شارجہ میں ایک اور تاریخی فتح

  • سوموار 20 / جنوری / 2014
  • 4594

پاکستان کرکٹ ٹیم نے چار روز تک انڈر پریشر رہ کر کرکٹ کھیلی تاہم پانچواں دن ایک کرشمہ لئے طلوع ہؤا اور بظاہر ڈرا کی جانب سے گامزن میچ پاکستان نے جیت کر تاریخ رقم کر دی اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ بلاشبہ شارجہ ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف حاصل ہونے والی فتح پاکستان کیلئے بیحد اہم ہونے کے ساتھ تاریخی بھی ہے۔ اس میچ میں حاصل کیا گیا ہدف پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا بڑا ہدف تھا۔

شارجہ ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے پانچ وکٹوں سے اپنے نام کیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو میچ جیتنے کے لئے 59 اوورز میں 302 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے صرف 9 گیندیں قبل حاصل کر لیا۔ ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کرنے والے اظہر علی نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرتے ہوئے 103 رنز کی فتح گر اننگز کھیلی۔ یہ ان کی پانچویں ٹیسٹ سنچری تھی۔ کپتان مصباح الحق 68 رنز بنا کر ناٹ آﺅٹ رہے اور خود پر تنقید کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا۔ کسی بھی کھلاڑی کی کارکردگی ہی نقادوں کیلئے بہترین جواب ہوتی ہے۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد نے بھی اس اہم جیت میں بھرپور طریقے سے کردار ادا کیا اور 48 رنز کی اچھی اور بروقت باری کھیلی۔ کپتان مصباح نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے بیٹنگ آرڈر میں اوپر بھیجا اور وہ صورتحال کے مطابق نتائج دینے میں کامیاب رہے جو پاکستان کرکٹ کیلئے بھی ایک اچھا سائن ہے۔

میچ اور سیریز بچانے کے لئے سری لنکا کی جانب سے محتاط اور منفی حکمت عملی اپنائی جو ایسے مواقع پر ہر ٹیم اپناتی ہے۔ تاہم پاکستانی بیٹسمینوں نے میچ جیتنے کیلئے ہرممکن کوشش کی اور خطرات اٹھاتے ہوئے رنز کی رفتار کو کسی بھی موقع پر گرنے نہیں دیا جو کہ اس تاریخی کامیابی کیلئے بے حد ضروری تھا۔ سری لنکن کپتان میتھیوز نے بیٹسمینوں کا مثبت رویہ دیکھتے ہوئے شروع میں ہی اپنے فیلڈرز میدان میں پھیلا دئیے اور بالرز کو لیگ اسٹمپ پر اور محتاط بولنگ کرنے کیلئے کہا تاہم یہ حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

اگر سری لنکن کپتان میچ بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے پاکستان کی طرح میچ جیتنے کیلئے بولنگ کرتے تو نتیجہ مختلف بھی ہو سکتا تھا کیونکہ سری لنکن ٹیم ایسا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ تاہم میتھیوز کی منفی حکمت عملی کے باعث میچ ان کی گرفت سے نکل کر پاکستان کی جھولی میں آ گرا ۔ مگر اس جیت کیلئے پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال بھی کیا۔

تیسرے ٹیسٹ کیلئے ٹیم میں جگہ پانے والے فاسٹ بولر محمد طلحہ اور لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمن نے میچ میں متاثر کن بولنگ کی۔ طلحہ نے اچھی رفتار سے اور لائن اور لینگتھ پر بولنگ کی اور اچھا تاثر چھوڑا۔ پاکستان کے جادوگر اسپنر سعید اجمل کے لئے یہ سیریز کچھ زیادہ خوشیاں نہ لا سکی اور وہ پوری سیریز میں صرف 10 وکٹیں ہی لے سکے ۔ تاہم سعید اجمل کسی بھی وقت کم بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت کے حامل بولر ہیں اور ایک میچ یا سیریز میں خراب کارکردگی پر ان پر تنقید کرنا درست نہیں ہو گا۔ جنید خان نے بھی سیریز میں اچھی بولنگ کی۔ عمر گل اور محمد عرفان کی غیر موجودگی میں جنید خان کے ساتھ طلحہ کا کمبی نیشن اچھا رہا اور دونوں کھلاڑیوں نے سری لنکن ٹیم کو ٹف ٹائم دیا۔ اوپنراحمد شہزاد دن بدن اپنی کارکردگی میں نکھار لا رہے ہیں جس سے امید پیدا ہو چلی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے اوپنرز کا مسلسل درد سر بننے والا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

شارجہ ٹیسٹ جیتنے اور سیریز برابرکرنے کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق نے کہا کہ شارجہ میں 302رنز کا ہدف حاصل کرنا ان کی کپتانی کا بہترین لمحہ ہے ۔ لمبے عرصے بعد قومی ٹیم نے شاندار کامیابی حاصل کی جس کی اسے اشد ضرورت تھی ۔ ہم چاہتے تھے کہ ڈیو واٹمور کو جیت سے رخصت کریں اور اس میں ہم کامیاب رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیو واٹمور کی کوچنگ پوری ٹیم کو ہمیشہ یاد آئے گی اور ہم انہیں بہت مس کریں گے ۔

دوسری طرف سری لنکن ٹیم کے کپتان اور مین آف دی سیریز اینجلو میتھیوز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم دوسری اننگز میں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی جو پہلی اننگز میں دکھائی تھی ۔ شارجہ میں ہار کے ذمہ دار سری لنکن سپنرز نہیں تا ہم بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں معیاری کھیل پیش نہیں کیا ۔ دونوں کپتانوں کی بات چیت اپنی جگہ مگر پاکستان نے شاندار کرکٹ کھیلی اور بہترین جیت حاصل کی۔

پاکستانی ان دنوں بدترین دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی یہ جیت خوشیوں کو ترستی اس قوم کے لئے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں کبھی بھی تسلسل نہیں رہا اور اس کے حوالے سے بڑے بڑے جغادری بھی کوئی پیش گوئی نہیں کرتے۔ لیکن اس جیت نے پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بلند کر دیا ہے جو آنے والے دنوں میں خاص طور پر بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے بے حد فائدہ مند ہو گا۔

اگر پاکستانی کھلاڑی اپنی کارکردگی میں تسلسل لائیں اور مستقل مزاجی سے جیت کیلئے اپنی بہترین کاوشیں بروئے کار لائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیم نہ بن سکے۔ مگر اس مقام تک پہنچنے کیلئے ہر کھلاڑی کو اپنے لئے نہیں بلکہ ملک کیلئے کھیلنا ہو گا۔