ڈاکٹر خورشید رضوی کے لیے خصوصی نشست
- جمعرات 30 / جنوری / 2014
- 5821
ڈاکٹر خورشید رضوی ہمارے ان اہل قلم میں شمار کیے جاتے ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتیں انہیں ہم عصر تخلیق کاروں میں نمایاں کرتی ہیں ۔ وہ تنقید نگار ، استاد اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بطور محقق جس سنجیدگی اور متانت سے ادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہیں ۔
ان کی علمی وادبی شخصیت تحقیقی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان (پنجاب) نے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کااہتمام کیا ۔ جس کی صدارت ممتاز افسانہ نگار اور ناول نویس انتظار حسین نے کی ۔ تقریب میں پروفسیر ڈاکٹر خواجہ ذکریا ‘ مسعود اشعر ‘ ڈاکٹر زاہد منیر عامر ‘ ڈاکٹر ضیاء الحسن ‘ پروفیسر حمیدہ شاہین ‘ جمیل یوسف ‘ سعداللہ شاہ ‘ درنجف زیبی ‘ شفیق احمد خان ‘ ساجد عمر گل ‘ ممتاز شفیع ‘ زاہد شمسی‘ ڈاکٹر شائستہ نزہت ‘ ڈاکٹر صدف بخاری ‘ پروفیسرمحمد جواد ‘ پروفیسر ثمن سیف‘ ریحانہ اشرف ‘ عذرا مرزا ‘ اعتبار ساجد ‘ پروفیسر حسن عسکری کاظمی ‘ پنجاب اسمبلی کی رکن کنیز اسحاق ‘ سلمیٰ اعوان ‘ ڈاکٹر رضیہ مجید ‘ کرامت بخاری ‘ سعدیہ قریشی ‘ فرحت زاہد ‘ پروفیسر امجد علی شاکر اور زاہد سمیت متعدد ادیبوں نے شرکت کی ۔
اس خصوصی نشست کا حْسن یہ تھا کہ اس میں شریک ہر فرد ڈاکٹر خورشید رضوی سے محبت کے جذبے سے سرشار یہاں پہنچا تھا۔ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے اظہارخیال کرنے والوں نے بھی انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ انتظار حسین کا کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹر خورشید رضوی کو محض شاعر سمجھتے تھے لیکن جب زمانہ جاہلیت کے ادب کے حوالے سے ان کی تحقیق سامنے آئی تو احساس ہؤا کہ ڈاکٹر رضوی محقق بھی اعلیٰ پائے کے ہیں ۔
ڈاکٹر رضوی نے عرب کی قدیم تہذیب کو نہایت دلکش انداز میں تحریر کیا ہے ۔ اور یہ ڈاکٹر رضوی کا ایک بڑا کارنامہ ہے ۔ بطور شاعر ‘ وہ لمحہ موجود کے بڑے شاعروں کی صف میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی سے ان کا تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے ۔ یونیورسٹی کے زمانے ہی سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ جس کام کا بھی بیڑہ اٹھاتے تھے ‘ اس کو بڑی لگن اور جانفشانی کے ساتھ تکمیل تک پہنچاتے تھے ۔ ڈاکٹر رضوی اپنے زما نہ طالب علمی سے صاحب مطالعہ اور صاحب ذوق رہے ہیں ۔ ان کا حافظہ بہت مضبوط ہے ۔ ڈاکٹر رضوی من موجی شخص ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جسے ان کا دل پسند کرتا ہے ۔
مسعود اشعر نے کہا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا اہم کام ایک عربی مخطوطہ ہے جس کو انہوں نے ایڈٹ کیا ہے ۔ کسی کو کسی لفظ کے بارے میں جاننا ہو تو وہ ڈاکٹر خورشید رضوی سے رابطہ کرتا ہے اور وہ اس لفظ کی مختلف جہتو ں سے آگاہی دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر خورشید رضوی جیسے صاحب علم و ادراک ہمارے سماج میں خال خال ہی ملتے ہیں ۔
