نا پسندیدہ عناصر

  • منگل 21 / جنوری / 2014
  • 4992
 جب کبھی میں پاکستان کے سیاسی ، معاشی و معاشرتی حالات کے بارے میں لکھتا ہوں تو بہت سے سکہ بند ، سربمہر دانا ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم غیر ملکی ہو ، ہمارے پھٹّے میں کیوں ٹانگ اڑاتے ہو ؟ ہم جی رہے ہیں یا مر رہے ہیں ، اِس سے تمہیں کیا ؟

بعض خواتیں تو بالکل کھرے ازدواجی لہجے میں جھڑک دیتی ہیں اور میرے قلم کے مونہہ پر ٹیپ لگانے کی بےرحمانہ خواہش کا اظہار کرتی ہیں ۔ اُن کی خدمت میں کچھ عرض کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میں ذات کا پنجا۔بی ہوں ۔ کنارِ چناب کا جانگلی ۔ چنھاوڑ ۔ میری جڑیں اُسی مِٹّی میں ہیں جو پاکستان کا نصیب بنی ۔ میری ذات کا شجر میرے جیسے قسمت کے ماروں کی طرح اپنی جڑوں سے تو منقطع نہیں ہوا ، وہ جوں کا توں اور وہیں کا وہیں ہے ، مگر میری ذات کے شجر کی جڑیں پانچوں بر اعظمیوں میں پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ یہ زمیں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے ۔ اور فی الوقت میری شاخِ حیات پر صلیب کا نشان بنا ہوا ہے جبکہ میرے تنے پر ہلال کا نقش کھدا ہے ، بالکل ویسے ہی جیسے جیسے قرآن میں سورہ ء مریم ۔۔ میں اکیلا کب ہوں ۔ اسی ناروے میں اختر چودھری ہیں ، انیس احمد ہیں ، عطا انصاری ہیں اور سید مجاہد علی ہیں ۔ ان سب کے پاس قلم بھی ہے اور بصیرت بھی ۔ گنوانے لگوں تو ان گنت نام ہیں ۔ وہ پاکستانی نژاد بھی ہیں جو نارویجین میں لکھتے ہیں ۔ خالد حسین سے لے کر ماہ رُخ سید تک ایک لمبی فہرست ہے ۔

جب ان سارے لکھنے والوں کی جڑیں پاکستان کی مٹّی میں ہیں تو اُن پر یہ پابندی کیوں کہ اپنے آبائی وطن کے بھلے کی نہ سوچیں ۔ ہم نہ تو پاکستان کے حکمران طبقوں اور اداروں کے لے پالک ہیں اور نہ ایجنسیوں کے طرف دار ۔ ہم تو صرف اور صرف پاکستان کے بہی خواہ ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ میں لوئیر مڈل کلاس کا ایک بگڑا ہؤا بچہ ہوں ۔ میری ذہنی عمر بیس سال سے زیادہ نہیں ۔ اب بھی راتوں کو لاہور کے لکشمی چوک میں کھڑا بابا ظہیر کاشمیری کے پروچن سنتا رہتا ہوں ۔ مگر میں حکمرانوں کے دستر خوانوں کے اُن ریزہ چینوں جیسا ہر گز نہیں ہوں جو اپنی تحریروں میں تو محبّت کی غزل الغزلات مرتب کرتے ہیں مگر اپنی ذاتی زندگی میں دُم ہلانے والوں کی صف میں کھڑے ، پاکستان کے عام آدمی کی اس طرح خاک اُڑاتے ہیں ، جیسے وہی پاکستان کے ملجا و ماویٰ ہوں ۔

اس وقت پاکستان وفاقی سطح پر نون لیگ کی جاگیر ہے ۔ نون لیگ کو اصولی طور غریب نواز لیگ ہونا چاہیئے ، نکمی ، نا ہنجار ، نالائق اور نان سینس لیگ نہیں ، کیونکہ حکومتوں کی نالائقی قابلِ دست اندازئ آسمان ہوتی ہے اور اس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ خدائی احتساب کو دعوت دیتا رہتا ہے ۔میڈیا اور حزبِ اختلاف کے سیاستدان بتاتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کے پاس قومی اسمبلی میں آ کر درشن دینے کا وقت ہی نہیں ہے ۔

