انتقام کی آگ
- ہفتہ 25 / جنوری / 2014
- 4589
افغانستان اور اس ملحقہ علاقوں کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے رہنے والوں نے کبھی کسی درانداز اور بیرونی جارحیت کو قبول نہیں کیا۔ موجودہ تاریخ میں سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی اور اسکی تحلیل کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔
امریکہ اور برطانیہ سمیت40سے زیادہ اتحادی ممالک اپنی پوری فوجی طاقت کے باوجود افغانوں کو شکست دینے میں ناکام ہیں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے پر امن انخلا چاہتے ہیں۔ اس خطے میں بدلہ لینے کی روایت اب بھی موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کی حکومت اور دانشور مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال اور آپریشن کو پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں۔
پاکستانی فوج سوات اور فاٹا میں کئی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ آپریشن کر چکی ہے اور اس دوران جیٹ طیاروں سے بمباری بھی کی گئی اور پاکستانی کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت بھی فاٹا سے آپریشن کے نتیجے میں ہی ہوئی جن کو آئی ڈی پیز کا نام دیا گیا۔ ان سب کوششوں کے باوجود افواج پاکستان نہ صرف قیام امن میں ناکام رہیں بلکہ دہشت گردی میں اضافہ ہی ہؤا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ خطے میں موجود انتقام کی روایت ہے۔
راقم الحروف ایسے متعدد افراد سے ذاتی طور پر واقف ہے جن کے خاندان کا کوئی بھی فرد اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں زندہ نہیں بچا۔ جس فرد کا پورا خاندان ایسے حملوں میں مارا گیا ہو ، تو لازمی طور پر ایسے لوگوں میں غصہ ، نفرت اور انتقام کی آگ ہی جنم لے گی ۔ یہ لوگ حکومت اور فوج حتیٰ کہ عوام کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کی نفرت کی وجہ بھی سب کے سامنے عیاں ہے۔
اب کوئی مجھے بتائے کہ لال مسجد، سوات اور فاٹا میں پے درپے کئے جانے والے آپریشنوں کا کیا نتیجہ برآمد ہؤا۔ ان آپریشنز سے خود کش حملوں میں اضافہ ہؤا اور دہشت گردی بڑھی۔ صاف ظاہر ہے جب فوج جیٹ طیاروں سے کارپٹ بمباری کریگی تو عام شہریوں کا بھی نقصان لازمی امر ہے۔ فوج نے کبھی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کے نقصان کی فہرست جاری نہیں کی اور ویسے بھی یہ کون سا طریقہ ہے کسی کو سزا دینے کا۔
وزیر مملکت دفاعی پیداوار رانا تنویر نے ٹی وی پر آکر کہا کہ میر علی میں کارروائی فوج پر حملوں کا ردعمل ہے۔ کوئی بتائے کہ کیا ردعمل جیٹ طیاروں سے بمباری کر کے دیا جاتا ہے۔ اس بمباری کے نتیجے میں کتنے لوگ اپنی جان سے گئے کسی کو معلوم نہیں۔ ان علاقوں کے تمام ذرائع حکومتی کنٹرول میں ہیں اور پاکستانی میڈیا کو وہاں تک رسائی حاصل نہیں ہے جو آزادانہ طور پر عوام کو نقصانات سے آگاہ کر سکے۔
حکومت، فوج اور سیاسی رہنما اس خطے کی روایات کو سمجھے بغیر کوئی بھی فیصلہ کریں گے تو سمجھ لیجئے کہ نقصان پوری قوم اور ملک کا ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت طالبان ترجمان کی جانب سے مذاکرات کیلئے سنجیدگی دکھانے کے مطالبہ کا مثبت جواب دے اور حکومت کے ساتھ طالبان قیادت بھی اس حوالے سے اپنا رویہ میں لچک پیدا کرتے ہوئے مثبت ردعمل دکھائے۔
یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ سیز فائر دونوں متحارب گروہوں کی طرف سے ہونا چاہئے۔ لازمی سی بات ہے کہ طاقت کا محور فوج ہے۔ اسی تناظر میں فوج کو بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کو ایک موقع ضرور دینا چاہئے تا کہ اتمام حجت ہو جائے۔ طالبان اتنی بڑی قوت نہیں ہیں کہ پاکستان کی منظم فوج کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ چھاپہ مار جنگ کے ذریعے فوج اور عوام کو نشانہ بناتے رہیں گے اور ردعمل میں فوج بمباری کرتی رہے گی اور ایسی صورت میں قیام امن خواب ہی رہے گا اور انتقام کی آگ بھڑکتی رہے گی۔