حکومت کی رِٹ اور لاقانونیت کے سفیر
- بدھ 05 / فروری / 2014
- 4753
میری صوابدید اور مطالعے کے مطابق انسان کو ایک قانونی جانور یا لیگل اینیمل بنا کر بھیجا گیا ہے تاکہ وہ فطرت کے قوانین کی پابندی کرے ۔ فطرت کے اصولوں کے مطابق اپنے معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی قوانین بنائے ، اُنہیں نافذ کرے اور اُن کی پابندی کرے ۔
فطرت کے سارے مظاہر سورج ، چاند ، ستارے اور سیارے فطرت کے قوانین کے پابند ہیں، اور ان قوانین کا سر چشمہ خالقِ کائنات ہے جو سب سے بڑا قانون ساز ہے اور کائنات کی ہر شے کو ایک نظام کا پابند رکھتا ہے۔ چنانچہ خلیفۃ الارض کا منصب یہ ہے کہ وہ قانون کے راستے پر چلے اور نظام کا پابند رہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو انسان کا منصب اُس سے واپس لے لیا جاتا ہے ۔
وہ کیسے ؟ اِس سلسلے میں میں ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا اور آسمانی صحیفے سے بعض اقتباسات کا حوالہ دونگا ۔ اس مضمون کو سورہ بقر ، نساء ، اعراف اور النحل میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس مضمون کا تعلق ایک معاشی قانون سے ہے ۔ یہ قانون یہودیوں کے لیے یہ بنایا گیا تھا کہ ہفتے کے روز مچھلیاں پکڑنے پر پابندی ہے مگر انہوں نے اس قانون کی خلاف ورزی کی جس کی سزا کے طور پر اُنہیں بندر بنا دیا گیا ۔ سورہ ء بقر کی آیت نمبر ۶۵ میں کہا گیا ہے :
" جن لوگوں نے ہفتے کے دن قانون کی خلاف ورزی کی تھی ، تو ہم نے اُن سے کہا کہ ذلیل بندر ہو جاؤ " ۔ سورہ ء بقر
بندر کا استعارہ انسانی سطح سے گر جانے کا مفہوم بیان کرتا ہے اور اس سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ جو لوگ قانون کی پابندی نہیں کرتے وہ انسانی سطح سے گر جاتے ہیں۔ خواہ وہ زبانی اقرار کے مطابق خود کو انسان ہی قرار دے رہے ہوں ، مگر وہ انسان نہیں رہ جاتے۔
ہم جس چیز کو حرام کہتے ہیں وہ چیز خُدا کے قانون کے مطابق ممنوع ہوتی ہے ۔ لیکن ہم اُسے خُدا سے منسوب کر کے اپنی زندگی سے بالاتر قرار دے کر خود کو اُس سے بری الذمہ قرار دے لیتے ہیں۔ حالانکہ قانون خُدا کا ہو ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو یا حاکمِ وقت کا ، قانون ہے اور قابلِ احترام ہے ۔
ہمارے ملک میں قانون اور آئین کا تذکرہ بہت ہے لیکن عام آدمی کی زندگی قانون سے بالاتر ہے ۔ ہر شخص کا اپنا قانون ہے ۔ جسے وہ توڑتا ہے اور خود ہی اپنی پسند کےنئے قوانین بنا لیتا ہے ۔ ہمارے یہاں چار بار ملکی آئین توڑا گیا اور ایک آئین شکن نے آئین کو کاغذ کا پلندہ کہتے ہوئے اس کی توہین یہ کہہ کر کی کہ " یہ کاغذوں کا پلندہ ؟ اسے میں جب چاہوں پھاڑ دوں اور اس کی جگہ نئے کاغذ لکھ لوں "۔ یہ بیان کسی عام آدمی کا نہیں بلکہ حاکمِ وقت کا ہے جو مذہب کی زبان میں اولی الامر ہوتا ہے ۔ اور لوگ اپنے حاکم کے دین پر ہوتے ہیں۔
سعدی کا قول ہے:
"الناس علیٰ دینِ ملوکھم"۔
لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں ۔اور جب حاکمِ وقت آئین کو کاغذوں کا بے قیمت پلندہ سمجھتا ہو تو لوگ بھی یقیناً ایسا ہی سمجھیں گے ۔ اس قسم کے طرزِ فکر نے ملک میں لاقانونیت اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی بنیاد رکھی اور اب یہ عمومی رویّہ بن گیا ہے جو حکومت کی رِٹ کے لیے نہ صرف چیلنج ہے بلکہ اس نے حکومت کی رِٹ کا تصور ہی غارت اور نابود کر دیا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قانون کی جگہ روپیہ ، ڈالر اور دوسری اشیائے رشوت نے لے لی ہے ۔ پولیس ہو یا دفاعی ادارے، افسر شاہی ہو یا علماء ، دانشور ہوں یا میڈیا کے مداری ، سب کے سب قانون کے بجائے لفافوں سے چلتے ہیں ۔ قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے ۔ معاشرہ طرح طرح کے گھناؤنے جرائم کا راشن ڈپو بن گیا ہے ۔ ایسے میں حکومت کی رِٹ کہاں ؟
حکومت سے زیادہ عدالت کی رِٹ خطرے میں ہے ۔ عدالتیں اپنے فیصلوں پر عملدرامد نہیں کرا سکتیں ۔ چونکہ قانون ایک بکاؤ جنس بنا دیا گیا ہے ، اس لیے انصاف کا تصور ہی ناپید ہو گیا ہے ۔ انصاف اُس کا جو اُسے خرید سکے ۔ دوسری طرف ہر قل اعوذیے کو فتوے کا اختیار عدالت اور نظامِ عدل کو بیچ کی انگلی دکھانے کے مترادف ہے ۔
شرعی عدالت اب ایک نمائشی ادارہ ہے جسے اس بات کی فکر نہیں کہ اسلامی نظامِ عدل کا نفاذ ہو رہا ہے یا نہیں ۔ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے ضمن میں ظلم کی حد تک لا تعلق ہیں ۔ فتوا انسانی جانوں سے کھیلنے کا ہتھیار بن چکا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر کسی عالم یا مولوی کو مذہب یا مذہبی اکابرین کی توہین کا معاملہ نظر آئے تو وہ اس کی رپورٹ تمام تر شواہدات کے ساتھ شرعی عدالت کو بھجوائے اور شرعی عدالت پوری تحقیق کے بعد قتل کا فتوا جاری کرے۔ مگر کیسی نا دانشمندانہ بات ہے کہ محض تقاریر میں جارے فتاویٰ سن کر لوگ اتنے مشتعل ہو جاتے ہیں کہ وہ جلاد بن کر گردنیں اُتارنے کے لیے چل کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ صورتِ حال عدالتی رِٹ کے لیے چیلنج ہے مگر کسی جج یا ماہرِ قانون کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
دوسری طرف فرقوں کی سیاست نے ملکی وحدت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے اور ہر فرقے کے مجہولوں کے پاس دوسرے فرقے کے ماننے والوں کو قتل کرنے کا لائسنس ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ملک میں ایک ایسا قانون بنایا جاتا جس کے تحت کسی فرقے کو کسی دوسرے فرقے کے خلاف نفرت اگلنے کی اجازت نہ ہوتی مگر ہر منصب پر ایسے نا اہل نظر آتے ہیں جو اس نفرت کا تدارک نہیں کرسکتے جبکہ آسمان سے خُدا کی آواز مسلسل آ رہی ہے کہ :
" اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مذاق نہ اُڑاؤ ممکن ہے کہ دوسرے لوگ بہتر ہوں ، نہ ہی عورتیں ایسا کریں شاید دوسری عورتیں بہتر ہوں ۔ ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ اور ایک دوسرے کو برے نام سے یاد نہ کرو " ۔ سورہ الحجرات
مگر کسے اس بات کی فکر ہے کہ قرآن کا حکم کیا ہے ۔ ہم تو ناظرہ پڑھنے والے ہیں ۔ ناظرہ تلاوت سے ثواب یقیناً ملتا ہے لیکن علم حاصل نہیں ہوتا اور ہم اس بے علمی میں ہلاک ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ سو کہاں کی رِٹ اور کہاں کا انصاف ۔
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
---- اقبال ----