سیاست کا مچھلی بازار جگت بازوں کا تھیٹر دکھائی پڑتا ہے ۔ میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ اگر یہ سیاسی مغبچے سچ مُچ پاکستان کے خیر خواہ ہیں تو با شعور لوگوں کی طرح مل بیٹھ کر ، سر جوڑ کر ، قائد اعظم کے اصولِ اتحاد کے تحت ملک کو بچانے ، سنبھالنے اور اس کی بیماریاں دور کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیوں نہیں کرتے ۔
کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کا پاکستان ، نا پاکستانیوں نے اغوا کرلیا ہوا ہے اور پاکستان ان نا پاکستانیوں کی شیطانیوں سے زار و زبوں ہے ۔

مجھے تعجب ہوتا ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے قصیدے پڑھنے والے سرکاری دانشور کس شک و شبے کا نوالہ کھا رہے ہیں کہ اُنہیں اس صورتِ حال کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں ۔
پاکستانیت کے جو تین اسول جو قائد اعظم نے وضع کیے سب کو از بر ہیں لیکن اُن پر عملی تصرف کسی کو نہیں ۔ مرحوم قائد نے ہمیں کیا سکھایا تھا :
۱۔ اتحاد
۲۔ تنظیم
۳۔ یقینِ محکم

کسی قوم کے اتحاد کی ضمانت سیاسی جماعتیں اور قائدین ہوتے ہیں ۔ مگر پاکستان کا سیاسی منظر نامہ یہ ہے کہ سیاسی قائدین جوتیوں میں دال بانٹتے ہیں اور اُن کی سیاسی جماعتیں مافیا گروہوں کے طرز پر ایک دوسری کے خلاف گینگ وار میں الجھی ہوئی ہیں ۔

تنظیم کا نیا نام گُڈ گورننس رکھا گیا ہے مگر نام کی تبدیلی کا اثر یہ پڑا ہے کہ لوگ تنظیم کا سبق ہی بھول گئے ہیں ۔ تنظیم ، نظم و ضبط کے نفاذ اور پابندی کا عمل ہے لیکن اس مملکتِ خُداداد کو مملکتِ امریکہ داد میں بدل کر ہر قسم کے نظم و ضبط کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ۔ اور نظم و ضبط کا نگران ادارہ جو عدلیہ کہلاتا ہے ، اتنا کمزور ہے کہ وہ سزائوں پر عمل درامد نہیں کروا سکتا جس کی ایک مثال ممتاز قادری ہے ، جس کی رہائی کے لیے مذہبی جنونی میدان میں اُترے ہوئے ہیں اور عدل کی اندھی ملکہ ان مذہبی کے خوف میں مبتلا ہو کر اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اُس کی سنائی ہوئی سزا ، سزا ہی نہیں اور جہاں انصاف نہ ہو ، وہاں دوزخ کی آگ ہوتی ہے جو قوموں کے وقار کو مسمار کر دیتی ہے ۔

یقینِ محکم کی تعریف مذہبی حوالے سے کی جائے تو لگتا ہے لوگ اس برکت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ خُدا تو دور کی بات ہے لوگوں کو ایک دوسرے پر یقین نہیں رہا ۔ اور جب یقین ہی نہ ہو تو اس کے محکم ہونے کا کیا مذکور ۔

چنانچہ پاکستانیت کے ان تینوں اصولوں کی عدم موجودگی میں پاکستان اپنے اساسی فکری ورثے سے محروم ہو چکا ہے ۔ اور جب بھی پاکستان کی بقا کا سوال آتا ہے ، تو سقوطِ ڈھاکہ اپنے تمام تر مضمرات کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور کہہ رہا ہوتا ہے کہ تم نے جس نوعییت کا اسلام نافذ کر رکھا ہے ، وہ کوئی ایسا اتحادی عامل ثابت نہیں ہؤا جو بنگالی اور مغربی پاکستانی مسلمانوں کو بھائی چارے کی لڑی میں مضبوطی سے جوڑ کر رکھ سکتا ۔

لہٰذا ، اس وقت جو ہو رہا ہے ، اُس پر نہ تو علماء کا کنٹرول ہے ، نہ فوج کا اور نہ ہی سیاستدانوں کا اور میڈیا بے چارہ بیچتا ہی کیا ہے ۔