ساری رات اسی چوک میں گزاری۔ قاضی صاحب بھی کارکنوں کے ساتھ تھے۔ صبح فجر کے وقت پولیس نے آپریشن کر کے صحافیوں سمیت تمام افراد کو گرفتار کر لیا۔ صحافیوں کو تو گاؤں کی مین سڑک پر لا کر چھوڑ دیا مگر قاضی صاحب اور ان کے ساتھیوں، لیاقت بلوچ، امیر العظیم عبدالغفار عزیز اور دیگر کو تھانہ سول لائنز لے جا کر رہا کیا۔
بھارتی وزیر اعظم واجپائی کی پاکستان آمد کے موقع پر جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تو قاضی صاحب نے خود ان مظاہروں کی قیادت کی۔ اگلے روز لٹن روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کے احتجاجی جلسے پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ قاضی صاحب کارکنوں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے باعث وہ بے ہوش ہوگئے مگر کارکنوں سے علیحدہ ہونے سے انکار کر دیا اور شدید زخمی حالت میں کارکنوں کے ساتھ ہی گرفتاری دی۔
نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے مرکزی سالانہ اجتماع کے موقع پر پہلی ہی رات شدید آندھی اور طوفان آیا کہ ٹینٹ اکھڑ گئے۔ ساتھ ہی شدید بارش نے افراتفری پیدا کر دی۔ تیز ہواؤں اور بارش کے باعث شدید سردی ہو گئی۔ اجتماع میں ہزاروں کارکنوں کے علاوہ ضعیف افراد خواتین اور بچوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی۔ قاضی صاحب اپنے خیمہ سے باہر نکلے اور ساتھیوں کے ساتھ شدید بارش میں ایک ایک ٹینٹ تک پہنچے۔ کارکنوں کو حوصلہ دیا اور ہر ٹینٹ پر ایسی رقت آمیز دعا کرائی جو لوگوں کو آج بھی یاد ہے۔ چنانچہ کارکن مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ طوفان تھما تو ہر چیز نارمل تھی۔ اور اجتماع کی ساری کارروائی پروگرام کے مطابق مکمل ہوئی۔
پاکستان اسلامک فرنٹ (پی آئی ایف) کو انتخابات میں قاضی صاحب کی بے پناہ محنت کے باوجود بری طرح ناکامی ہوئی تو قاضی صاحب نے ارکان جماعت کو ایک خط لکھا کہ وہ اپنی قیادت کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں اور ان کا فیصلہ انہیں (قاضی صاحب کو) قبول ہو گا۔ یہ ایک طرح سے استعفیٰ کی پیش کش تھی تاہم قانونی و اصطلاحی معنوں میں استعفیٰ نہیں تھا۔
یہ خط میرے ہتھے چڑھ گیا میں نے فوری طور پر اپنے اخبار کو یہ خبر دیدی جس نے اسے صفحہ اول پر میرے نام کے ساتھ شائع کر دیا۔ چونکہ جماعت کے اندر انتخابی شکست کے بعد ایک اشتعال تھا اس لیے جماعت کے حلقوں نے اس کا خاصا برا منایا۔ جناب صفدر چودھری نے جو مجھ سے ہمیشہ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں اس پر اپنے غصے کا اظہار بھی کیا۔ لیکن قاضی صاحب نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔ وہ کچھ دنوں کے لیے گوشہ نشین ہو گئے لیکن جماعت کی شوریٰ نے انہیں اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ جس پر قاضی صاحب نے ایک بار پھر پوری مستعدی کے ساتھ امارت کی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں۔
قاضی صاحب نے اسی انداز میں سینٹ اور قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دیا۔ وہ دوبارہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے دوسری ٹرم میں چند ماہ باقی تھے کہ انہوں نے نعرہ لگا دیا کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں پارلیمنٹ کے اندر بھی چور، ڈاکو، رسہ گیر اور ٹیکس چور بیٹھے ہیں۔ ان سے عوام کے لیے کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے وہ اس ایوان کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔ ان کے استعفی پر خاصی تنقید بھی ہوئی کہ وہ تقریباً 7 سال تک جس ایوان کا حصہ رہے مدت ختم ہونے کے قریب اسے یہ القابات دے رہے ہیں۔
2002 ء میں وہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیاب ہوئے نوشہرہ سے انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر کو شکست دی تھی۔ قومی اسمبلی کی رکنیت کے دوران وہ عوامی سیاسی حقوق کے لیے پوری قوت کے ساتھ گرجتے برستے رہے۔ جب کہ معاملات کے حل کے لیے دانشمندی اور مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ ان کی کوششوں سے دینی جماعتوں کا جو اتحاد ایم ایم اے کے نام سے بنا تھا اس نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں بنائیں۔ مرکز میں جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
ان کی کوششوں کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمان لیڈر آف دی اپوزیشن بنے اور ان کے دباؤ کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف وردی اتارنے کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو ئے۔ لیکن بدقسمتی سے پرویز مشرف نے اس معاہدے کا پاس نہیں کیا۔ جس کے بعد قاضی صاحب نے جنرل پرویز مشرف کے ہر غیر جمہوری اقدام کے خلاف بھر پور آواز بلند کی۔ وکلاء تحریک میں وہ سر گرم رہے اور لال مسجد آپریشن اور جامعہ حفصہ کی سینکڑوں معصوم طالبات کی ہلاکت کے بعد انہوں نے احتجاجاً قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا۔
جماعت اسلامی کی امارت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ تو منظر سے دور رہے لیکن چونکہ وہ نچلے بیٹھنے والے نہیں تھے اس لیے ضعیف العمری اور دل کے عارصہ کے باوجود پھر متحرک ہو گئے۔ ایک جانب انہوں نے ملی یک جہتی کونسل کو پھر فعال کر دیا کہ دینی جماعتوں کا اتحاد ان کا دیرینہ خواب تھا اور دوسری جانب ادارہ فکر و عمل کے نام سے مختلف الخیال رہنماؤں اور دانشوروں کا ایک تھینک ٹینک قائم کر دیا۔
وہ اس پلیٹ فارم سے بہت فکر انگیز نشستوں کا اہتمام کرتے ان تقریبات میں وہ چھڑی کے سہارے چل کر آتے لیکن تمام زندگی اللہ کے سہارے پر چلنے والے اس مرد درویش کو چھڑی کا سہارا پسند نہیں تھا۔ چنانچہ 6 جنوری 2013ء کی رات انہوں نے اس عارضی سہارے کو بھی چھوڑ دیا اور اس خالق کی جانب روانہ ہو گئے جس کی کبریائی کا جھنڈا گاڑھنے کے لیے وہ زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے تھے۔
ان کی موت کے بعد سیاسی و عوامی رہنماؤں اور دانشوروں نے انہیں جس انداز میں خراج عقیدت پیش کیا وہ اللہ کے حضور ایک گواہی ہے جو یقیناًروز قیامت ان کے توشۂ آخرت میں ایک چھوٹا سا اضافہ ثابت ہو گی۔