جمیل یوسف نے کہا کہ ڈاکٹر خوشید رضوی کے ساتھ ان کا تعلق بہت پرانا ہے اور میرے خیال میں ان کا شمار اردو کے چند ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے کہا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی کے ہاں وقت کا تصور دوسرے شعرأ سے مختلف دکھائی دیتا ہے ۔ ان کے ہاں وقت کی سفّاکی کا تصور ملتا ہے ۔ وہ گزرے ہوئے وقت کو واپس لانا چاہتے ہیں اور گزرتے ہوئے لمحوں کو روکے رکھنے کی خواہش کرتے ہیں ۔ پروفیسر سعداللہ شاہ نے اپنے مضمون میں کہا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی محسوسات کی شاعری کرتے ہیں ۔ ان کے ہاں فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر نظر آتی ہے ۔ ان کے ہاں ایک بانکپن ہے ۔ ان کی کتابوں میں فکری ارتقاء نظر آتا ہے ۔ وہ زمین سے جڑے ہوئے شاعر ہیں ۔
ڈاکٹر ضیاء الحسن نے اپنے مضمون میں کہا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی تخلیقی تجربات کے شاعر ہیں ۔ ان کی شاعری میں کسی کھوئی ہوئی شے کی آرزو ملتی ہے جو خدا کی تلاش بھی ہوسکتی ہے ۔ ان کے ہاں شعر کی تفہیم کی مختلف سطحیں ہیں جو ہماری اردو شاعری کے دامن کو وسعت دیتی ہیں ۔ شفیق احمد خاں نے کہا کہ ڈاکٹر رضوی اپنی شاعری میں بار بار موت وحیات کے فلسفے پر بات کرتے ہیں ۔ موت کی شکل میں جو غم ہیں، وہ ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں طے شدہ نظریات ٹھونسنے کی کوشش نہیں کی ۔ کلاسیکیت ان کی شاعری پر حاوی ہے لیکن معانی کے اعتبار سے وہ موضوعات کونئی تصویروں میں ڈھالتے ہیں۔
صحافی اور ناول نویس ساجد عمر گل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر خورشید رضوی کے شاگرد رہے ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے ان کی نسل اور آج کی نسل کو بہت کچھ سکھایا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی ہماری تہذیب کے نمائندہ شاعر اور استاد ہیں جنہیں ہماری ادبی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی ۔ اکادمی کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر الطاف احمد قریشی نے کہا کہ ادبی ادارے کتابوں پر تو بڑی بڑی تقریبات کرواتے ہیں لیکن موجود بڑی شخصیات کے ادب و فن پر کم کم ہی نشستیں ہوتی ہیں ۔ اکادمی کی خواہش ہے کہ زمانۂ موجود کی ادبی رجحان سازشخصیات پر بھی بات ہو تاکہ نئی نسل ان سے سیکھ سکے۔
ڈاکٹر رضوی خوبصورت شاعرہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز سفر نامہ نگار بھی ہیں ۔ ان کی تحقیقی اور تنقیدی تخلیقات میں بھی وہی خوشگوار احساس پایا جاتا ہے جو ان کی شاعری کا خاصا ہے۔ وہ ایک عالم کے ساتھ ساتھ بہترین استاد بھی ہیں جن پر ہماری نسل کو فخر ہونا چاہیئے۔ ایم اے میں ڈاکٹر خورشید رضوی پر تھیسس تحریر کرنے والی طالبہ ماہ نیم منیر نے اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹر خورشید رضوی کو پیش کیا ۔
ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری زبان دانی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ‘ میری اتنی بساط نہیں ۔ ایک بات ہے کہ مجھ پر کوئی دھن سوار ہوجاتی ہے تو میں اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں اور اس کے بعد کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ میرے اندر گردش جاری رہتی ہے جو مجھے خوشی بھی دیتی ہے اور مجھے ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے کہ میں اس سے بہتر کام کیوں نہ کرسکا ۔
تقریب کی نظامت پروفیسر حمیدہ شاہین نے کی ۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب کو متعدد دوستوں نے اپنی چاہتوں میں لپٹے ہوئے پھول پیش کئے۔