یہ جنگ تو لڑنی ہے

  • منگل 28 / جنوری / 2014
  • 3980

طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا آپریشن، ملک بھر میں آج کل یہی شور و غل بپا ہے۔ میڈیا پر بھی یہی ایشو پوری طرح چھایا ہوا ہے اور اس نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ہر طبقہ اپنی فہم کے مطابق اس حساس معاملے پر رائے زنی کر رہا ہے۔ مذہبی جماعتیں اپنی روایت کے مطابق مذاکرات کا ڈھول پیٹ رہی ہیں اور ایکشن کے حامیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دینے میں مصروف ہیں۔
 

طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حال ہی میں میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ بامقصد ، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار ہیں لیکن بات چیت کے لئے ماحول کو ساز گار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق سمیت جتنے امن کے خواہاں آئے، ان کو مثبت جواب دیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے صرف میڈیا پر بیان بازی ہو رہی ہے۔ ادھر وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ طالبان کو حکومت کے مخلص نہ ہونے کا الزام لگانے سے پہلے حالیہ دنوں کے دہشت گردانہ واقعات کا جواب دینا ہو گا۔

اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو مسخ کیا ہے۔ شہریوں کی اکثریت کی رائے ہے کہ تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات پر قابو پانے کے لئے حکومت طالبان سے مذاکرات سے متعلق کنفیوژن کے حصار سے باہر نکلے اور مذاکرات کے معاملے میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے۔ عام شہری پاکستان میں امن چاہتا ہے۔ وہ مذاکرات یا آپریشن کے دونوں آپشن کو حالات کی نزاکت کے تحت بلا تاخیر نتیجہ خیز دیکھنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت قوم کو واشگاف الفاظ میں بتائے کہ وہ کس آپشن کو قطعی طور پر اپنانا چاہتی ہے۔ دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے عوام کو ذہنی خلفشار میں مبتلا کر رکھا ہے اور پوری قوم کی نگاہیں فیصلہ ساز اداروں پر مرتکز ہیں کہ دیکھئے وہ کون سی بلی تھیلے سے باہر نکالتے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مہذب معاشروں میں سرکش گروہوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اولاً طاقت کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ مروج طریق کار یہی ہے کہ مسلح عناصر کو بیک وقت وارننگ اور مذاکرات کی دعوت دیتے وقت بدامنی اور تحریب کاری کے خاتمے کے لئے واضح جرات مندانہ پالیسی وضع کی جاتی ہے اور انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آئیں اور اپنے تحفظات سے ارباب حکومت کو آگاہ کریں۔ اس کے باوجود اگر دہشت گردی کا سلسلہ بند نہ ہو تو حکومت کو اپنی رٹ رکھنے کے لئے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ پاکستان میں اتنا خون بہہ چکا ہے کہ اب اگر اور مگر کی گنجائش نہیں رہی۔ یہ حقیقت بھی اب واضح ہو چکی ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آنا ہی نہیں چاہتے۔ اگر وہ امن و آشتی سے معاملات کا حل دیکھنے کے خواہشمند ہوتے تو ملک میں دہشتگردی کی نئی بدترین لہر دیکھنے کو نہ ملتی۔

ادھر جمہوری حکومت کا عالم یہ ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چل رہا کہ وہ کر کیا رہی ہے۔ جمہوری ادارے آج تک اس پر سیر حاصل بحث ہی نہیں کر پائے کہ آپریشن کب ، کہاں اور کیسے کرنا ہے۔ جبکہ ادھردہشت گردی کے واقعات میں یک دم انتہائی تیزی آ چکی ہے۔ ڈرون حملے تو بتدریج کم ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن خود کش حملوں کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ تحریک طالبان نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بھی ملک بھر تک پھیلا دیا ہے۔اب وہ کوئی واردات چوری چھپے نہیں کرتے اور نہ ہی قتل و غارت کے بعد معذرت خواہی کا کوئی عذر تراشتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ریاست کے مقابلے میں انہی کی طرح ایک فریق کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان ابھی تک یکسو ہو کر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلو تہی کررہی ہے۔ پاکستان کو عراق بنادینے کے راستے پر عمل پیرا دہشت گرد وں نے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ہے جبکہ حکومت پورے خشوع وخضوع سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی ہونے کو ہے جبکہ ہم یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہمیں کس سمت میں سفر کرنا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جو ماضی سے سبق نہیں سیکھتے وہ ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں مگر کتنے خوش فہم اور کم عقل ہیں ہمارے حکمران جو اتنی بے گناہ جانوں کے ضیاع کے باوجود مذاکرات کی کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہماری مذہبی جماعتیں اور جہادی دانشور افغانستان سے امریکہ کی واپسی کو ان کی شکست سمجھ کر فتح کا جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مگر شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد صرف 2013ء میں آٹھ ہزار عراقی مارے جا چکے ہیں۔ اور آئے روز بم دھماکوں کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ حکومت مصلحت پسندی کی چادر اتار پھینکے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن کا آغاز کرے کیونکہ آج نہیں تو کل یہ جنگ ہمیں لڑنی ہی ہے۔