نواز لیگ سے مایوسی

  • بدھ 22 / جنوری / 2014
  • 4168

پنجاب میں سیاسی بے چینی اور تذبذب میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ تذبذب آہستہ آہستہ مایوسی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ وفاق اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی کارکردگی اس کی بڑی وجہ ہے۔

 اب لوگ انتخابی فضا سے نکل آئے ہیں۔ حکمران مسلم لیگ (ن) نے عوام سے جو وعدے کیے تھے لوگ اب ان وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور سردست انہیں اس کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

یہ مایوسی عوام سے زیادہ مسلم لیگی کارکنوں میں دکھائی دے رہی ہے۔ جو 1999ء میں جنر ل پرویز مشرف کی جانب سے نواز حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد مسلسل جدوجہد کر رہے تھے اور قربانیاں دے رہے تھے۔2008ء میں اگرچہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی لیکن اس وقت کارکنوں سے کہا گیا کہ یہ وقت کارکردگی دکھانے کا ہے۔ مرکز میں ہماری حکومت بن جائے پھر کارکنوں کے وارے نیارے ہوں گے۔ چنانچہ سادہ لوح کارکن شریف فیملی کو جتوانے میں لگ گئے ہیں۔ یہ بے چارے کارکن پندرہ سال سے مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں اور اچھے مستقبل کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لیکن اب ان کی امیدیں ٹوٹ رہی ہیں اور اچھے مستقبل کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔

نہ ان کے لیے روزگار ہے، نہ مالی امداد۔  حکومت میں کوئی جگہ ہے نہ پارٹی میں کوئی مقام۔ حکمرانوں نے انہیں صرف نعرے لگانے اور اپنے جلسوں کی رونقیں بڑھانے کے لیے رکھا ہؤا ہے۔ لیکن اب انہیں بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ حکمرانوں نے انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے ان کارکنوں کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ وفاقی وزیر ان سے ملنے اور ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ صوبائی وزراء ملاقات تو کر لیتے ہیں لیکن ان کا کوئی اختیار نہیں۔ اور کھل کر انہیں بتا دیتے ہیں کہ وہ صرف ان کا دکھ سن سکتے ہیں۔ مسائل کا حل صرف شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے پاس ہے۔ اور شہباز شریف کا عالم یہ ہے کہ انہیں ارکان اسمبلی اور وزراء تک نہیں مل سکتے۔

حمزہ کی اپنی دنیا ہے۔ وہ خوشامدی اور چاپلوس ٹولے کے نرغے میں ہیں پچیس تیس افراد کا یہ ٹولہ لاہور شہر میں بہت بری شہرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہر میں سائیکل سٹینڈوں، لیٹرینوں اور پارکوں کے ٹھیکیدار ہیں۔ یہ خود تو مالی مفادات اٹھا رہے ہیں اور کارکنوں کو دھوکے دے رہے ہیں ان میں بیشتر شہریوں کے کام کرانے کے لیے رقم بٹورنے کی بھی شہرت رکھتے ہیں۔ اب مسلم لیگی کارکن یہ باتیں برملا کر رہے ہیں کہ حمزہ شہباز پولٹری کے بعد اب ڈیری کا بہت بڑا کاروبار لگا رہے ہیں۔ لیکن کارکنوں کو دینے کے لیے ان کے پاس وعدوں کے سوا کچھ نہیں۔

درخواستیں جمع کرانے والے حمزہ شہباز کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں اور بس ۔۔۔ دوسری جانب وزیر اعظم کی یوتھ بزنس لون سکیم سے کارکنوں کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن یہ منصوبہ کلی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں ہے جن تک عام کارکنوں کی رسائی بھی نہیں ہے۔ وہ نواز شریف کی انتخابی مہم کے بعد سے عوام سے بہت دور ہیں۔ ان سے کسی کارکن کا ملنا تقریبا ناممکن ہے۔ بلکہ ان کے سیکرٹری احسن لطیف کی مصروفیات ان سے بھی زیادہ ہیں۔

اگر کوئی کارکن کسی طور پر ملنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو اسے میرٹ، ضابطے اور اصولوں کا بھاشن سنا دیا جاتا ہے۔ جبکہ عام کارکن یوتھ بزنس لون سکیم کی مرکزی شرائط پوری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں توقع تھی کہ اس سکیم میں ان کا کوئی کوٹہ رکھا جائے گا یا ان کے لیے شرائط میں نرمی کی جائے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔

کارکنوں کی مایوسی کی ایک وجہ ملازمتوں پر پابندی ہے۔ کارکن سمجھتے تھے کہ ان کے بچوں کو مسلم لیگی حکومت چھوٹی موٹی ملازمامتیں دے دے گی۔ مگر پابندی کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا ۔ یہ کارکن کہتے ہیں کہ حکمران جنہیں چاہتے ہیں انہیں بھرتی کر لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ بعض مثالیں بھی دیتے ہیں۔ خاص طور پر زبیر عمر کی مثال جو انتخابی مہم شروع ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں آنا شروع ہوئے۔ تحریک انصاف کے لیڈر اسد عمر کے یہ بھائی بہت جلد سلمان شہباز کے ساتھ تعلقات بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ حکومت بنتے ہی انہیں پہلے ٹریڈنگ کارپوریشن اور اب نجکاری کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ حالانکہ اس میدان میں ان کی کوئی مہارت یا تجربہ نہیں ہے۔

کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات کے التوا پر بھی شکایات ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ شاید بلدیاتی ادارے بننے کے بعد ان کے چھوٹے موٹے مسائل حل ہو جائیں گے اور ان کے بچوں کے لیے روزگار کے کچھ امکانات بھی پیدا ہو جائیں گے۔ مگر اب وہ سر عام کہتے پھرتے ہیں کہ شریف فیملی تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ وہ بلدیاتی ادارے قائم کرنے میں مخلص ہی نہیں ہے۔

کارکن اب یہ باتیں کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ دس سے زائد وزارتیں اپنے پاس رکھنے کے باوجود اس بار شہباز شریف صوبے میں کوئی کام نہیں کر رہے۔ صرف بیانات اور تقریروں سے کام چلا رہے ہیں۔ جبکہ وزراء اور ارکان اسمبلی کو شکایت ہے کہ کوئی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عوام اپنے کاموں کے لیے ان کی جان کھاتے ہیں۔ وہ نہ فیصلوں میں شریک ہیں نہ مشاوت میں۔۔۔۔

اس صورت حال میں مسلم لیگ(ن)، بطور پارٹی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ مسلم لیگ پنجاب کی تو شاید ایگزیکٹو کمیٹی کا مئی کے انتخابات کے بعد کوئی اجلاس بھی نہیں ہؤا۔ عوام اور کارکنوں کو یہ بھی یاد نہیں کہ پنجاب پارٹی کے عہدیدار کون کون ہیں۔ اضلاع اور تحصیلوں میں یہ صورت حال مزید خراب ہے۔ یونین کونسلوں کی سطح پر پارٹی کی کوئی تنظیم نہیں ہے اور کارکنوں کی مایوسی اور بد دلی کی وجہ سے جہاں کہیں کوئی تنظیم ہے بھی تو وہاں بھی کام اور کارکردگی کچھ نہیں ہے۔

یہ تو تھی کارکنوں کی مایوسی ۔۔ عوام کی مایوسی اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے دم توڑ چکے ہیں۔ اب پانی وبجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ تین سال میں مسئلے کے حل کی پیشرفت شروع ہو گی ۔ اے پی سی کے مینڈیٹ کے باوجود حکومت طالبان سے مذاکرات کی بجائے صرف ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور عوام کو دھوکہ دے کر حالات کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ گیس نایاب اور مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہے۔ روزگار کے مواقع ناپید اور امن وامان مخدوش ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات نہیں، دفاتر میں کوئی کام نہیں ہو رہا جو ہو رہا ہے وہ رشوت کے ذریعے۔ سرکاری ادارے ایکسائز، سیلز اور پراپرٹی ٹیکسوں کے علاوہ چالانوں اور سابقہ واجبات کی وصولی کے لیے ظالمانہ انداز اپنا رہے ہیں۔

وزراء کی ناراضگیوں کی خبریں عام ہیں۔ کبھی خواجہ آصف اور کبھی پرویز رشید کی چھٹی کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ کابینہ میں نئے وزراء شامل کیے جا رہے ہیں اور نئے مشیروں اور خصوصی معاونین کی آمد آمد ہے۔ اس سلسلے میں کئی لوگوں کے نام بھی آ رہے ہیں۔ لیکن عوام کو مہنگائی، امن و امان، لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کا کوئی پروگرام نظر نہیں آ رہا۔

دفتری نظام کو آسان اور سہل بنانے کا کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ۔ تعلیم ہر روز مہنگی ہو رہی ہے، اداروں کی نجکاری کر کے عوام کو سروسز اور سہولیات مزید مہنگی کرنے کی تیاریاں جاری ہیں ایسے میں کارکن اور عوام مایوس نہیں ہوں گے تو کیا ہوں گے؟ بہتر ہو گا کہ حکمران عوام کی اس مایوسی پر غور کر لیں اس سے پہلے کہ یہ مایوسی اشتعال اور مزاحمت میں تبدیل ہو جائے۔